Man Banda Aaseem Razai Tu Kujast

Man Banda Aaseem Razai Tu Kujast

من بندہ عاصیم ، رضای تو کجاست
تاریک دلم ، نور صفای تو کجاست
ما را تو بہشت اگر بہ طاعت بخشی
این مزد بود، لطف و عطای تو کجاست

میں گنہگار بندہ ہوں تیری بخشش کہاں ہے
میرا دل تاریک ہے تیرا شفاف نور کہاں ہے
جنت اگر ہیمں نیکیوں سے ملنی ہے تو
یہ تو مزدوری ہوئی تیری رحمتیں اور عنایتیں کہاں ہیں

عمر خیام
Omar Khayyam

Aashiq Hovain Taan Ishq KamaVain

Aashiq Hovain Taan Ishq KamaVain

عاشق ہوویں تاں عشق کماویں
راہ عشق سوئی دا ٹکا،دھاگہ ہویں تاں ہی جاویں
باہر پاک اندر آلودہ، کیہا توں شیخ کہاویں
کہے حسین جے فارغ تھیویں،تاں خاص مراتبہ پاویں

عاشق بننا ہے تو عشق حقیقی اختیار کر
عشق کا راستہ سوئی کے سوراخ کی مانند ہے ، دھاگے کی طرح ہو جا نفس کو مار کرپھر ہی گزرے گا
ظاہر پاک صاف ہے مگر اندر گندگی ہے تو خود کو شیخ کہلانا پسند کرتا ہے
حسین کہتا ہے کہ دنیاوی خواہشات سے فراغت حاصل کر جب ہی تو خاص مرتبہ پا سکے گا

شاہ حسین
Shah Hussain

Har Roz Bar Aanam Ke Kunam Shab Tauba

Har Roz Bar Aanam Ke Kunam Shab Tauba

ہر روز بر آنم کہ کنم شب توبہ
از جام و پیالۂ لبا لب توبہ
اکنوں کہ رسید وقت گل تر کم دہ
در موسم گل توبہ یا رب توبہ

ہر دن میں کہتا ہوں کہ آج رات توبہ کروں گا
بھرے ہو ئے جام و پیالہ سے توبہ کروں گا
لیکن بہار کا موسم آنے سے میرا ارادہ کمزور پڑ گیا ہے
موسم بہار میں توبہ کر لوں ارے توبہ توبہ

عمر خیام
Omar Khayyam

Sajan De Hath Banh Asadi Kyun Kar Aakhan Chad Ve Arya

Sajan De Hath Banh Asadi Kyun Kar Aakhan Chad Ve Arya

سجن دے ہتھ بانہہ اَساڈی ، کیونکر آکھاں چھڈ وے اَڑیا
رات اندھیری بَدّل کنیاں ، ڈَاڈھے کیتا سڈّ وے اَڑیا
عشق محبت سو ای جانن پئی جنیہاں دے ہڈ وے آڑیا
کلر کٹھن کھوہڑی چینا ریت نہ گڈ وے اَڑیا
نت بھرینائیں چھٹیاں اک دن جا سیں چھڈ وے آڑیا
کہے حسین فقیر نمانا، نین نیناں نَال گڈ وے اَڑیا

محبوب نے ہمارا بازو پکڑ لیا ہے میں کیوں کہوں کہ چھوڑ دے
رات اندھیری ہے ، بادل گھنا ہے ، بلاوا بھی آ چکا ہے
عشق اور محبت وہی جانتے ہیں جن کی ہڈیوں میں رچ بس جاتا ہے
سیم و تھور اور ریتلی زمین کنواں کھودنے اور اناج اُگا نے کا کوئی فائدہ نہیں
تو روز و شب مال ودولت اکٹھا کرنے میں مگن ہے مگر ایک دن سب یہیں چھوڑ کر چلا جائے گا
حسین رب کا عاجز فقیر کہتا ہے کہ تو نگاہوں سے نگاہیں ملا یعنی عشق کر

شاہ حسین
Shah Hussain

Ghoonghat Ohle Na luk Sajna

Ghoonghat Ohle Na luk Sajna

گھونگٹ اوہلے نہ لک سوہنیا
میں مشتاق دیدار دی ہاں

پردے کے پیچھے نہ چھپ سوہنیا
میں  شوق زیارت رکھتی ہوں

جانی باجھ دیوانی ہوئی
ٹوکاں کردے لوک سبھوئی
جیکر یار کرے دِل جوئی
میں تاں فریاد پَکار دِی ہاں

محبوب کی جدائی میں دیوانی ہو گئی ہوں
سب لوگ مجھے طعنے دیتے ہیں
اگر سوہنا یار میری دلجوئی کرے
میں تو دن رات دیدار کی پکار کر رہی ہوں

گھنگٹ اوہلے نہ لک سوہنیا
میں مشتاق دیدار دی ہاں

پردے کے پیچھے نہ چھپ سوہنیا
میں  شوق زیارت رکھتی ہوں

مفت وِکاندی جانّدی بَاندی
مل ماہی جِند اَینویں جَاندی
اک دم ہجر نہیں میں سہندی
میں بُلبُل اُس گلزار دی ہاں

تیرے عشق میں  بے قیمت باندی ہوں
آ مل جا کہ میری جان نکلی جا رہی ہے
میں اک پل بھی جدائی برداشت نہیں کر سکتی
میں باغ حسن کی بلبل ہوں بھلا جدا کیسے رہوں

گھنگٹ اوہلے نہ لک سوہنیا
میں مشتاق دیدار دی ہاں

پردے کے پیچھے نہ چھپ سوہنیا
میں  شوق زیارت رکھتی ہوں

Bulleh Shah
بلھے شاہ

Ta Chand Z Masjid O Namaz O Roza

Ta Chand Z Masjid O Namaz O Roza

تا چند ز مسجد و نماز و روزہ
در میکدہ ہا مست شو از دریوزہ
خیام بخور بادہ کہ این خاک ترا
گہہ جام کنند ، گہہ سبو ، گہہ کوزہ

کب تک مسجد و نماز و روزہ میں مصروف رہے گا
میکدے میں جا دیوانہ بن اورگدا گری کر
اے خیام تو شراب پی کیونکہ تیری اس خاک سے
کبھی جام بنے گا ، کبھی صراحی و مٹکا اور کبھی کوزہ

عمر خیام
Omar Khayyam

Sehrum Dolat e Beedar Babaleen Amad

Sehrum Dolat e Beedar Babaleen Amad

سحرم دولتِ بیدار ببالیں آمد
گفت برخیز کہ آں خسرو شیریں آمد

صبح کے وقت وہ خوش بختی کی دولت میرے پاس آئی
کہا کہ اُٹھ کہ تیرا حسیں محبوب آرہا ہے

قدحے درکش و سر خوش بتماشا بخرام
تا بہ بینی کہ نگارت بچہ آئین آمد

شراب کا پیالہ اُٹھا ،پی اور سیر کو نکل جا
تا کہ تو دیکھ سکے کہ وہ کس ناز وانداز سے آ رہا ہے

مژدگانے بدہ اے خلوتیِ نافہ کشائے
کہ زصحرائےختن آہوئے مشکیں آمد

خوش خبری سنا دے مشک کھول کر گوشہ تنہائی میں بیٹھنے والے
کہ مشک کے صحرا  سے تیرا محبوب خوش بو بکھیرتا آرہا ہے

گریہ آبے برخِ سوختگاں باز آورد
نالہ فریاد رسِ عاشق مسکیں آمد

ان آنسوؤں نے دل جلوں کے چہروں پر پھر سے چمک پیدا کر دی ہے
یہ نالے فریاد رس بن گئے ہیں اس مسکیں عاشق کے لئے

مرغ دل باز ہوادارِ کمان ابروئیست
کہ کمیں صیدگہش جان و دِل ودیں آمد

میرے دل کا پرندہ اس کی ابرو کی کمان کی زد میں ہے
میری جان و دل و دنیاودیں سب کچھ اس کی شکار گا ہ ہیں

در ہوا چندمعلق زنی و جلوہ کنی
اے کبوتر نگراں باش کہ شاہیں آمد

تو کب تک ہوا میں قلا بازیاں کھاتا  اور جلوہ دکھاتا رہے گا
اے کبوتر ہوشیاری سے کام لے کہ وہ باز آ رہا ہے

ساقیا مے بدہ و غم مخور از دشمن و دوست
کہ بکام دل ما آں بشد و ایں آمد

ساقی تو جام پلا اور دوست و دشمن کا غم نہ کر
کیونکہ ہماری مرضی کے مطابق غم ختم ہوا اور مسرت کا دور آگیا ہے

شادی یارِ پچہرہ بدہ بادہ ناب
کہ مئےلَعل دوائے دلِ غمگیں آمد

اس پری جیسے چہرے والے محبوب کی خوشی میں خالص شراب دے
کیونکہ سرخ شراب ہی غمگیں دل کا علاج ہے

رسم بد عہدی ایام چو دید ابر بہار
گریہ اش بر سمن و سنبل و نسریں آمد

بہار کے بادل نے جب زمانے کی بد عہدی کا دستور دیکھا
تو وہ چنبیلی و سنبل اور سیوتی کے پھولوں پر رونے لگ گیا

چوں صبا گفتہ  حافظ بشنید از بُلبُل
عنبر افشاں بتماشائے ریاحیں آمد

باد صبا نے جب بلبل کی زباں سے حافظ کا کلام سنا
تو وہ خوشبو بکھیرتی گل و ریحان کی سیر کو نکل پڑی

Deewan E Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Az Amdan o Raftan Ma Soodi Ko

Az Amdan o Raftan Ma Soodi Ko

از آمدن و رفتن ما سودی کو
وز تار امید عمر ما پودی کو
چندین سرد پای ناز نینان جہان
می سوزد و خاک می شود دودی کو

ہمارا دنیا میں آنا اور جان کیا نفع دیتا ہے
کیا معلوم کہ زندگانی کی ڈور کہاں تک ہے
کتنے ہی دراز قد حسین اور  خوبرو
جل کر خاک ہو گئے اوراُن کا  دھواں تک نہیں ملتا

عمر خیام
Omar Khayyam

Mandi Haan Ke Changi Haan Sahib Teri Bandi Haan

Mandi Haan Ke Changi Haan Sahib Teri Bandi Haan

مندی ہاں کہ چنگی ہاں بھی ، صاحب تیری بندی ہاں
گہلا لوک جانے دیوانی ، رنگ صاحب دے رنگی ہاں
ساجن میرا اکھیں وچ وسدا ، گلیئیں پھری تشنگی ہاں
کہے حسین فقیر سائیں دا ، میں ور چنگے نال منگی ہاں

اے میرے مالک میں اچھا یا بُرا جیسا بھی ہوں تیرا بندہ ہوں
لوگ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں ،جب کہ میں تیرے رنگ میں رنگا ہوا ہوں
محبوب میری آنکھوں میں بستا ہے ،لیکن پیاسا گلیوں میں پھرتا ہوں
حسین رب کا فقیر کہتا ہےکہ محبوب حقیقی کہ ساتھ تعلق استوار ہو گیا ہے

 

شاہ حسین
Shah Hussain

Ni Saiyo Asi Naina De Aakhe Lage

Ni Saiyo Asi Naina De Aakhe Lage

نی سیّو ! اسیں نیناں دے آکھے لگے
جینہاں پاک نگاہاں ہوئیاں ، کہیں نہیں جاندے ٹھگے
کالے پٹ نہ چڑھے سفیدی ، کاگ نہ تھیندے بگے
شاہ حسین شہادت پائیں ، مرن جو متراں اگے

 دوستو! ہم نگاہوں کا کہنا مانتے ہیں
جن کی طرف پاک نگاہیں اُٹھ جاتی ہیں وہ کہیں بھی دھوکہ نہیں کھاتے
جیسے سیاہ ریشم پر سفید رنگ نہیں چڑھتا اور جیسا کہ کوّے سفید نہیں ہوتے
شاہ حسین وہ شہید ہوتے ہیں جو محبوب کی خاطر قربان ہو جاتے ہیں

شاہ حسین
Shah Hussain