Man Nami Goym Anal Haq Yaar Me Goid Bago

Man Nami Goym Anal Haq Yaar Me Goid Bago
Choon Nagoym Choon Mera Dildar Me Goid Bago

من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو
چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو

میں انا الحق نہیں کہتا،میرا یار کہتا ہے کہ میں کہوں
پھر کس طرح نہ کہوں جب میرامحبوب مجھے کہتا ہے کہ میں کہوں

ہر چہ می گفتنی بمن بار می گفتی مگو
من نمی دانم چرا ایں بار می گوید بگو

جو کچھ بھی وہ مجھے فرماتا ہے ،مجھے بیان کرنے سے منع کرتا ہے
میں نہیں جانتا کہ اس بار کیوں کہہ رہا ہے کہ میں کہہ دوں

آں چہ نتواں گفتن اندر صومعہ با زاہداں
بے تحاشا بر سر بازار می گوید بگو

وہ بات جو گرجے میں عابدوں سے بھی کہنے کی نہیں
اس پر بار بار اصرار ہے کہ میں کھل کے سر بازار کہہ دوں

گفتمش رازے کہ دارم با کہ گویم در جہاں
نیست محرم با در و دیوار می گوید بگو

اس راز کو جو مجھے معلوم ہے جہاں میں کس سے کہوں
میرا رازداں کوئی نہیں ،فرمایا درودیوار سے کہوں

سر منصوری نہاں کردن حد چوں منست
چوں کنم ہم ریسماں ہم دار می گوید بگو

منصور کا راز چھپانے کی ہمت نہیں
کیوں نہ کہوں کہ دار کی رسی خود کہہ رہی ہے کہ میں کہوں

آتش عشق از درخت جان من بر زد علم
ہر چہ با موسی بگفت آں یار می گوید بگو

عشق کی آگ کا اظہار جب میری جان کے درخت سے ہو گیا
جو کچھ کہ موسیؑ نے کہا تھا ، محبوب کہتا ہے میں کہوں

گفتمش من چوں نیم در من مدام می دمے
من نخواہم گفتن اسرار می گوید بگو

میں بانسری کی طرح ہوں اور مدام پھونک مارتا ہے
میں یہ اسرارنہیں کہنا چاہتا لیکن وہی مجھے کہتا ہے کہ میں کہوں

اے صبا کہ پرسدت کز ما چہ می گوید معیں
ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو

اے صبا محبوب پوچھے کہ معین ہمارے بارے میں کیا کہتا ہے
کہنا کہ اس دوئی کہ پردے کودرمیان سے  ہٹا کر خودہرراز کہ دے

اسکا منظوم اردو ترجمہ جناب عبد القادر فدائ صاحب مرحوم نے اس طرح کیا:

میں نہیں کہتا انا الحق یار کہتا ہیکہ کہہ
جب نہیں کہتا ہوں میں دلدار کہتا ہیکہ کہہ

پہلے جو کہتا تھا وہ، تاکید کرتا تھا نہ کہہ
پھر نہ جانے کس لئے اس بار کہتا ہیکہ کہہ

جو نہ کہنا چاہئے تھا زاہدون کے سامنے
بہ تحاشا برسرِ بازار کہتا ہیکہ کہہ

رازِ منصوری چھپانے کی نہیں ہے مجھ پہ حد
کیا کروں پھانسی کا پھندا دار کہتا ہیکہ کہہ

میں نے پوچھا اس جہاں میں رازِ دل کس سے کہوں
محرمِ دل جب تمیں دیوار کہتا ہیکہ کہہ

عشق کی آتش نے جھنڈا کردیا دل پہ نصب
جو کہ موسیٰ نے کہا تھا یار کہتا ہیکہ کہہ

میں نہیں ویسا تو میری خاک میں ہے کیوں چمک
چاہتا ہوں نہ کہوں اسرار کہتا ہیکہ کہہ

اے صبا تجھ سے وہ پوچھیں کچھ معیں کہتا بھی تھا
دور کرنے کو دوئ غم خوار کہتا ہیکہ کہہ

خواجہ معین الدین چشتی
Khwaja Moinuddin Chishti

Thanks to Badshah Mohiuddin for contribution.

Kafir Ishqm Musalmani Mera Darkar Naist

Kafir Ishqm Musalmani Mera Darkar Naist
Har Rag e Man Taar Gashta Hajat e Zanaar Naist

کافر عشقم مسلمانی مرا درکار نیست
ہر رگ من تار گشتہ حاجت زنار نیست

میں عشق میں کافر ہوں ،مجھے مسلمانی کی ضرورت نہیں
میری ہر رگ تار تار ہو گئی ہے مجھے زنار کی بھی ضرورت نہیں

از سر بالیں من بر خیز اے نادان طبیب
درد مند عشق را  دارو بجز دیدار نیست

اے نادان معالج میرے سر ہانے سے اُٹھ جا
عشق کے بیمار کا علاج سوائے دیدار کے ممکن نہیں

ابر را با دیدۂ گریان من نسبت مکن
نسبتت با رود کے باران خونبار نیست

بادل کو میری آنکھوں سے نسبت نہ دو
بارش کو خون کے آنسوؤں سے کوئی نسبت نہیں

شاد اے دل کہ فردا برسر بازار عشق
مژدۂ قتل ست گرچہ وعدئے دیدار نیست

اے دل خوش ہو جاکہ آنے والے کل کو بازار عشق میں
تیرے لئے قتل کی خوشخبری ہے مگر دیدار کا دعدہ نہیں

خلق می گوید کہ خسرو بت پرستی میکند
آرے آرے میکنم با خلق عالم کار نیست

لوگ مجھے کہتے ہیں کہ خسرو بتوں کو پوجتا ہے
ہاں ہاں میں ایسے کرتا ہوں دنیا والوں  کو ہم سے کوئی کام نہیں

امیر خسرو
Amir Khusro

Bay Bismillah Ism Allah Da

Bay Bismillah Ism Allah Da

ب بسم اللہ اسم اللہ دا، ایہہ بھی کہنا بھارا ہُو

نال شفاعت سرور عالمؐ چھٹسی عالم سارا ہُو
حدوں بے حد درود نبیؐ نوں جیندا ایڈ پسارا ہُو
میں قربان تنہاں توں باہو ،جنہاں ملیا نبی سو ہارا ہُو

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Saday Wal Mukhra Mor Wey Pyarya

Saday Wal Mukhra Mor

ساڈے ول مکھڑا موڑ
دے پیاریا
ساڈے ول مکھڑا موڑ

آپے لائیاں کنڈیاں تیں
تے آپے کھچ داہیں ڈور

عرش کُرسی تے بانگاں ملیاں
مُکے پے گیاں شور

ڈولی پا کے لے چلے کھیڑے
ناں کُجھ عذر نہ زور

جے مائے تینوں کھیڑے پیارے
ڈولی پا دیویں ہور

بلھا شوہ اساں مرناں ناہیں
وے مر گیا کوئی ہور

ساڈے وَلّ مکھڑا موڑ
دے پیاریا
ساڈے ول مکھڑا موڑ

Bulleh Shah
بلھے شاہ

Thanks to Mustafa Khan for contribution.



 

Dilam Dar Ashqi Awara Shud Awara Tar Bada

Dilam Dar Ashqi Awara Shud Awara Tar Bada
Tanam Az Baidili Baichara Shud Baichara Tar Bada

دلم در عاشقی آورہ شد آدارہ تر بادا
تنم از بیدلی یبچارہ شد یبچارہ تر بادا

میرا دل عاشقی میں آوارہ ہو گیا ہے ، خدا کرے یہ اور زیادہ آوارہ ہوتا جائے
میرا بدن بے دلی سے کمزور ہو گیا ہے ، یہ کمزور ہوتا چلا جائے

بہ تاراج  عزیزان زلف تو عیارے دارد
بہ خونریز غریبان چشم تو عیارہ تر بادا

اپنے عزیزوں کی غارت گری میں تیری زلف عیار نے بڑا کام کیا ہے
غریبوں کا خون بہانے کو تیری نظریں اور زیادہ  عیار ہو جائیں

رخت تازہ ست و بہر  مردن خود تازہ تر خواہم
دلت خارہ ست و بہر کشتن من خارہ تر بادا

تیرا رخ تازہ ہے لیکن مجھے مارنے کو اور زیادہ تازہ ہو جائے
تیر ا دل پتھر ہے لیکن مجھے مارنے کو اور زیادہ سخت ہو جائے

گر اے زاہد ، دعای خیر میگوئی مرا ، این گو
کہ آن آوارہ از کوی بتان آوراہ تر بادا

اے عبادت گزاردعا دینی ہے تو یہ کہہ
کہ مجھے جیسا آورہ محبوب کی گلی میں زیادہ آوراہ ہو جائے

ہمہ گویند کز خونخواریش خلقے بہ جان آمد
من این گویم کہ بہر جان من خونخوارہ تر بادا

سب کہتے ہیں کہ وہ معشوق کی خونخواری سے دل و جان سے تنگ ہیں
میں یہ کہتا ہون کہ وہ میری جان کے لئے اور زیادہ خونخوار ہو جائے

دل من پارہ گشت از غم ، نہ زانگونہ کہ بہ گردد
وگر جانان بدین شاد است ، یا رب ، پارہ تر بادا

میر ا دل غم سے پارہ ہو گیا ہے ،نہیں کہتا کہ ٹھیک ہو
اگر یہ حالت محبوب کو پسند ہے تو اور زیادہ پارہ ہو جائے

چو با تر دامنی خو کرد خسرو با دو چشم تر
بہ آب چشم پاکان دامنش ہموارہ تر بادا

اے خسرو تیری دو آنکھوں نے دامن تر کر دیا ہے
ان آٓنسو وں سے تیر ا پاک دامن اور زیادہ ہموار ہو جائے

امیر خسرو
Amir Khusro

Ae Sanayat Rahmat Lil Alameen

Ae Sanayat Rahmat Lil Alameen
Yak Gada e Faiz e Tu Rooh ul Ameen

اے ثنائت رحمتہ اللعالمین
یک گدائے فیض تو روح الامین

اے کہ تیری ثنا رحمتہ اللعالمین ہے
تیرے فیض کا اک بھکاری جبرئل ہے

اے کہ نامت را خدائے ذوالجلال
زد  رقم  بر جبہہ عرش برین

اے کہ تیر ے نام کی خدائے ذوالجلال نے
چند سطور اپنے عرش کی پیشانی پر لکھی ہیں

آستان عالی تو بے مشل
آسمانے ہست بالائے زمین

ترا آستانہ بے مشال ہے
وہ تو زمیں  پر ایک  آسمان ہے

آفرین بر عالم حسن تو باد
مبتلائے تست عالم آفرین

تیرے حسن کے عالم پر آفرین ہے
عالم کو بنانے والا تجھ پر فدا ہے

یک کف پاک از در پر نور اُو
ہست مارا بہتر از تاج و نگین

اس کے در کی پر نور مٹھی بھر خاک
ہمارے لئے تخت و تاج سے بہتر ہے

خرمن فیض ترا اے ابر فیض
ہم زمین و ہم زمان شد خوشہ چین

تیرے فیض کا کھلیان اے فیض کے بادل
زمین و آسمان تیرے خوشہ چین ہیں

از جمال تو ہمے بینم مسا
جلوہ در آینہ عین الیقین

تیرے جمال میں دیکھتا ہوں
عین ایقین کا جلوہ تیرے آینہ میں

خلق را آغاز و انجام از تو ہست
اے امام اولین و آخرین

مخلوق کی ابتدا اور انتہا تجھ سے ہے
اے اولین و آخرین کے امام

غیر صلوۃ و سلام و نعت تو
بو علی را نیست ذکر دلنشین

صلٰوۃ وسلام اور نعت کے بڑھ کر
بو علی کے لئے کوئی ذکر دلنشین نہیں ہے

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Khabaram Raseed Imshab Ke Nigaar Khuahi Aamad

Khabaram Raseed Imshab Ke Nigaar Khuahi Aamad
Sar-e Man Fidaa-e Raah-e Ki Sawaar Khuahi Aamad

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد
سرِ من فدای راہے کہ سوار خواہی آمد

میرے محبوب مجھے خبر ملی ہے کہ تو آج رات کو آئے گا
میر ا سراُس راہ پر قربان جس راہ پر تو سواری کرتا آئے گا

بہ لبم رسیدہ جانم ،تو بیا کہ زندہ مانم
پس ازان کہ من نمانم، بہ چہ کار خواہی آمد؟

میری جان ہونٹوں پر آگئی ہے ، تو آجا کہ میں زندہ رہوں
پھر جب میں نہ رہوں گا تو کس کام کے لئے آئے گا

غم و غصہ فراقت بکشم چنانکہ دانم
اگرم چو بخت روزے بہ کنار خواہی آمد

تیری جدائی  کا غم  اور دکھ بس میں ہی جانتا ہوں
جس دن تو پہلو میں آئے گا سب غم بھلا دوں گا

دل و جان ببرد چشمت بہ دو کعبتین و زین پس
دو جہانت داو، اگر تو بہ قمار خواہی آمد

دل و جان چھین کر لے گیئں ہیں تیر ی دو آنکھیں اپنے دانوں سے
اب دونوں جہان داو پر لگ جائیں اگر تو قمار  بازی پر آئے

می تست خون خلقے و ہمی خوری دما دم
مخور این قدح کہ فردا بہ خمار خواہی آمد

تیری شراب تو عاشقوں کا خون ہے اور تو لگاتار پیتا جا رہا ہے
اس پیالے کو ترک کر دے کہ کل تو نے بھی خماری میں آجانا ہے

کششے کہ عشق دارد نہ گزاردت بدینساں
بجنازہ گر نیائی بہ مزار خواہی آمد

عشق کی کشش بے اثر نہیں ہوتی
جنازہ پر نہ سہی مزار پر تو آئے گا

ہمہ آہوانِ صحرا سرِ خود نہادہ بر کف
بہ امید آنکہ روزے بشکار خواہی آمد

صحرا کے ہرن اپنے ہاتھوں میں اپنا سر اٹھا کے پھر رہے ہیں
اس امید پر کے تو کسی روز شکار کے لئے آئے گا

بہ یک آمدن ربودی دل و دین و جانِ خسرو
چہ شود اگر بدینساں دو سہ بار خواہی آمد

تیری ایک آمد پر خسرو کے دل وجان دین دنیا چلے گئے
کیا ہو گا جب اسی طرح دو تین با ر آئے گا

امیر خسرو
Amir Khusro

Hai Ishq Da Jalwa Har Har Ja Subhan Allah Subhan Allah

Hai Ishq Da Jalwa Har Har Ja
Subhan Allah Subhan Allah

ہے عشق دا جلوہ ہر ہر جا
سبحان اللہ سبحان اللہ
خود عاشق خود معشوق بنیا
سبحان اللہ سبحان اللہ

عشق کا جلوہ ہر جگہ ہے
سبحان اللہ سبحان اللہ
خوہ ہی عاشق خود ہی معشوق ہے
سبحان اللہ سبحان اللہ

خود بلبل تے پروانہ ہے
گل شمع اتے دیوانہ ہے
تھی چاند چکور نوں موہ لیا
سبحان اللہ سبحان اللہ

خود بلبل ،خود پھول
خود پروانہ، خود شمع پر دیوانہ
چاند بھی خود ، چکور بھی خود
سبحان اللہ سبحان اللہ

کڈیں موسی تھی میقٰات چڑھے
ول وعظ کرے توریت  پڑھے
کڈیں عیسیٰ یحییٰ زِکرٰیا
سبحان اللہ سبحان اللہ

کبھی موسیؑ کی شکل میں کلام کرے
وعظ کرے توریت پڑھے
کبھی عیسیؑ یحییؑ زکریاؑ نبیوں کی صورت
سبحان اللہ سبحان اللہ

کتھے شاد کتھے دل تنگ ڈسے
کتھے صلح ڈسے کتھےجنگ ڈسے
تھیا شان جلال جمال ادا
سبحان اللہ سبحان اللہ

کبھی خوش، کبھی غمگین لگے
کبھی دوستی کبھی جنگ کرے
یہ سب جلال و جمال کی ادائیں ہیں
سبحان اللہ سبحان اللہ

کتھے راز انا الحق فاش کیتا
کتھے سبحانی دا  ورد پڑھیا
کتھے انی عبد رسول کہیا
سبحان اللہ سبحان اللہ

کہیں منصور بن کے انا لحق کا راز کھولے
کہیں با یزید بسطامی کا نعرہ سبحانی لگائے
کہیں رسول کی زبان سے انی عبداللہ کہے
سبحان اللہ سبحان اللہ

ہن ہستی دے نیرنگ عجب
ہن حسن ازل دے ڈھنگ عجب
بے رنگ بہ ہر ہر رنگ رچیا
سبحان اللہ سبحان اللہ

اس مقام پہ ہستی کے رنگ عجیب ہیں
اب حسن ازل کےاطوار عجیب ہیں
خود رنگوں سے پاک اور ہر رنگ میں نمایاں
سبحان اللہ سبحان اللہ

ہے محض مقام تحیر دا
بٹھ حیلہ درک و تفکر دا
ہیں ڈونگھڑے ڈیہہ ڈوں ہتھ نہ پا
سبحان اللہ سبحان اللہ

یہ مقام حیرت  ہے
غور و فکر ترک کر دے
بہت گہری باتیں ہیں ان کو ہاتھ نہ لگا
سبحان اللہ سبحان اللہ

تقدیس کتھاں تنزیہ کتھاں
تقیید اَتے تشبیہ کتھاں
ہے حیرت سکھ تسلیم و رضا
سبحان اللہ سبحان اللہ

پاکی ہے اُسے ، آلائشوں سے مبرا ہے
اس کی قید کی تشبیہ کیسے ہو
حیرت و حیرانگی ہے، سیکھ تسلیم و رضا
سبحان اللہ سبحان اللہ

تھئ عمر تلف برباد سبھو
ہیہات سبھو فریاد سبھو
مر مردے تیئں نہ پیُم سَما
سبحان اللہ سبحان اللہ

عمر برباد ہو گئی ہے
ہائے افسوس اور فریاد ہے
مرتے دم تک خبر نہ سنی
سبحان اللہ سبحان اللہ

ہے  پریت فرید دی ریت عجب
ہے درد تے سوز دی گیت عجب
ہن سمجھو سارے اہلِ صفا
سبحان اللہ سبحان اللہ

فرید عشق کی ریت عجیب ہے
اس کے درد و سوز کا گیت بھی عجیب ہے
اب سمجھ لیں سارے اہل صفا
سبحان اللہ سبحان اللہ

خواجہ غلام فرید
Khawaja Ghulam Farid

Agar Rindam Agar Man But Parastam

Agar Rindam  Agar Man But Parastam
Qaboolam Kun Khudaya Har Che Hastam

اگر رندم اگر من بت پرستم
قبولم کن خدایا ہر چہ ہستم

میں شرابی ہوں یا بت پرست ہوں
خدایا قبول کر لے جو کچھ بھی ہوں

بت دارم درون سینہ خویش
کہ روز و شب من آن بت مے پرستم

میرے سینے میں ایک بت ہے
میں دن رات اس بت کی پرستش کرتا ہوں

بہ ہوشم ناورد ہنگامہ حشر
کہ من بد مست از روز الستم

ہوش میں نہ لائے گا محشر کا ہنگامہ مجھے
کیونکہ میں روز الست سے ہی مست ہوں

ندارم ننگ و عا ر از بت پرستی
کہ یارم بت بود من بت پرستم

مجھے بت پرستی سے ہرگز عار نہیں
کیونکہ یار میرا بت ہے اور میں بت پرست ہوں

بہ پیچ و تا ب عشق افتادم آنگہ
دل اندر زلف پیچان تو بستم

میں عشق کے پیچ و تاب میں اس وقت سے گرفتار ہوں
جب سے میں نے اپنا دل تیری زلف پیچاں میں باندھا

خمارد نشکند  آید اجل گر
کہ از جام شراب شوق مستم

موت بھی میرے خمار کو نہیں توڑ سکتی
کیونکہ میں عشق کی شراب کے جام سے مست ہوں

شرف چون نرگس چشمش بدیدم
بمستی ساغرو مینا شکستم

شرف نے جب سے نرگسی آنکھوں کو دیکھا ہے
مستی میں آ کر ساغرو مینا توڑ ڈالے ہیں

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Many Thanks to Wajahat Ali Warsi for review and corrections

Mera ranjhan hun koi hor

Mera ranjhan hun koi hor

میرا رانجھن ہن کوئی ہور

تخت منور بانگاں ملیاں
تاں سنیاں تخت لاہور

عشقے مارے ایویں پھردے
جیویں جنگل وچ ڈھور

رانجھا تخت ہزارے دا سائیں
ہُن اوتھوں ہویا چور

بلھا شاہ اساں مرنا ناہیں
گور پیا کوئی ہور

میرا رانجھن ہن کوئی ہور

Bulleh Shah
بلھے شاہ