Ay Sharaf Khuahi Agar Wasl e Habib

Ay Sharaf Khuahi Agar Wasl e Habib
Nala Mai Zan Roz o Shab Choon Andaleeb

اے شرف خواہی اگر وصل حبیب
نالہ مے زن روز و شب حون عندلیب

اے شرف اگر تو محبو ب کا وصل چاہتا ہے
صبح و شام بلبل کی طرح نالے بلند کرتا رہ

من مریض عشقم و  از جان نفور
دست بر بنض من آرد چون طبیب

میں عشق کا مریض ہوں اور زندگی سے بیزار ہوں
میری نبض پر طبیب کیوں ہاتھ رکھے

رسم و راہ ما نداند ہر کہ او
در دیار عاشقی ماند غریب

وہ ہمارے رسم و راہ کو نہیں جان سکتا
جو کوئی بھی عشق کے کوچے میں اجنبی ہے

شربت دیدار دلداران خوش است
گر نصیب ما نباشد یا نصیب

دیدار کا شربت تو بہت لذیذ ہوتا ہے
مگر ہمارے نصیب میں شاید ہے شاید نہیں ہے

ما ازو دوریم دور اے وائے ما
از رگ جان است او ما را قریب

میں اُس سے دور بہت دور ہوں ہائے افسوس
وہ تو میری رگ جان سے بھی قریب ہے

بر سرم جنبیدہ تیغ محتسب
در دلم پوشیدہ اسرار عجیب

میرے سر پر محتسب کی تلوار چل گئی ہے
میرے دل میں عجیب اسرار پنہاں ہیں

بو علی شاعر شدی ساحر شدی
این چہ انگیزی خیالات غریب

بو علی شاعر ہو گیا ، بلکہ ساحر ہو گیا
یہ کس طرح کی عجیب و غریب خیال انگیزیاں کرتا پھر رہا ہے

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Lutf Un Ka Aam Ho Hi Jaye Ga

Lutf Un Ka Aam Ho Hi Jaye Ga
Shaad Har Nakaam Ho Hi Jaye Ga

لطف اُن کا عام ہو ہی جائے گا
شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا

جان دیدو  وعدۂ دیدار پر
نقد اپنا دام ہو ہی جائے گا

شاد ہے فردوس یعنی ایک دن
قسمت خدام ہو ہی جائے گا

یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاں
نفس تو تو رام ہو ہی جائے گا

بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا

یاد گیسو ذکر حق ہے آہ کر
دل میں پیدا لام ہو ہی جائے گا

ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز
چہچہا کہرام ہو ہی جائے گا

سائلو! دامن سخی کا تھا م لو
کچھ نہ کچھ انعام ہو ہی جائے گا

یاد ابرو کر کے تڑپو بلبلو
ٹکڑے ٹکڑے دام ہو ہی جائے گا

مفلسو ان کی گلی میں جا پڑو
باغ خلد اکرام ہو ہی جائے گا

گر یونہی رحمت کی تاویلیں رہیں
مدح ہر الزام ہو ہی جائے گا

بادہ خواری کا سماں بندھنے تو دو
شیخ درد آشام ہو ہی جائے گا

غم تو ان کو بھول کر لپٹا ہے یوں
جیسے اپنا کام ہو ہی جائے گا

مٹ کہ گر  یوں ہی رہا قرض حیات
جان کا نیلام ہو ہی جائے گا

عاقلو ان کی نظر سیدھی رہے
بوروں کا بھی کام ہو ہی جائے گا

اب تو لائی ہے شفاعت عفو پر
بڑھتے بڑھتے عام ہو ہی جائے گا

اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Man Banda e Azadam Ishq Ast Imam Man

Man Banda e Azadam Ishq Ast Imam Man
Ishq Ast Imam Man Aqal Ast Ghulam Man

من بندہ آزادم عشق است امام من
عشق است امام من عقل است غلام من

میں آزاد بندہ ہوں،عشق میرا امام ہے
عشق  میرا امام ہے اور عقل میری غلام ہے

ہنگامۂ ایں محفل از گردش جام من
ایں کوکب شام من ایں ماہ تما م من

اس محفل کا شور اصل میں میرے جام کی گردش کے باعث ہے
یہ چاند اور ستارہ میری شام کے لئے ہیں

جاں در عدم آسودہ بے ذوق تمنا بود
مستانہ نواہازد در حلقہ دام من

روح عدم میں آرزو و تمنا کے ذوق سے خالی تھی
جب وہ میرے قالب میں آئی تو مستانے ساز و نغمے چھڑے

اے عالم رنگ و بو ایں صحبت ما تا چند
مرگ است دوام تو عشق است دوام من

اے جہان یہ تیر ی میری صحبت کب تک باقی ہے
تجھے تو  موت آجانی ہے اور مجھے عشق کی بدولت بقاو دوام حاصل ہے

پیدا بضمیرم او پنہاں بضمیرم او
ایں است مقام او دریاب مقام من

وہ میرے باطن میں پوشیدہ بھی ہے ظاہر بھی ہے
یہ تو اُس کا مقام ہے ، اب میرا مقام دریافت کر

Allama Iqbal
علامہ ا قبال

Naimatain Bantata Jis Simt Wo Zeeshan Gaya

Naimatain Bantata Jis Simt Wo Zeeshan Gaya
Saath He Munshi e Rahmat Ka Qalmdan Gaya

نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ زیشان گیا
ساتھ ہی منشیِ رحمت کا قلمندان گیا

لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دھیان گیا
میرے مولیٰ میرے آقا تیرے قربان گیا

آہ وہ آنکھ کہ ناکام تمنّا ہی رہی
ہائے وہ دل جو ترے در سے پر ارمان گیا

دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا

انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

اور تم پرمرے آقا کی عنایت نہ سہی
نجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی احسان گیا

آج لے ان کی پناہ آج مدد مانگ ان سے
پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا

اُف رے منکر یہ بڑھا جوشِ تعصّب آخر
بھیڑ میں ہاتھ سے کم بخت کے ایمان گیا

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Agar Ba Chashm e Haqiqat Wajood e Khud Beeni

Agar Ba Chashm e Haqiqat Wajood e Khud Beeni
Qayam Jumla Ashya Bahbood e Khud Beeni

اگر بچشم حقیقت وجود خود بینی
قیام جملہ اشیاء بہبود خود بینی

اگر حقیقت کی آنکھ سے  خود اپنے وجود کو دیکھو گے
تو جملہ تمام اشیا کو تم اپنے وجود میں دیکھو گے

دجود ہیزمیت نار موسوی گردد
اگر بروں کنی از سر تو دود خود بینی

تیرا وجود خشک ایندھن کی طرح نار موسوی بن جائے گا
اگر تو اپنے سر سے خود بینی کے دھوئیں کو نکال باہر کرے

ز قعر لجہ توحید در عشق برار
کہ گنج مخفی حق را نفود خود بینی

دریائے توحید کی گہرائی سے عشق کے موتی نکال کر لا
تا کہ تو اپنے اندر حق تعالیٰ کا مخفی خزانہ محسوس کرے

بہ قصر عشق تراپایہ از سر جہدست
کہ تخت ہر دو جہاں را فرود خود بینی

ایوان عشق میں تیرا درجہ بلند ہو گا جدوجہد سے
تو ہر دو جہان میں اپنا مقام اپنے مرضی کے مطابق دیکھے گا

تو چوں فرشتہ نظر بر جمال دوست گمار
نہ چوں لعیں کہ ہمیں در سجود خود بینی

تو فرشتوں کی مانند اپنی نظریں یار کے حسن و جمال پر لگا دے
شیطان کی طرح سجدوں کے باوجود انا پرست نہ بن

ازیں حضیض و دنایت چو بگذری شاید
کہ تا  دنا فتدلیٰ صعود خود بینی

اپنے تنگ و تاریک پنجرے سے باہر نکل کہ شاید
تا کہ تو دنا و فتدلیٰ کی بلندیوں اور قربتوں کو دیکھے

بباز خانہ بروں آ ونور دوست نگر
تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی

اپنے گھر سے باہر نکل اوریار کے نور کو دیکھ
تو آخر کب تک دنیا وی شیشوں کی رنگ برنگی روشنیوں میں کھویا رہے گا

اگر ز آئینہ زنگ حدوث بزوائی
جمال شائد حق در شہود خود بینی

اگر تو اپنے دل کا زنگ اتار دے
پھر شائد توجمال حق کا جلوہ اپنے دجود میں دیکھ سکے

بہ بند دیدہ ز اعیاں کہ تا ز عین عیاں
وجود دوست چو جان وجود خود بینی

آنکھیں بند کر لے اور اعیان کی جگہ عین عیاں دیکھ
تا کہ دوست کے وجود کو اپنے وجود کے طرح دیکھ سکے

بیا بزم گدایاں شہ نشاں خودی ست
کہ تا نتیجہ  احساں وجود خود بینی

خودی کے شہ نشیں گداؤں کی محفل میں آجا
تا کہ تو اپنے وجود حقیقی کو پا کراحسان مند ہو جائے

در آ بہ مجلس مسکیں معین شوریدہ
کہ نقل و بادہ ز گفت و شنود  خود بینی

آ جا اور مجھ عاشق دیوانہ مسکیں معین کی مجلس میں بیٹھ
تا کہ تجھے گفت و شنود کی شرینی و حلاوت  اور زندگی کا شعور ملے

خواجہ معین الدین چشتی
Khwaja Moinuddin Chishti

Hum Sharah Kamal e Tu Naganjad Ba GumaneHa

Hum Sharah Kamal e Tu Naganjad Ba GumaneHa
Hum Wasf Jamal e Tu Nayayd Ba BayaneHa

ہم شرح کمال تو نگنجد بہ گمانہا
ہم وصف جمال تو نیاید بہ بیانہا

تیرے کمال کی تشریح گمانوں میں نہیں آتی
تیرے جمال کےوصف بیانوں میں نہیں سماتے

یک واقف اسرار تو نبود کہ بگوید
از ہیبت راز تو فرد بستہ زبانہا

تیرے رازوں سے واقف ایک بھی ایسا نہیں جوراز کہہ دے
تیرے راز کی  ہیبت و جلال سے تو زبانیں بند ہو گئیں ہیں

ما مرحلہ در مرحلہ رفتن نتوانیم
در وادئے توصیف تو بگستہ عنانہا

ہم تیری وادی میں منزل بہ منزل نہیں چل سکتے
تیر ی تعریف کرتے کرے تو ہماری باگیں ٹوٹ گئیں ہیں

حسن تو عجیب است جمال تو غریب است
حیران تو دلہا و پریشان تو جانہا

تیرا حسن عجیب ہے تیرا جمال انوکھا ہے
دل حیران ہے اور جان پریشان ہے

چیزے نبود جز تو کہ یک جلوہ نماید
گم د ر نظر ماست مکینہا و مکانہا

اب کوئی شے نہیں جو جلوہ دکھا سکے سوائے تیرے
میری نظر میں تو  مکان و مکین گم ہو گئے ہیں

یک ذرہ ندیدیم  کہ نبود ز تو روشن
جستیم ز اسرار تو در دہر نشانہا

کوئی ذرہ ایسا نہ دیکھا جس میں تیرا نور نہ ہو
ہم نے دنیا میں تیرے رازوں کی نشانیاں ڈھونڈنے میں کو ئی کسر اُٹھا نہ رکھی

یک تیر نگاہت را ہمسر نتوان شد
صد تیر کہ بر جستہ ز آغوش کمانہا

تیری نگا ہ کے ایک تیر کا سامنامشکل ہے
ادھر تو سینکڑوں تیر تیری آغوش سے نکلے ہیں

دارد شرف از عشق اے فتنہ دوران
در سینہ نہان آتش و   در حلق فغانہا

اے فتنہ دوراں شرف عشق کے باعث
اپنے سینے میں عشق کی آگ اور حلق میں آہ و زاری رکھتا ہے

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Sar Ta Ba Qadam Hai Tan e Sultan e Zaman Phool

Sar Ta Ba Qadam Hai Tan e Sultan e Zaman Phool
Lab Phool Dahan Phool Zaqan Phool Badan Phool

سر تا بقدم ہے تنِ سلطان زمن پھول
لب پھول دہن پھول زقن پھول بدن پھول

صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول
اِس غنچہ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول

تنکا بھی تو ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا
تم جو چاہو تو ہو جائے ابھی کوہ محن پھول

واللہ جو مل جائے مرے گل کا پسینہ
مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

دلِ بستہ وخوں گشتہ، نہ خوشبو  نہ لطافت
کیوں غنچہ کہوں ہے مِرے آقا کا دہن پھول

شب یاد تھی کن دانوں کی شبنم کہ دَم صبح
شو خان بہاری کے جڑاؤ ہیں کرن پھول

دندان و لب و زلف و رُخ شاہ کے فدائی
ہیں در عدن لعلِ یمن مشک ختن پھول

بو ہو کے نہاں سو گئے تابِ رُخ شہ میں
لو بن گئے ہیں اب تو حسینوں کا دہن پھول

ہوں بار گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں
للہ مری نعش کر اے جان چمن پھول

دل اپنا بھی شیدائی ہے اُس ناخنِ پا کا
اتنا بھی مہ نو پہ نہ اے چرخ کہن پھول

دل کھول کے خوں رو لے غم عارض شہ میں
نکلے تو کہیں حسرت خوں نا بہ شدن پھول

کیا غازہ مل گرد مدینہ کا جو ہے آج
نکھرے ہوئے جوبن میں  قیامت کی پھبن پھول

گرمی یہ قیامت ہے کہ کانٹے ہیں زباں پر
بلبل کو بھی اے ساقی صہبا و لبن پھول

ہے کون کہ گریہ کرے یا فاتحہ کو آئے
بیکس کے اٹھائے تِری رحمت کے بھرن پھول

دل غم تجھے گھیرے ہیں خدا تجھ کو وہ چمکائے
سورج ترے خرمن کو بنے تیری کرن پھول

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Na Mehrab e Haram Samjhe Na Jane Taaq e ButKhana

Na Mehrab e Haram Samjhe Na Jane Taaq e ButKhana
Jehan Daikhi Tajale Ho Gaya Qurban Parwana

نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاقِ بتخانہ
جہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہ

دلِ آزاد کو وحشت نے بخشا ہے وہ کاشانہ
کہ اک درجانبِ کعبہ ہے اک در سوئے بتخانہ

بنائے میکدہ ڈالی جو تو نے پیر میخانہ
تو کعبہ ہی رہا کعبہ نہ  پھر بتخانہ بتخانہ

کہاں کا طور مشتاق لقا وہ آنکھ پیدا کر
کہ ذرّہ ذرّہ ہو نظّارہ گاہِ حسن جانانہ

خدا پوری کرے یہ حسرت دیدار حسرت کی
کہ دیکھوں اور تیرے جلووں کو دیکھوں بے حجابانہ

شکست توبہ کی تقریب میں جھک جھک کے ملتے ہیں
کبھی پیمانہ شیشہ سے کبھی شیشہ سے پیمانہ

سجا کر لخت دل سے کشتیٔ چشم تمنّا کو
چلا ہوں بارگاہِ عشق میں لے کر یہ نذرانہ

کبھی جو پردۂ بے صورتی میں جلوہ فرما تھے
انہیں کو عالم صورت میں دیکھا بے حجابانہ

مری دنیا بدل دی جنبش ابروئے جاناں نے
کہ اپنا ہی رہا اپنا نہ بیگا نہ بیگانہ

جلا کر شمع پروانے کو ساری عمر جلتی ہے
اور اپنی جان دے کر چین سے سوتا ہے پروانہ

کسی کی محفل عشرت میں پیہم دور چلتے ہیں
کسی کی عمر کا لبریز ہونے کو ہے پیمانہ

ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی
بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ

یہ لفظ سالک ومجذوب کی ہے شرح اے بیدم
کہ اک ہشیار ختم المرسلیں اور ایک دیوانہ

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Beeni Jahan Ra Khud Ra Na Beeni

Beeni Jahan Ra Khud Ra Na Beeni
Ta Chand Nadaan Ghafil Nasheeni

بینی جہاں را خود را نہ بینی
تا چند ناداں غافل نشینی

تو جہان کو دیکھتا ہے ، اپنے آپ کو نہیں دیکھتا
اے نا سمجھ تو کب تک غفلت میں بیٹھا رہے گا

نور قدیمی شب را بر افروز
دست کلیمی در آستینی

تو ایک قدیم نور ہے، رات کو روشن کر
تیری آستین میں تو کلیم کا ہاتھ ہے

بیروں قدم نہ از دورِ آفاق
تو پیش آزینی تو بیش ازینی

تو اس کائنات سے باہر قدم رکھ
تو اس سے آگے کی چیز ہے تری قدروقیمت بھی اس سے زیادہ ہے

از مرگ ترسی اے زندہ جاوید؟
مرگ است صیدے تو در کمینی

کیا تو موت سے ڈرتا ہےاے ہمیشہ رہنے والے
موت تو خود تیری کمین گاہ کا شکار ہے

جانے کہ بخشند دیگر نگیرند
آدم بمیرد از بے یقینی

زندگی (جان)تو خدا کا عطیہ ہے جو واپس نہیں لیا جاتا
آدمی تو اپنی بے یقینی کی وجہ سے مر جاتا ہے

صورت گری را از من بیا موز
شاید کہ خود را باز آفرینی

مجھ سے مصوری کا فن سیکھ
عجب نہیں کہ تو اپنے آپ کو تعمیر کر لے

Allama Iqbal
علامہ ا قبال

Hast Dar Seena e Ma Jalwa Janana e Ma

Hast Dar Seena e Ma Jalwa Janana e Ma
Butt Parstaim Dil e Mast Sanam Khana e Ma

ہست در سینہ ما جلوہ جانانہ ما
بت پرستیم دل ماست صنم خانہ ما

ہمارے سینہ میں ہمارے محبوب کا جلوہ موجود ہے
ہم بت پرست ہیں ہمارا دل ہمارا بت خانہ  ہے

اے حضر چشمہ حیوان کہ بران می نازی
بود یک قطرہ ز درتہِ پیمانہ ما

اے خضر تو جس آب حیات کے چشمہ پر نازاں ہے
وہ تو ہمارے جام کی تہہ کا ایک قطرہ ہے

جنت و نار پس ماست بصد مرحلہ دور
می شتابد بہ کجا ہمت مردانہ ما

جنت و دوزخ تو ہم سے سینکڑوں مسافتیں دور رہ گئی ہے
ہماری ہمت مردانہ اس شتابی سے کہاں جارہی ہے

جنبد از جائے فتد بر سر افلاک برین
بشنود عرش اگر نعرہ مستانہ ما

اپنی جگہ سے ہل جائے اور آسمانوں پر گر جائے
عرش اگر ہمارے نعرہ مستانہ کو سن لے

ہمچو پروانہ بسوزیم و بسازیم بعشق
اگر آں شمع کند جلوہ بکاشانہ ما

پروانہ کی طرح جل جاؤں اور عشق کو نبھا دوں
اگر وہ شمع ہمارے گھر میں جلوہ افروز ہو

ما بنازیم بتو خانہ ترا بسپاریم
گر بیائی شب وصل تو درخانہ ما

تجھ پر ناز کریں اور گھر تیرے حوالے کر دیں
اگر شب وصل تو ہمارے گھر قدم رنجہ فرمائے

گفت اوخندہ زنان گریہ چو کردم بدرش
بو علی ہست مگر عاشق دیوانہ ما

جب ہم نے اس کی چوکھٹ پر آہ و زاردی کی
کہا کہ بو علی کچھ نہیں مگر ہمارا عاشق و دیوانہ ہے

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar