Lo Madinay Ki Tajalli Se Lagaye Hue Hain

Lo Madinay Ki Tajalli Se Lagaye Hue Hain
Dil Ko Ham Matla e Anwar Banaye Hue Hain

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں

اک جھلک آج دکھا گنبد خضرٰی کے مکیں
کچھ بھی ہیں ، دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں

سر پہ رکھ دیجے ذرا دستِ تسلی آقا
غم کے مارے ہیں ، زمانے کے ستائے ہوئے ہیں

نام کس منہ سے ترا لیں کہ ترے کہلاتے
تیری نسبت کے تقاضوں کو بُھلائے ہوئے ہیں

گھٹ گیا ہے تری تعلیم سے رشتہ اپنا
غیر کے ساتھ رہ و رسم بڑھائے ہوئے ہیں

شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا
یہ بھی کیا کم ہے ، ترے شہر میں ائے ہوئے ہیں

تری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ
کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں

کاش دیوانہ بنا لیں وُہ ہمیں بھی اپنا
ایک دنیا کو جو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں

اللہ اللہ مدینے پہ یہ جلووں کی پھُوار
بارشِ نور میں سب لوگ نہائے ہوئے ہیں

کشتیاں اپنی کنارے سے لگائے ہوئے ہیں
کیا وہ ڈوبے جو محمد کے ترائے ہوئے ہیں

نام آنے سے ابوبکر و عمر کا لب پر کیوں بگڑتا ہے
وہ پہلو میں سلائے ہوئے ہیں

حاضر و ناظر و نور و بشر و غیب کو چھوڑ
شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں

قبر کی نیند سے اٹھنا کوئی آسان نہ تھا
ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں

کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیر
اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں

Naseer ud Din Naseer
نصیر الدین نصیر

Dil Dardaan Keeti Poori Ni Dil Dardaan Keeti Poori

Dil Dardaan Keeti Poori Ni Dil Dardaan Keeti Poori

دل درداں کیتی پوری نی،دل درداں کیتی پوری
لکھ کروڑ جنہاں دے جڑیا،سو بھی جُھوری جُھوری
بَھٹھ پئی تیری چِٹی چادر ،، چَنگی فقیراں دی بُھوری
سَادھ سنگت دے اوہلے رندے ،بُدھ تینہاں دی سُوری
کہے حسین فقیر سائیں دا ،خلقت گئی اَدھوری

دل کی دردوں نے پورا کر دیا،دل کی دردوں نے مکمل کر دیا
جن کے پاس لاکھ ، کڑور جمع ہوتا  ہے وہ پھر بھی  ادھورے اور نا مکمل رہتے ہیں
تیر ی سفید چادر میلی ہو گئی مگرہماری بھوری چادر بے داغ ہے
جن کو نیک صحبت میسر ہو جائے ان کی عقل سلیم ہو جاتی ہے
حسین رب کا فقیر کہتا ہے کہ خلقت دنیا سے ادھوری جاتی ہے

شاہ حسین
Shah Hussain

Sun Faryad Peeran deya Peera Meri Arz Suneen Kan Dhar Ke

Sun Faryad Peeran deya Peera Meri Arz Suneen Kan Dhar Ke

سن فریاد پیراں دیا پیرا میری عرض سنیں کن دھر کے ہُو
بیڑا اڑیا میرا وچ کپرا ندے جتھے مچھ نہ بہندے ڈر کے ہُو
شاہ جیلانی محبوب سبحانی میری خبر لیو جھٹ کر کے ہُو
پیر جنہاندے میراں باہو، اوہ کدھی لگدے ترکے ہُو

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Rabba Mere Haal Da Mehram Tu

Rabba Mere Haal Da Mehram Tu

ربّا میرے حال دا محرم تُوں
اندر توں ہیں باہر تُوں ہیں ، روم روم وچ تُوں
تُوں ہیں تانا ، تُوں ہیں بانا، سبھ کجھ میرا تُوں
کہے حسین فقیر نمانا، میں ناہیں سبھ تُوں

اے میرے رب صرف تو ہی میرے حال سے واقف ہے
میرے اندر باہر اور رگ رگ میں تو سمایا ہوا ہے
تو ہی میرا تانا بانااور سب کچھ ہے۔ یعنی دھاگوں (رگوں)کا جال جو میرے اندرطول اور عرض پھیلا ہوا ہے
عاجز فقیر حسین کہتا ہے کہ میں کچھ نہیں سب کچھ تری ذات ہے

شاہ حسین
Shah Hussain

Hamid Ali Bela Rabba Mere Haal Da Mehram Tu

Lahd Mein Wo Surat Dikhai Gai Hai

Lahd Mein Wo Surat Dikhai Gai Hai
Meri Soi Qismat Jagai Gai Hai

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے
مری سوئی قسمت جگائی گئی ہے

نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا
تو کیوں بزم عالم سجائی گئی ہے

صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت
بہت اُن کے کوچے میں آئی گئی ہے

وہاں تھی فدا مصر میں اک زلیخا
یہاں صدقے ساری خدائی گئی ہے

یہ کیا کم سند ہے مری مغفرت کی
ترے در سے میت اُٹھائی گئی ہے

گنہگار اُمت پہ رحمت کی دولت
سرحشر کھل کر لٹائی گئی ہے

شراب طہور اُن کے دست کرم سے
سرِ حوض کوثر پلائی گئی ہے

تہ خاک ہو شاد کیوں کر نہ اُمت
نبی کی زیارت کرائی گئی ہے

کسے تاب نظارہ جالی کے آگے
نظر احتراماً جھکائی گئی ہے

لحد سے نصیر اب چلو تم بھی اُٹھ کر
اُنہیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے

Naseer ud Din Naseer
نصیر الدین نصیر

Sona Jungle Raat Andheri Chai Badli Kaali Hai

Sona Jungle Raat Andheri Chai Badli Kaali Hai
Sone Walon Jagte Rahiyo Choron Se Rakhwali Hai

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والوں جاگتے رہیو چوروں سے رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے تیری مت ہی نرالی ہے

آنکھیں ملنا جھنجلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کوئی گالی ہے

جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیابیتالی ہے

بادل گرجے بجلی چمکے دھک سے کلیجہ ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ
مینہ نے پھسلن کردی ہے اور دھڑ تک کھائی نالی ہے

ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجلا کر سردے پٹکوں چل رے مولی والی ہے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بیکس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

دنیا کو تو کیا جانےیہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کش
اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے

وہ تو نہائت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

مولی تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Ham Khak Hain Aur Khak Hi Mawa Hai Hamara

Ham Khak Hain Aur Khak Hi Mawa Hai Hamara
Khaki Tu Woh Aadam Jad e Aala Hai Hamara

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماویٰ ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جد اعلیٰ ہے ہمارا

اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم
اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا

خم ہو گئی پشت فلک اس طعن زمیں سے
سن! ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

اس نے لقب خاک شہنشاہ سے پایا
جو حیدر کرار کہ مولے ہے ہمارا

اے مدعیو! خاک تو تم خاک نہ سمجھے
اس خاک میں مدفوں شہ بطحا ہے ہمارا

ہے خاک سے تعمیر مزار شہ کونین
معمور اسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا

ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
آباد رضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Zabani Kalma Har Koi Parhda Dil Da Parhda Koi Hoo

Zabani Kalma Har Koi Parhda Dil Da Parhda Koi Hoo

زبانی کلمہ ہر کوئی پڑھدا ، دل دا پڑھدا کوئی ہُو
جتھے کلمہ دل دا پڑھیئے ، اوتھے ملے زبان نہ ڈھوئی ہُو
دل دا کلمہ عاشق پڑھدے کیہ جانن یار گلوئی ہُو
ایہہ کلمہ اسانوں پیر پڑھایا باہو میں سدا سہاگن ہوئی ہُو

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Dil Kale Kolon Mun Kala Changa Je Koi Es Noon Jane Hoo

Dil Kale Kolon Mun Kala Changa Je Koi Es Noon Jane Hoo

دل کالے کولوں منہ کالا چنگا جے کوئی اس نوں جانے ہُو
مونہہ کالا دل اچھا ہووے تاں دل یار پچھانے ہُو
ایہہ دل یار دے پچھے ہودے متاں یار وی کدی پچھانے ہُو
سئے عالم چھوڑ مسیتاں نٹھے باہو جد لگے نیں دل ٹکانے ہُو

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Be Muhammad Dar Haq e Baar Naist

Be Muhammad Dar Haq e Baar Naist
Be Rawa Az Kibriya Deedar Naist

بے محمد در حق بار نیست
بے روا  از  کبریا  دیدار نیست

حضورﷺکے وسیلہ کے بغیر رب کی بارگاہ میں رسائی ممکن نہیں
خدا کے دیدار کے علاوہ کوئی اور دیدارزیبا  نہیں ہے

در دو عالم بے تمثل صورتے
اے پدر دیدار  آں  دیدار  نیست

دونوں عالم میں بے شمار صورتیں ہیں
اے سننے والے ان کا دیدار اُس کا دیدار نہیں ہے

اے محقق ذات حق با صفات
بے تجلی ہیچ کہ اظہار نیست

اے تحقیق کرنے والے رب کی ذات با صفات  ہے
تجلی کے بغیر ان کا اظہار ممکن نہیں ہے

ہر دو عالم جز تمثل نیست نیست
مطلع جز صاحب اسرار نیست

دونوں عالم میں اس کی مثل کوئی نہیں ہے
لیکن اس کا اظہار صاحب اسرار کے علاوہ نہیں

ہر چہ بینی جز خدا ہرگز مبیں
وہم غیری زانکہ جز پندار نیست

جو کچھ بھی تو دیکھے تو خدا کے سوا ہرگز نہ دیکھ
اس کے سوا ہر شے خیال وہم اور گمان کے سوا کچھ نہیں

جز جمال دوست دیدن شد حرام
نزد بینا کار غیر ایں کار نیست

جمال یار کے علاوہ دیکھنا حرام ہے
عارف کے نزدیک غیر کو دیکھنا ہرگز روا نہیں

غرق باشد در جمال دوست دوست
عاشق سر مست را گفتار نیست

دوست تو دوست کے جلووں میں گم ہوتا ہے
مدہوش عاشق کی حالت بیاں میں نہیں آسکتی

ایں شراب عاشقاں را ہر کہ خورد
مست آمد دائما ہوشیار نیست

یہ شراب  عاشقوں سے جو کوئی بھی  پیتا ہے
ہمیشہ بیخود رہتا ہے  ہرگز ہوش میں نہیں آتا

در لقائے یار باشد باریار
ورنہ ہر کس اے جواں او یار نیست

یار تو یار کے لقا کی نعمت سے سرشار ہوتا ہے
اگر ایسا نہیں ہوتا تو وہ یار ہی نہیں

زنداں نتواں گفت او  را  در جہاں
ہر کہ دربار جاناں بار نیست

اس کو زندہ ہرگز نہیں کہا جا سکتااس جہاں میں
جس کسی کو بھی بارگاہ محبوب میں رسائی نہیں

علم مطلع در دو عالم نکتہ است
عارفاں را کار با ضروار نیست

دونوں عالم میں علم اس نقطے میں واضح ہے
عارفوں کا کام سختی اور تکلیف دینا نہیں ہے

روئے تو راجا گفت خود را بدہ کن
عارفاں را ہیچ دل بیدار نیست

اے راجا اپنا رخ اپنی طرف کر کہ کہہ دے
عارفوں کے پاس  سوائے دل بیدار کے کچھ نہیں

لعل شہباز قلندر
Lal Shahbaz Qalandar