Naseema Janib e Bat-HA Guzar Kun

Naseema Janib e Bat-hA Guzar Kun
Ze Ehwalam Muhammad Ra Khabar Kun

نسیما ! جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کن

اے صبا بطحا کی طرف چل
میرے احوال حضورؐ کو سنا

O morning breeze! set out towards Bat’haa,”
Inform Muhammad of my plight

ببریں جانِ مشتاقم بہ آں جا
فدائے روضہ خیر البشر کُن

میری بے تاب جان کو اُس جگہ لے جا
تا کہ یہ حضور کے روضہ اقدس پر نثار ہو جائے

Take me to that place so that
I sacrifice my life at the shrine of Muhammad (best of mankind)

توئی سلطان عالم یا محمد
زروئے لطف سوئے من نظر کن

یا رسول اللہ آپ ہی دونوں جہان کے سلطان ہیں
آپ نگاہ کرم مجھ پر ڈالیں

Muhammad ; You, who are the Emperor of both worlds
Cast your graceful, blessed glance towards me

مشرف گرچہ شد جامی زلطفش
خدایا ! ایں کرم با ر دگر کن

جامی اگرچہ آپؐ کے لطف سے محظوظ ہو گیا
یا اللہ یہ کرم بار بار ہو

Although you have showered your grace on Jami
In God’s name, grant him this favor once again.

مولانا عبدالرحمن جامی
Molana Abdur Rehman Jami

Mein koji Mera Dilbar Sohna Mein Kyunkar us Noon Bhawaan Hoo

Mein koji Mera Dilbar Sohna Mein Kyunkar us Noon Bhawaan Hoo

میں کوجی میرا دلبر سوہنا ، میں کیونکر اس نوں بھانواں ہُو
ویہڑے ساڈے وڑدا ناہیں پئی لکھ وسیلے پانواں ہُو
ناں میں سوہنی ناں دولت پلّے ، کیوں کر یار مناواں ہُو
ایہہ دکھ ہمیشاں رہسی باہو روندڑی ہی مر جاواں ہُو

میں بد صورت ہوں میرا محبوب نہائت حسین ہے ، میں کس طرح سے اس کو پسند آ سکتی ہوں
میرے گھر میں وہ قدم نہیں رکھتا میں نے لاکھوں تدبیریں کیں ہیں
نہ تو میں حوبصورت ہوں نہ ہی مال و دولت ہے میں کیسے محبوب کو مناوں
باہو یہ دکھ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ رو رو کر مر جاؤں

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Khizaan Ke Marey Huwe Janib e Bahar Chale

Khizaan Ke Marey Huwe Janib e Bahar Chale
Qarar Pane Zamaney Ke Be Qarar Chale

خزاں کے مارے ہوئے جانب بہار چلے
قرار پانے زمانے کے بے قرار چلے

وہ راہیں مہکیں وہ کوچے بھی عطر بیز ہوئے
جدھر جدھر سے وہ محبوب کرد گار چلے

اے تاجدارِ جہاں اے حبیب ربِ کریم
وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

وہیں پہ تھام لیا اُن کو دست قدرت نے
نبیؐ کے در کی طرف جب گناہگار چلے

جھکا کے اپنی جبیں اُن کے آستانے پر
نصیب بگڑا ہوا تھا اسے سنوار چلے

ہمارے پاس ہی کیا تھا جو نذر کرتے انہیں
بس ایک دل تھا جسے کر کے ہم نثار چلے

ریاض عظمت نعلین مصطفےٰ کی قسم
سروں پہ رکھتے ہوئے اس کو تاجدار چلے

ریاض اُن کے کرم سے ہوئی ہے جیت اپنی
وگرنہ بازی تھے ہم زندگی کی ہار چلے

علامہ سید ریاض الدین سہروردی
Syed Riaz uddin Soharwardi

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha
Kahin Zaahir Kahin Chhupa Daikha

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں
کہیں کاسا لیئے گدا دیکھا

کر کے دعویٰ اناالحق کا
برسر دار وہ کھنچا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشوقہ
بر سر ناز و ادا دیکھا

صورت گل میں کھلکھلا کہ ہنسا
شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریان و دل جلا دیکھا

Hazrat Shah Niaz
حضرت شاہ نیاز