Beeni Jahan Ra Khud Ra Na Beeni

Beeni Jahan Ra Khud Ra Na Beeni
Ta Chand Nadaan Ghafil Nasheeni

بینی جہاں را خود را نہ بینی
تا چند ناداں غافل نشینی

تو جہان کو دیکھتا ہے ، اپنے آپ کو نہیں دیکھتا
اے نا سمجھ تو کب تک غفلت میں بیٹھا رہے گا

نور قدیمی شب را بر افروز
دست کلیمی در آستینی

تو ایک قدیم نور ہے، رات کو روشن کر
تیری آستین میں تو کلیم کا ہاتھ ہے

بیروں قدم نہ از دورِ آفاق
تو پیش آزینی تو بیش ازینی

تو اس کائنات سے باہر قدم رکھ
تو اس سے آگے کی چیز ہے تری قدروقیمت بھی اس سے زیادہ ہے

از مرگ ترسی اے زندہ جاوید؟
مرگ است صیدے تو در کمینی

کیا تو موت سے ڈرتا ہےاے ہمیشہ رہنے والے
موت تو خود تیری کمین گاہ کا شکار ہے

جانے کہ بخشند دیگر نگیرند
آدم بمیرد از بے یقینی

زندگی (جان)تو خدا کا عطیہ ہے جو واپس نہیں لیا جاتا
آدمی تو اپنی بے یقینی کی وجہ سے مر جاتا ہے

صورت گری را از من بیا موز
شاید کہ خود را باز آفرینی

مجھ سے مصوری کا فن سیکھ
عجب نہیں کہ تو اپنے آپ کو تعمیر کر لے

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

azkalam.com © 2019 | Privacy Policy | Cookies | DMCA Policy