Char Yaar Rasool Dai Char Gohar Ek Thi Ek Charheendray Nain

Char Yaar Rasool Dai Char Gohar Ek Thi Ek Charheendray Nain

چار یار رسول دے چار گوہر سبّھے اِک تھیں اک چَڑہیندڑے نیں
ابوبکرؓ  تے عمرؓ عثمانؓ علیؓ آپو اپنے گُنیں سوہندڑے نیں
جنہاں صِدق یقین تحقیق کِیتا راہ رب دے سِیس وکنیدڑے نیں
ذوق چھڈ کے جنہاں نے زُہد کِیتا واہ واہ اُوہ رب دے بنّدڑے نیں

حضورؐ کے چار یار چار گوہر ہیں،ہر ایک ایک سے بڑھ کر ہے
ابو بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و علیؓ کے اوصاف حمیدہ بہت خوب ہیں
جنہوں نے صدق دل سے تحقیق کی وہ رب کے سرفروش کہلائے
اجروثواب کے لالچ کے بغیرجو عبادت کرتے ہیں وہی رب کے مقبول بندے ہیں

سید وارث شاہ
Waris Shah

Sey Rozay Sey Nafal Namazan Sey Sajday Ker Ker Thakey Ho

Sey Rozay Sey Nafal Namazan Sey Sajday Ker Ker Thakey Ho

سے روزے سے نفل نمازاں ، سے سجدے کر کر تھکّے ہو
سے واری مکے حج گزارن دل دی دوڑ نہ مکّے ہُو
چلے چلیئے ،جنگل بھوناں ، اس گل تھیں نہ پکے ہُو
سبھے مطلب حاصل ہوندے باہو جد پیر نظر اک تکے ہُو

سینکڑوں روزے ،ہزاروں نوافل اور سجدے کر کر تھک گئے
سو بار مکے جا کر حج بھی کیا مگر دل بے قرار کی بھاگ دوڑ ختم نہ ہوئی
چلّے کئے ، جنگل گھومے لیکن مراد حاصل نہ ہوئی
باہو سارے مطلب حاصل ہو جاتے ہیں جب پیر اک نظر دیکھتا ہے

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Doee Naat Rasool Maqbool Waali Jeen Dai Haq Nazool Lolak Keeta

Doee Naat Rasool Maqbool Waali Jeen Dai Haq Nazool Lolak Keeta

دوئی نعت رسول مقبول والی جیں دے حق نزُول لولاک کِیتا
خاکی آکھ کے مرتبہ وَڈا دِتّا سبھ خلق دے عیب تھِیں پاک کِیتا
سرور ہوئے کے اَولیاں انبیاں دا اگّے حق دے آپ نُوں خاک کِیتا
کرے اُمتی اُمتی روز محشر خوشی چَھڈ کے جیئو غمناک کِیتا

دوسرے درجے پر رسول مقبول کی تعریف کریں جن کے لئے حدیث لولاک آئی
لولاک لما خلقت الا فلاک اے محمد اگر آپ نہ ہوتے توہم زمین و آسماں پیدا نہ کرتے
آپ کو خاکی کہ کر مرتبہ بہت بڑا دیا اور جملہ خلق کے عیبوں سے پاک رکھا
آپؐ نے انبیا و اولیا کا سردار ہونے کے باوجود رب کی بارگاہ میں خود کو عاجز رکھا
روز محشر اُپؐ امتی امتی پکاریں گے اپنی خوشی بھول کر بیقرار اور مضطر ہوں گے

سید وارث شاہ
Waris Shah

Man Ke Basham Az Bahar e Jalwa e Dildar Mast

Man Ke Basham Az Bahar e Jalwa e Dildar Mast
Choon Maney Naid Nazar Dar Khana Khumaar Mast

 

 من کہ باشم از بہار جلوہ دلدار مست
چون منے ناید نظر در خانہ خمار مست

میں تو دلدار کے جلوے کی بہار سے مست ہوں
میخانے میں میری طرح کا مست نظر نہیں آتا

مے نیاید در دلش انگار دنیا ہیچ گاہ
زاہدا ہر کس کہ باشد از ساغر سرشار مست

شراب کے آنے سے دل میں دنیا کی قدر ختم جاتی ہے
اے زاہد جو کوئی بھی ساغر سرشار سے مست ہو

جلوہ مستانہ کر دی دور ایام بہار
شد نسیم و بلبل و نہر و گلزار مست

تو نے بہار کے دنوں میں اپنا جلوہ مستانہ دکھایا
جس کی وجہ سے ہوا و بلبل ، نہر و پھول و باغ سبھی مست ہو گئے

من کہ از جام الستم مست ہر شام کہ سحر
در نظر آید مرا ہر دم درو دیوار مست

میں تو روز ازل سے جام الست سے مست ہوں اور ہر صبح و شام
درودیوار ہر لمحے مجھے مست نظر آتے ہیں

چون نہ اندر عشق او جاوید مستیہا کنیم
شاہد مارا بود گفتار و ہم رفتار مست

میں کیوں اس کے عشق میں مستیاں نہ کروں
جب کہ محبوب کہ رفتار و گفتار دونوں ہی مست ہیں

تا اگر راز شما گوید نہ کس پروا کند
زین سبب باشد شمارا محرم اسرار مست

اگر راز کو ظاہر کر بھی دیا جائے تو پروا نہیں
کیونکہ محرم راز بھی مست ہے

غافل از دنیا و دین و جنت و نار است او
در جہان ہر کس کہ میباشد قلندر وار مست

وہ دنیا و دین و جنت و دوزخ سے بے پرواہ ہوتا ہے
جو کوئی بھی اس جہان میں قلندر کہ طرح مست ہو

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Asan So Bad Mast Qalandar houn

Asan So Bad Mast Qalandar houn
Kadin Masjid Houn Kadi Mandir Houn

اساں سو بد مست قلندر ہوں
کڈیں مسجد ہوں کڈیں مندر ہوں

ہم وہ سرقسمت قلندر ہیں جو
کبھی مسجد میں ہیں کبھی مندر میں ہیں

کڈیں چور بنوں کڈیں جار بنوں
کڈیں توبہ استغفار بنوں
کڈیں زہد عبادت کار بنوں
کڈیں فسق فجوریں اندر ہوں

کبھی چور بنیں بدکار بنیں
کبھی توبہ اسغفار کہیں
کبھی زاہد عابد نیک بنیں
کبھی فسق فجور کے اندر ہیں

کِتھاں درد کِتھاں درمان بنوں
کتھاں مصر کتھاں کنعان بنوں
کتھاں کیچ بھنبھور دا شان بنوں
کتھاں واسی شہر جلندر ہوں

کہیں درد کہیں درمان بنیں
کبھی مصر، کبھی کنعان بنیں
کہیں کیچ،بھنبھور کا شان بنیں
کبھی اندر شہر جا لندھر ہیں

کتھاں صومعہ دیر کنشت کِتھاں
کتھے دوزخ باغ بہشت کِتھاں
کتھے عاصی نیک سرشت کِتھاں
کِتھے گمرہ ہوں کِتھے رہبر ہوں

کبھی خانقاہ کبھی بت خانہ
کبھی گرجا میں کبھی مسجد میں
کبھی دوزخ میں کبھی جنت میں
کبھی عاصی ہیں کبھی زاہد ہیں
کہیں گمراہ ہیں کہیں راہبر ہیں

ہیوں او قلاش تے رند اساں
پئی نودی ہے ہند سندھ اساں
ہیوں بے شک عارف چند اساں
کل راز رموز دے دفتر ہوں

ہم تو وہ بے مایہ مست الست ہیں کہ
کائنات ہمارے سامنے سرنگوں ہے
ہم بلا شک و شبہ عارف کامل ہیں
اور اسرار و رموز الہی کے ماہر ہیں

ہن ناز نواز دے ٹول کڈیں
ہے مونجھ منجھاری کول کڈیں
رلے ڈھول کڈیں گیا رول کڈیں
کڈیں بر در ہوں کڈیں در بر ہوں

کبھی نازنیں کبھی ناز آفریں
کبھی پرحزن وملال کبھی اندوہگیں
کبھی قریب دوست کبھی بعید دوست
کبھی در پر ہیں کبھی اندر ہیں

ول واتوں سمجھ فرید الا
کر محض نہ شعر جدید ولا
ہے چالوں حال پدید بھلا
تونے کیجو سارے ابتر ہوں

فرید منہ سنبھال کر بات کر
ایسے اشعار پھر نہ کہنا
ہماری کیفیت تو ہمارے انداز سے ظاہر ہے
کیا ہوا اگر بدحال ہیں

خواجہ غلام فرید
Khawaja Ghulam Farid

ترجمہ تحقیق تصحیح
خواجہ طاہر محمود کوریجہ