Heart Touching Poetry of Jalal ud din Rumi

Heart Touching Poetry of Moulana Jalal ud din Rumi

یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

اللہ کے ولی کی صحبت کے چند لمحے
سو سال کی بے ریا عبادت سے بھی بہتر ہے

صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

نیک لوگوں کی صحبت نیک بنا دیتی ہے
بُرے لوگوں کی صحبت بُرا بنا دیتی ہے

اولیا را ہست قدرت از الہ
تیر جستہ باز آرندش راہ

اللہ کے ولیوں کو رب کی طرف سے طاقت حاصل ہے کہ وہ
کمان سے نکلے ہوئے تیر کو بھی واپس کر دیتے ہیں یعنی تقدیر بدل دیتے ہیں

گفت پیغمبرؐ با آواز بلند
بر توکل زانوئے اُشتر بہ بند

نبی پاک نے با آواز بلند تعلیم دی
اللہ پر توکل رکھو ساتھ ہی اُونٹ کے گھٹنے بھی باندھو

رمز الگاسبُ حبیب اللہ شنو
از توکل در سبب کاہل مشو

اشارہ سمجھو کہ حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے
توکل کے بھروسے کاہل نہ بن جاؤ

چیست دنیا از خدا غافل بدن
نے قماش و نقرہ و فرزندان و زن

دنیا کیا ہے اللہ سے غافل ہونا
نا کہ سازو سامان  چاندی ، بیوی اور بچے

نام احمد ؐ نام جملہ انبیا ست
چونکہ صد آمد نود ہم پیش ماست

احمدؐ کے نام میں تمام انبیا کے نام موجود ہیں
جیسا کہ سو آئے تو نوے بھی ساتھ ہی آ جاتے ہیں

کاملے گر خاک گیرد زر شود
ناقص ار زَر بُرد خاکستر شود

کامل انسان خاک پکڑےتو سونا بن جائے
ناقص اگر سونا لے لے تو خاک ہو جائے

قافیہ اندیشم و دلدارِ من
گویدم مندیش جز دیدارِ من

میں قافیہ کی فکر کرتا ہوں اور میرا محبوب
مجھ سے کہتا ہے کہ میرے دیداد کے سوا کچھ نہ سوچ

چوں تو شیریں نیستی فرہاد باش
چوں نہ لیلیٰ تو مجنوں گرد فاش

جب تو شیریں نہیں ہے فرہاد بن جا
جب تو لیلیٰ نہیں ہے توکھلا مجنوں بن جا
یعنی معشوق نہیں ہے توپھر عاشق بن

در بہاراں کے شود سَر سبز سنگ
خاک شو تا گل بَروید رنگ رنگ

موسم بہار میں پتھر سر سبز و شاداب کب ہوتا ہے
خاک (مٹی) بن جا تاکہ رنگ برنگ کے پھول کھلیں

ہمنشینی مُقبلاں چوں کمیاست
چوں نظر شاں کیمائے خود کجاست

بارگاہ حق کے مقبول بندوں کے ہم نشینی سونا ہے
بلکہ ان لوگوں کے نظر کے مقابلے میں سونا خود کچھ نہیں

ہیں کہ اسرافیل وقتند اولیا
مُردہ را زیشاں حیات ست و نما

خبردار اولیا وقت کے اسرافیل ہیں
مردے ان سے حیات اور نشوونما پاتے ہیں

مطلق آں آواز از شہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

ان کی آواز حق کی آواز ہو تی ہے
اگرچہ حلق اللہ کے بندے کا ہوتا ہے

رو کہ بی یَسمَعُ وَ بیِ یَبصِرُ توئی
سِر توئی چہ جائے صاحب سِر توئی

جا کہ توہی رب کی سمع اور بصر والا ہے
تو ہی راز ہے اور تو ہی صاحب راز ہے
دو احادیث کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب نوافل سے قرب حاصل کرتا ہے تو میں
اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے
الا نسان سری و انا سرہ, رب فرماتا ہے انسان میرا راز ہے اور میں اُس کا راز ہوں

بہر کیکے تو کلیمے را مسوز
در صداع ہر مگس مگذارروز

پسو سے تنگ آکر گدڑی نہ جلا دو
مکھی سے تنگ آکر باہر نکلنا مت چھوڑو

ہر کہ اُو بے مرشدے در راہ شد
اُو زغولاں گمرہ و در چاہ شد

جو کوئی بھی بغیر مرشد کے راستہ پر جلا
وہ شیطانوں کی وجہ سے گمراہ اور ہلاگ ہوا

صد ہزاراں نیزہ فرعون را
در شکست آں موسیٰ با یک عصا

فرعون کے لاکھوں نیزے
حضرت موسیٰ نے ایک لاٹھی سے توڑ دیے

صد ہزاراں طب جالنیوس بود
پیش عیسیٰ و دمش افسوس بود

جالنیوس کی لاکھوں طبیں(نسخے) تھیں
حضرت عیسیٰ کے دم(پھونک) کے سامنے ہار گئیں

صد ہزاراں دفتر اشعار بود
پیش حرِف اُمیش آں عار بود

لاکھوں اشعار کے دفتر(دیوان) تھے
حضورؐ کے کلام کے سامنے شرمندہ ہو گئے

ہمسری با انبیا برداشتند
اولیا۶ را ہمچو خود پنداشتند

انبیا کے ساھ برابری کا دعویٰ کر دیا
اولیا کو اپنے جیسا سمجھ لیا

گفتہ اینک ما بشر ایشاں بشر
ما و ایشاں بستہ خوابیم و خور

کہا کہ ہم بھی انسان ہیں اور وہ بھی انسان ہیں
ہم اور وہ سونے اور کھانے کے پابند ہیں

کار پاکاں را قیاس از خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیر شیرِ

نیک لوگوں کے کام کو اپنے پر قیاس نہ کر
اگرچہ لکھنے میں شییر(درندہ) اور شیرِ( دودھ) یکساں ہے

مومنی اُو مومنی تو بیگماں
درمیانِ ہر دو فرقے بیکراں

رب بھی مومن ہے ، ،تو بھی مومن ہے
لیکن ہر دو مومنوں کے درمیان بے حساب فرق ہے
اس شعر سے بنی پاک کو اپنے جیسا(بشر) کہنے والوں کو نصیحت پکڑنی چاہیے
مومن اللہ کا نام ہے ، حضور کا بھی نام ہے اور مسلمان بندے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے

بادہ در جوشش گدائے جوشِ ماست
چرخ در گردش فدائے ہوشِ ماست

شراب جوش میں ہمارے جوش کی بھکاری ہے
آسمان گردش میں ہمارے ہوش پر قربان ہے

بادہ از ما مست شدنے ما ازو
قالب از ما ہست شد نے ما ازو

شراب ہماری وجہ سے مست ہوئی ہے نہ کہ ہم اُس سے
جسم ہماری وجہ سے پیدا ہوا ہے نہ کہ ہم اُس کی وجہ سے

 

Maulana Jalal uddin Rumi
مولانا جلال الدین رومی

To be Continued ……

Best Poetry of Allama Iqbal

Best Poetry of Allama Iqbal

علامہ اقبال ایک سچے عاشق رسول نہائت خوبی سے حضور کی شان بیان کر گئے ہیں

در دل مسلم مقام مصطفیٰ است
آبروئے ما زِ نام مصطفیٰ است

مسلمانوں کے دلوں میں حضور کا مقام ہے
ہم مسلمانوں کی عزت و آبرو حضورؐ کے نام کی بدولت ہے

طور موجے از غبار خانہ اش
کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش

کوہ طور تو آپ کے مبارک گھر کی گرد کی لہر ہے
کعبہ کے لئے آپ کا کاشانہ مبارک بیت الحرام کی مانند ہے

کمتر از آنے ز اوقاتش، ابد
کاسب افزائش از ذاتش ابد

ابد جس کی انتہا نہیں آپؐ کے مبارک اوقات کے ایک پل سے بھی کم ہے
ابد کی افزائش بھی آپ کی ذات گرامی کے طفیل ہے

Asrar o Ramooz
اسرار و رموز
——————————————————————
مسلماں آں فقیر کج کلاہے
رمید از سینہ او سوز آہے
دلش نالد چرا نالد؟ نداند
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

مسلماں جو کہ اپنی فقیری میں بے پرواہ تھا
اس کا سینہ سوز و گداز کی آہ سے خالی ہو گیا ہے
اس کا دل روتا ہے مگر رونے کا سبب نہیں معلوم
ایسے حال میں یارسول اللہ آپ ہی کچھ نظر کرم کریں

Armaghan Hijaz
ارمغان حجاز
——————————————————————-
شبے پیش خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

ایک رات خدا کے حضور بہت رویا
کہ مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہیں
صدا آئی کہ تو نہیں جانتا کہ یہ قوم
دل تو رکھتی ہے محبوب(حضورؐ) نہیں رکھتی

Armaghan Hijaz
ارمغان حجاز

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Lam Yati Nazeeroka Fi Nazarin Missle Tu Na Shud Paida Jana

Lam Yati Nazeeroka Fi Nazarin Missle Tu Na Shud Paida Jana
Jag Raaj Ko Taj Toray Sar So Hai Tuj Ko Shah e dohsara jana

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے چار زبانوں عربی فارسی اُردو ہندی میں یہ نعت لکھی جس کی مثال نہیں ملتی
عربی متن میں کچھ اعراب کی کمی رہ گئی ہے کوشش کر کے دور کر دی جائے گی

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا
سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا
منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا

دریا کا پانی اونچا ہے اور موجیں سرکشی پر ہیں میں بے سروسامان ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والا ہے
بھنورمیں پھنس گیا ہوں ہوا بھی مخلالف سمت ہے آپ میری کشتی کو پار لگا دیں

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا

اے سورج میری اندھیری رات کو دیکھ تو جب طیبہ پہنچے تو میری عرض پیش کرنا
کہ آپ کی روشنی سے سارا جہان منور ہو گیا مگر میری شب ختم ہو کر دن نہ بنی

لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بڑھ کر ہےآپ کی زلف گویا چاند کے گرد ہالہ (پوش)ہے
آپ کے صندل جیسے چہرہ پر زلف کا بادل ہے اب رحمت کی بارش برسا ہی دیں

انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا

میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل ہے،اے زلف پاک اے رحمت کے بادل
برسنے والی بارش کی ہلکی ہلکی دو بوندیں مجھ پر بھی گرا جا

یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

اے قافلہ والوں اپنے ٹھہرنے کی مدت زیادہ کرو میں ابھی حسرت زدہ پیاسا ہوں
میرا دل طیبہ سے جانے کی صدا سن کر گھبرا کر تیز تیز ڈھڑک رہا ہے

وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا

افسوس آپ کی بارگاہ میں حضوری کی گھڑیاں تیزی سے گزر گئی
مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں سفر کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر مدنیہ آ رہا تھا

اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا

دل زخمی اور پریشانیاں اندازے سے زیادہ ہیں،دل فریادی اور چاں کمزور ہے
میراے آقا میں اپنی پریشانیاں کس سے کہوں میری جان آپ کے سوا کون ہے جو میری سنے

اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

میری جان آپ پر فدا ہے،عشق کی چنگاری سے مزید بڑھا دیں
میرا جسم دل اور سامان سب کچھ نچھاور ہو گیا اب اس جان کو بھی جلا دیں

بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

رضا کی شاعری نا تجربہ کاراور قلم کمزور ہے ، میرا طور طریقہ اور انداز ایسا نہیں ہے
دوستوں کے اصرار پر میں نے اس طرح کی راہ اختیار کی یعنی چار زبانوں میں شاعری کی

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Ae Ke Bashi Dar Pe Kasb e Uloom

Ae Ke Bashi Dar Pe Kasb e Uloom
Ba Tu me Goium Payam Pir e Room

علامہ اقبال نے خوبصورت اشعار کی صورت میں حضرت مولانا روم کا مشہور واقعہ قلمبند کیا ہے
جس کے بعد آپ نے درس و تدریس کو چھوڑ کر حضرت شمس تبریزی کی صحبت اختیار کر لی

اے کہ باشی در پے کسب علوم
با تو می گویم پیام پیر روم

اےکہ تو علم حاصل کرنے میں مصروف ہے
کیا تو نے پیر روم کا پیغام بھی سنا ہے

“علم را بر تن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود”

مولانا روم کہتے ہیں کہ
علم کو اگر بدن پر لگایا جائے تو یہ سانپ بن جاتا ہے
لیکن علم کو اگر دل سے جوڑا جائے تو یہ یار بن جاتا ہے

آگہی از قصہ اخوند روم
آں کہ داد اندر حلب درس علوم

تو مولاناروم  کے قصے سے تو واقف ہے
وہ جو روم کہ شہر حلب مین علوم کا درس دیا کرتے تھے

پائے در زنجیر توجیہات عقل
کشتیش طوفانی طلمات عقل

اُن کے پاؤں عقل کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
اُن کی کشتی عقل کی تاریکیوں اور طوفانوں میں گھری ہوئی تھی

موسی ے بیگانہ سینائے عشق
بے خبر از عشق او از سودائے عشق

وہ ایسے موسی تھے جو عشق کے طور سے نا واقف تھا
عشق اور عشق کے طور اطوار سے بے خبر تھے

از تشکک گفت و از اشراق گفت
وز حکم صد گوہر تابندہ سفت

وہ تشکک اور اشراق جیسے  فلسفہ کے موضوعات پر گفتگو فرماتے
علوم کے موتی پروتے اور اس کے حصول پر زور دیتے تھے

عقدہائے قول مشائیں کشود
نور فکرش ہر خفی را وا نمود

اُنہوں نے بہت سے پیچیدہ مسائل کی گھتیاں سلجھائیں
اپنے نور فکر سے علم کا حصول ہر خاص و عام پر آسان کر دیا

گرد و پیشش بود انبار کتب
بر لب او شرح اسرار کتب

اُن کے گرد ہر وقت کتابوں کا ڈھیر ہوتا
ان کے ہونٹوں پر ہر وقت کتابوں کی تشریحات ہوتیں تھیں

پیر تبریزی ز ارشاد کمال
جست راہ مکتب مُلا جلال

حضرت شمس تبریزی اپنے مرشد کے حکم پر
مولاناجلال الدین رومی کے مدرسے پر آئے

گفت “ایں غوغا و قیل و قال چیست
ایں قیاس و وہم و استدلال چیست؟”

کہا کہ یہ شورو شرابہ اور غل غپاڑہ کیا ہے؟
یہ وہم و قیاس ،شک شبہ ،سمجھنا کیا ہے؟

مولوی فرمود “ناداں لب بہ بند
بر ملاقات خرد منداں مخند

مولانا روم نے کہا کہ مولوی چپ ہو جا
تو عقل مندوں کی باتوں کا مذاق نہ اُڑا

پائے خویش از مکتبم بیروں گذار
قیل و قال است ایں ترا باوے چہ کار؟

تو اُلٹے پاؤں میرے مدرسے سے نکل جا
میر ے قول و فعل سے تیرا کوئی لینا دینا نہیں

قال ما از فہم تو بالا تر است
شیشہ ادراک را روشن گر است”
میری باتیں تیری عقل سے اونچی ہیں
یہ عقل کے شیشے کو روشن کرتیں ہیں

سوز شمس از گفتہ ملا فزود
آتشے از جان تبریزی کشود
شمس تبریزی کے سوز کی گرمی مولانا کی باتوں سے بڑھ گئی
ان کی جان میں چھپی آگ ظاہر ہو گئ

بر زمیں برق نگاہ او فتاد
خاک از سوز دم او شعلہ زاد

اُنہوں نے جلال سے بھری آنکھ زمیں پہ ڈالی
ان کے پھونک سے مٹی شعلہ بن گئی

آتش دل خرمن ادراک سوخت
دفتر آں فلسفی را پاک سوخت

دل کی آگ نے عقل و فہم و ادراک کا کھلیان جلا دیا
اس فلسفی کا دفتر جل کر راکھ ہو گیا

مولوی بیگانہ از اعجاز عشق
ناشناس نغمہائے ساز عشق

مولانا روم جو کہ اُس وقت تک عشق کی کرامتوں سے نا واقف تھے
اور عشق کے نغموں اور رازوں سے بھی بے خبر تھے

گفت: “ایں آتش چساں افروختی
دفتر ارباب حکمت سوختی”

بولے کہ تو نے یہ آگ کیسے جلا لی
تو نے ارباب علم و حکمت کا نایاب خزانہ جلا ڈالہ

گفت شیخ اے مسلم زنار دار
ذوق و حال است ایں ترا باوے چہ کار

شمس تبریز بولے کہ اے بظاہر مسلم مگر عملا انکاری
یہ ذوق و شوق اور عشق کی گرمی کہ باعث ہے لیکن تیرا اس سے کوئی کام نہیں

حال ما از فکر تو بالا تر است
شعلہ ما کیمائے احمر است

میرا حال تیری سمجھ سے بالا تر ہے
میرا شعلہ پارس پتھر سونا ہے

Allama Iqbal
علامہ اقبال

—————————————————————
Molvi Hargiz Na Shud Maula E Rum
Ta Ghulam e Shams Tabraizi Na Shud

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد
مولانا روم اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں فقط مولوی تھا
مگر جب حضرت شمس تبریزی کا غلام ہوا تو روم کا سردار ہو گیا۔

—————————————————————

اس واقعہ کے بارے میں حکائت ہے کہ حضرت شمس تبریزی نے حضرت مولانا روم کی کتب پانی کے تالاب میں ڈال دی تھیں۔پھر جب مولانا روم برہم ہوئے تو آپ نے تالاب سے خشک کتابیں نکال دیں۔یہ کرامت دیکھ کہ مولانا روم آپ کے گرویدہ و مرید ہو گئے

Ae Shahid Qudsi Ke Kashd Band e Naqabat

Ae Shahid Qudsi Ke Kashd Band e Naqabat

اے شاہد قدسی کہ کشد بندِ نقابت
وے مرغ بہشتی کہ دہد دانہ و آبت

اے محبوب تیرے رخ سے نقاب کون کھولے گا
اے بہشتی پرندے تجھے کون نورانی رزق پہنچاتا ہے

خوابم بشداز دیدہ درین فکر جگر سوز
کاغوشِ کہ شد منزل آسائش و خوابت

میری نیند اس جگر سوز فکر سے اُڑگئ ہے
کہ تیری منزل و خواب گاہ کہاں ہے اور تو کس کی آغوش میں ہے

درویش نمی پرسی و ترسم کہ نباشد
اندیشہ ء آمرزش و پروائے ثوابت

تو درویشوں اور فقیروں کا حال و احوال نہیں پوچھتا شاید
تجھے سزا و جزا کی پروا نہیں ہے

راہِ دل عشّاق زد آں چشم خماری
پیداست ازیں شیوہ کہ مستت شرابت

تیری مست نگاہ نے عاشقوں کے دلوں میں گزر گاہ بناہ لی ہے
لہزا وہ مست ہو کر راہ سے بھٹک گئے ہیں

تیریکہ زدی بر دلم از غمزہ خطا رفت
تا باز چہ اندیشہ کند رائے صوابت

جو تیر تو نے میرے دل پر چلایا تھا وہ خطا ہو گئا ہے
اب دیکھتے ہیں کہ تو اس بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے

ہر نالہ و فریاد کہ کردم نشیندی
پیداست نگارا کہ بلندست جنابت

میں نے بہت آہ زاری و فریادیں کیں ہیں مگر تو نے نہ سنی
میں جانتا ہوں کہ تیری بارگاہ بہت بلند اور بے نیاز ہے

ای قصرِ دل افروز کہ منزل گہہ اُنسی
یا رب مکناد آفتِ اَیّام خراَبت

یہ تیرا محل دلوں کو محبتیں بانٹنیں والا مرکز ہے
اللہ کرے کہ یہ زمانے کی آفات و بلیات سے محفوظ رہے

دورست سرِ آب ازیں بادیہ ہشدار
تا غولِ بیابان بفریبد بہ سرابت

ہوشیاری سے کام لے پانی کا کنارہ اس صحرا میں بہت دور ہے
کہیں سراب تجھے دھوکا نہ دے دے

رفتی زکنار من دِل خستہ بناکام
تا جائے کہ شد منزل و ماوائے کہ خوابت

تو میرے دل کو مجھ سے چھین کر روانہ ہو گیا ہے
ذرا یہ تو بتا کہ کونسی جگہ پر تیرا پڑاو ہوگا

تا دررَہِ پیری بچہ آئین روی اے دِل
بارے بغلط صرف شد اَیّام شبابت

دیکھتے ہیں کہ بڑھاپے میں یہ دل کس راہ پہ چلتا ہے
جوانی کے ایام تو اُلتے سیدھے کاموں میں صرف کر چکا ہوں

حافظ نہ غلامیست کہ از خواجہ گریزد
لطفے کن و باز آکہ خرابم ز عتابت

حافظ وہ غلام ہی نہیں جو آقا سے بھاگ جائے
اپنے حال پہ رحم کر اور واپس آ کہ تجھ پر مہربانیاں ہوں

Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Ishq Di Navio Navi Bahar

Ishq Di Navio Navi Bahar

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

جاں میں سبق عشق دا پڑھیا
مسجد کولوں جیوڑا ڈریا
ڈیرے جا ٹھاکر دے وڑیا
جتھے وجدے ناد ہَزار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

جاں میں رَمز عشق دی پائی
مَینا طوطا مار گوائی
اندر باہر ہوئی صفائی
جِت وَل ویکھاں یارو یار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

ہیر رانجھے دے ہو گئے میلے
بھُلّی مہر ڈھوڈیندی بیلے
رانجھا یار بُکّل وِچ کھیلے
مینوں سدھ رہی نہ سار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

وید قرآناں پڑھ پڑھ تھکے
سجدے کردیاں گھس گئے متھے
نہ رب تیرتھ نہ رب مکّے
جس پایا تس نور اَنوار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

پُھوک مصلّٰی بھن سٹ لوٹا
نہ پھڑ تسبیح عاصا سوٹا
عاشق کیہندے دے دے ہوکا
ترک حلالوں کھا مردار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

عمر گوائی وچ مسیتی
اندر بھریا نال پلیتی
کدے نماز توحید نہ نیتی
ہن کی کرنائیں شور پُکار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

عشق بُھلایا سجدہ تیرا
ہن کیوں اینویں پاویں جھیڑا
بلھا ہوندا چپ بتیرا
عشق کریندا مارو مار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

Bulleh Shah
بلھے شاہ

ilmon Bas Kareen o Yaar Eko Alaf tere Darkar

ilmon Bas Kareen o Yaar Eko Alaf tere Darkar

علموں بس کریں او یار
اِکّو اَلف تیرے دَرکار

علم نہ آوے وچ شمار
اِکّو اَلف تیرے دَرکار
جاندی عمر نہیں اَتبار
علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ لکھ لکھ لاویں ڈھیر
ڈھیر کتاباں چار چُفیر
گردے چانن وچ اَنھیر
پچھو راہ ؟ تے خبر نہ سار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ شیخ مشایخ ہویا
بھر بھر پیٹ نِیندر بھر سویا
جاندی وار نین بھر رویا
ڈبا وچ اُرار نہ پار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ شیخ مشایخ کہاویں
الٹے مسئلے گھروں بناویں
بے علماں نوں لٹ لٹ کھاویں
چھوٹھے سچے کریں اِقرار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں
اُچیاں بانگاں چانگاں ماریں
منبر تے چڑھ واعظ پکاریں
کیتا تینوں علم خوار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ مُلاں ہوئے قاضی
اللہ علماں باجھوں راضی
ہووے حرص دنوں دن تازی
تینوں کیتا حرص خوار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ مسئلے روز سناویں
کھانا شک شبہے دا کھاویں
دسے ہور تے ہور کماویں
اندر کھوٹ ، باہر سچیار

علموں بس کریں او یار

پڑھ پڑھ علم نجوم وَچارے
گندا راساں بُرج ستارے
پڑھے عزیمتاں منتر چھاڑے
اَبجد گنے تعویذ شمار

علموں بس کریں او یار

علموں پئے قضّئے ہور
اَکھیں والے انھّے کور
پھڑے سادھ تے چھڈے چور
دوہیں جہانیں ہویا خوار

علموں بس کریں او یار

علموں پئےہزاراں پھستے
تمبا چُک چُک منڈی جاویں
دھیلا لَے کے چُھری چَلاویں
نال قصَائیاں بوہتا پیار

علموں بس کریں او یار

بوہتا علم عزازیل نے پڑھیا
جُھگا جھاہا اوس دا سَڑیا
گل وچ طوق لعنت دا پَڑیا
آخر گیا اوہ بازی ہار

علموں بس کریں او یار

جد میں سبق عشق دا پڑھیا
دریا ویکھ وَحدت دا وڑیا
گھمن گھیراں دے وچ اَڑیا
شاہ عنائت لایا پار

علموں بس کریں او یار

بلّھا رافضی نہ ہے سنی
عالم فاضل نہ عامل جُنّی
اِکو پڑھیا علم لدّنی
واحد اَلف میم دَرکار

علموں بس کریں او یار

Bulleh Shah
بلھے شاہ