Lam Yati Nazeeroka Fi Nazarin Missle Tu Na Shud Paida Jana

Lam Yati Nazeeroka Fi Nazarin Missle Tu Na Shud Paida Jana
Jag Raaj Ko Taj Toray Sar So Hai Tuj Ko Shah e dohsara jana

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا نے چار زبانوں عربی فارسی اُردو ہندی میں یہ نعت لکھی جس کی مثال نہیں ملتی
عربی متن میں کچھ اعراب کی کمی رہ گئی ہے کوشش کر کے دور کر دی جائے گی

لَم یَاتِ نَظیرُکَ فِی نَظَر مثل تو نہ شد پیدا جانا
جگ راج کو تاج تورے سر سوہے تجھ کو شہ دوسرا جانا

آپ کی مثل کسی آنکھ نے نہیں دیکھا نہ ہی آپ جیسا کوئی پیدا ہوا
سارے جہان کا تاج آپ کے سر پر سجا ہے اور آپ ہی دونوں جہانوں کے سردار ہیں

اَلبحرُ عَلاَوالموَجُ طغےٰ من بیکس و طوفاں ہوشربا
منجدہار میں ہوں بگڑی ہے ہواموری نیا پار لگا جانا

دریا کا پانی اونچا ہے اور موجیں سرکشی پر ہیں میں بے سروسامان ہوں اور طوفان ہوش اُڑانے والا ہے
بھنورمیں پھنس گیا ہوں ہوا بھی مخلالف سمت ہے آپ میری کشتی کو پار لگا دیں

یَا شَمسُ نَظَرتِ اِلیٰ لیَلیِ چو بطیبہ رسی عرضے بکنی
توری جوت کی جھلجھل جگ میں رچی مری شب نے نہ دن ہونا جانا

اے سورج میری اندھیری رات کو دیکھ تو جب طیبہ پہنچے تو میری عرض پیش کرنا
کہ آپ کی روشنی سے سارا جہان منور ہو گیا مگر میری شب ختم ہو کر دن نہ بنی

لَکَ بَدر فِی الوجہِ الاجَمل خط ہالہ مہ زلف ابر اجل
تورے چندن چندر پروکنڈل رحمت کی بھرن برسا جانا

آپ کا چہرہ چودھویں کے چاند سے بڑھ کر ہےآپ کی زلف گویا چاند کے گرد ہالہ (پوش)ہے
آپ کے صندل جیسے چہرہ پر زلف کا بادل ہے اب رحمت کی بارش برسا ہی دیں

انا فِی عَطَش وّسَخَاک اَتَم اے گیسوئے پاک اے ابرِ کرم
برسن ہارے رم جھم رم جھم دو بوند ادھر بھی گرا جانا

میں پیاسا ہوں اور آپ کی سخاوت کامل ہے،اے زلف پاک اے رحمت کے بادل
برسنے والی بارش کی ہلکی ہلکی دو بوندیں مجھ پر بھی گرا جا

یَا قاَفِلَتیِ زِیدَی اَجَلَک رحمے برحسرت تشنہ لبک
مورا جیرا لرجے درک درک طیبہ سے ابھی نہ سنا جانا

اے قافلہ والوں اپنے ٹھہرنے کی مدت زیادہ کرو میں ابھی حسرت زدہ پیاسا ہوں
میرا دل طیبہ سے جانے کی صدا سن کر گھبرا کر تیز تیز ڈھڑک رہا ہے

وَاھا لسُویعات ذَھَبت آں عہد حضور بار گہت
جب یاد آوت موہے کر نہ پرت دردا وہ مدینہ کا جانا

افسوس آپ کی بارگاہ میں حضوری کی گھڑیاں تیزی سے گزر گئی
مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں سفر کی تکالیف کی پرواہ کئے بغیر مدنیہ آ رہا تھا

اَلقلبُ شَح وّالھمُّ شجوُں دل زار چناں جاں زیر چنوں
پت اپنی بپت میں کاسے کہوں مورا کون ہے تیرے سوا جانا

دل زخمی اور پریشانیاں اندازے سے زیادہ ہیں،دل فریادی اور چاں کمزور ہے
میراے آقا میں اپنی پریشانیاں کس سے کہوں میری جان آپ کے سوا کون ہے جو میری سنے

اَلروح فداک فزد حرقا یک شعلہ دگر برزن عشقا
مورا تن من دھن سب پھونک دیا یہ جان بھی پیارے جلا جانا

میری جان آپ پر فدا ہے،عشق کی چنگاری سے مزید بڑھا دیں
میرا جسم دل اور سامان سب کچھ نچھاور ہو گیا اب اس جان کو بھی جلا دیں

بس خامہ خام نوائے رضا نہ یہ طرز میری نہ یہ رنگ مرا
ارشاد احبا ناطق تھا ناچار اس راہ پڑا جانا

رضا کی شاعری نا تجربہ کاراور قلم کمزور ہے ، میرا طور طریقہ اور انداز ایسا نہیں ہے
دوستوں کے اصرار پر میں نے اس طرح کی راہ اختیار کی یعنی چار زبانوں میں شاعری کی

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Sona Jungle Raat Andheri Chai Badli Kaali Hai

Sona Jungle Raat Andheri Chai Badli Kaali Hai
Sone Walon Jagte Rahiyo Choron Se Rakhwali Hai

سونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے
سونے والوں جاگتے رہیو چوروں سے رکھوالی ہے

آنکھ سے کاجل صاف چرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں
تیری گٹھری تاکی ہے اور تو نے نیند نکالی ہے

یہ جو تجھ کو بلاتا ہے یہ ٹھگ ہے مار ہی رکھے گا
ہائے مسافر دم میں نہ آنا مت کیسی متوالی ہے

سونا پاس ہے سونا بن ہے سونا زہر ہے اُٹھ پیارے
تو کہتا ہے میٹھی نیند ہے تیری مت ہی نرالی ہے

آنکھیں ملنا جھنجلا پڑنا لاکھوں جمائی انگڑائی
نام پر اُٹھنے کے لڑتا ہے اٹھنا بھی کوئی گالی ہے

جگنو چمکے پتا کھڑکے مجھ تنہا کا دل دھڑکے
ڈر سمجھائے کوئی پون ہے یا اگیابیتالی ہے

بادل گرجے بجلی چمکے دھک سے کلیجہ ہو جائے
بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے

پاؤں اٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ
مینہ نے پھسلن کردی ہے اور دھڑ تک کھائی نالی ہے

ساتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے
پھر جھنجلا کر سردے پٹکوں چل رے مولی والی ہے

پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں
ہاں اک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے

تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو
دیکھو مجھ بیکس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے

دنیا کو تو کیا جانےیہ بس کی گانٹھ ہے حرافہ
صورت دیکھو ظالم کی تو کیسی بھولی بھالی ہے

شہد دکھائے زہر پلائے قاتل ڈائن شوہر کش
اس مردار پہ کیا للچانا دنیا دیکھی بھالی ہے

وہ تو نہائت سستا سودا بیچ رہے ہیں جنت کا
ہم مفلس کیا مول چکائیں اپنا ہاتھ ہی خالی ہے

مولی تیرے عفو و کرم ہوں میرے گواہ صفائی کے
ورنہ رضا سے چور پہ تیری ڈگری تو اقبالی ہے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Ham Khak Hain Aur Khak Hi Mawa Hai Hamara

Ham Khak Hain Aur Khak Hi Mawa Hai Hamara
Khaki Tu Woh Aadam Jad e Aala Hai Hamara

ہم خاک ہیں اور خاک ہی ماویٰ ہے ہمارا
خاکی تو وہ آدم جد اعلیٰ ہے ہمارا

اللہ ہمیں خاک کرے اپنی طلب میں
یہ خاک تو سرکار سے تمغا ہے ہمارا

جس خاک پہ رکھتے تھے قدم سید عالم
اس خاک پہ قرباں دل شیدا ہے ہمارا

خم ہو گئی پشت فلک اس طعن زمیں سے
سن! ہم پہ مدینہ ہے وہ رتبہ ہے ہمارا

اس نے لقب خاک شہنشاہ سے پایا
جو حیدر کرار کہ مولے ہے ہمارا

اے مدعیو! خاک تو تم خاک نہ سمجھے
اس خاک میں مدفوں شہ بطحا ہے ہمارا

ہے خاک سے تعمیر مزار شہ کونین
معمور اسی خاک سے قبلہ ہے ہمارا

ہم خاک اُڑائیں گے جو وہ خاک نہ پائی
آباد رضا جس پہ مدینہ ہے ہمارا

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Eeman Hai Qaal e Mustafai Quran Hai Haal e Mustafai

Eeman Hai Qaal e Mustafai
Quran Hai Haal e Mustafai

ایمان ہے قال مصطفائی ﷺ
قرآن ہے حال مصطفائیﷺ

اللہ کی سلطنت کا دولہا
نقش تمثال مصطفائیﷺ

کل سے بالا رسل سے اعلی
اجلال و جلال مصطفائیﷺ

ادبار سے تو مجھے بچا لے
پیارے اقبال مصطفائیﷺ

مرسل مشتاق حق ہیں اور حق
مشتاق وصال مصطفائیﷺ

خواہان وصال کبریا ہے
جویان جمال مصطفائیﷺ

محبوب و محب کی ملک ہے اک
کونین ہیں مال مصطفائیﷺ

اللہ نہ چھوٹے دست دل سے
دامان خیال مصطفائیﷺ

ہیں تیرے سپرد سب امیدیں
اے جودو نوال مصطفائیﷺ

روشن کر قبر بیکسوں کی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

اندھیر ہے بے تیرے میرا گھر
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

مجھ کو شب غم ڈرا رہی ہے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

آنکھوں میں چمک کے دل میں آجا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

مری شب تار دن بنا دے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

چمکا دے نصیب بد نصیباں
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

قزاق ہیں سر پہ راہ گم ہے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

چھایا آنکھوں تلے اندھیرا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

دل سرد ہے اپنی لو لگا دے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

گھنگور گھٹائیں غم کی چھائیں
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

بھٹکا ہوں تو راستہ بتا جا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

فریاد دباتی ہے سیاہی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

میرے دل مردہ کو جلا دے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

آنکھیں تیری راہ تک رہی ہیں
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

دکھ میں ہیں اندھیری رات والے
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

تاریک ہے رات غمزدوں کی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

تاریکی گور سے بچانا مجھ کو
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

پُر نور ہے تجھ سے بزم عالم
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

ہم تیرہ دلوں پہ بھی کرم کر
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

للہ ادھر بھی کوئی پھیرا
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

تقدیر چمک اُٹھے رضا کی
اے شمع جمال مصطفائیﷺ

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Hirz e Jaan Zikr Shafaat Kijiye Naar Se Bachne Ki Soorat Kijiye

Hirz e Jaan Zikr Shafaat Kijiye
Naar Se Bachne Ki Soorat Kijiye

حرز جاں ذکر شفاعت کیجیے
نار سے بچنے کی صورت کیجیے

اُن کے نقش پا پہ غیرت کیجیے
آنکھ سے چھپ کر زیارت کیجیے

اُن کے حسن ملاحت پر نثار
شیرہ جاں کی حلاوت کیجیے

اُن کے در پر جیسے ہو مٹ جایئے
ناتوانو ! کچھ تو ہمت کیجیے

پھیر دیجیے پنجہ دیو لعیں
مصطفے کے بل پہ طاقت کیجیے

ڈوب کر یادِ لبِ شاداب میں
آب کوثر کی سباحت کیجیے

یاد قامت کرتے اٹھیے قبر سے
جانِ محشر پر قیامت کیجیے

اُن کے در پر بیٹھے بن کر فقیر
بے نواؤ فکر ثروت کیجیے

جس کا حسن اللہ کو بھی بھا گیا
ایسے پیارے سے محبت کیجیے

حی باقی جس کی کرتا ہے ثنا
مرتے دم تک اس کی مدحت کیجیے

عرش پر جس کی کمانیں چڑھ گیئں
صدقے اس بازو پہ قوت کیجیے

نیم وا طیبہ کے پھولوں پر ہو آنکھ
بلبلو ! پاس نزاکت کیجیے

سر سے گرتا ہے ابھی بار گناہ
خم ذرا فرق ارادت کیجیے

آنکھ تو اُٹھتی نہیں کیا دیں جواب
ہم پہ بے پرسش ہی رحمت کیجیے

عذر بد تر از گنہ کا ذکر کیا
بے سبب ہم پر عنائت کیجیے

نعرہ کیجیے یا رسول اللہ کا
مفلسو ! سامان دولت کیجیے

ہم تمھارے ہو کے کس کے پاس جائیں
صدقہ شہزادوں کا رحمت کیجیے

مَن رَانِی قَد رَای الحق جو کہے
کیا بیاں اس کی حقیقت کیجیے

عالم علم دو عالم ہیں حضور
آپ سے کیا عرض حاجت کیجیے

آپ سلطان جہاں ہم بے نوا
یاد ہم کو وقت نعمت کیجیے

تجھ سے کیا کیا اے مرے طیبہ کے چاند
ظلمت گم کی شکائت کیجیے

در بدر کب تک پھریں خستہ خراب
طیبہ میں مدفن عنائت کیجیے

ہر برس وہ قافلوں کی دھوم دھام
آہ سینے اور غفلت کیجیے

پھر پلٹ کر منہ نہ اُس جانب کیا
سچ ہے اور دعوائے الفت کیجیے

اقرب حب وطن بے ہمتی
آہ کس کس کی شکائت کیجیے

اب تو آقا منہ دکھانے کا نہیں
کس طرح رفع ندامت کیجیے

اپنے ہاتھوں خود لٹا بیٹھے ہیں گھر
کس پہ دعوائے بضاعت کیجئے

کس سے کہیے کیا کیا کیا ہو گیا
خود ہی اپنے پَر ملامت کیجیے

عرض کا بھی اب تو منہ پڑتا نہیں
کیا علاج درد فرقت کیجئے

اپنی اک میٹھی نظر کے شہد سے
چارہ زہر مصیبت کیجئے

دے خدا ہمت کہ یہ جان حزیں
آپ پر واریں وہ صورت کیجئے

آپ ہم سے بڑھ کے ہم پر مہرباں
ہم کریں جرم آپ رحمت کیجئے

جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا
یاد اس کی اپنی عادت کیجئے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Gham Ho Gaye Be Shumar Aaqa

Gham Ho Gaye Be Shumar Aaqa
Banda Tere Nisaar Aaqa

غم ہو گئے بے شمار آقا
بندہ تیرے نثار آقا

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا
آقا آقا سنوار آقا

منجدھار پہ آکے ناؤ ٹوٹی
دے ہاتھ کہ ہوں میں پار آقا

ہلکا ہے اگر ہمارا پلہ
بھاری ہے ترِا وقار آقا

مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے
تم کو تو ہے اختیار آقا

میں دور ہوں تم تو ہو میرے پاس
سن لو میری پکار آقا

مجھ سا کوئی غم زدہ نہ ہوگا
تم سا نہیں غم گسار آقا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی
ڈوبا ، ڈوبا ،اتار آقا

تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے
میں وہ کہ بدی کو عار آقا

پھر منہ نہ پڑے کبھی خزاں کا
دے دے ایسی بہار آقا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے
میرا ہے وہ نامدار آقا

ہے ملک خدا پہ جس کا قبضہ
میرا ہے وہ کامگار آقا

سویا کئے نابکار بندے
رویا کئے زار زار آقا

کیا بھول ہے کہ انکے ہوتے کہلائیں
دنیا کہ یہ تاجدار آقا

اُن کے ادنی گدا پہ مٹ جایئں
ایسے ایسے ہزار آقا

بے ابر کرم کے میرے دھبے
لاَ تَغسِلھَا البحَار آقا

آپ کے کرم کی بارش کے بغیر میرے گناہوں
کے داغ سمندروں کے پانی سے نہیں دھل سکتے

اتنی رحمت رضا پہ کر لو
لا یقروبہ البوار آقا

اتنی رحمت رضا پہ کر دیں کہ
بربادی و ہلاکت رضا کے قریب نہ آئے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Pul Se Utaro Rah Guzar Ko Khabar Na ho

Pul Se Utaro Rah Guzar Ko Khabar Na ho
Jibrail Par Bechaain Tu Par Ko Khabar Na Ho

پل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھایئں تو پر کو خبر نہ ہو

کانٹا مرے جگر سے غم روزگار کا
یوں کھینچ لیجیے کہ جگر کو خبر نہ ہو

فریاد امتی جو کرے حال زار میں
ممکن نہیں کہ خیر بشر کو خبر نہ ہو

کہتی تھی یہ براق سے اس کی سبک روی
یوں جائیے کہ گرد سفر کو خبر نہ ہو

فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردار دو جہاں
اے مرتضٰی عتیق و عمر کو خبر نہ ہو

گما دے ان کی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو

آدل حرم سے روکنے والوں سے چھپ کے آج
یوں اٹھ چلیں کہ پہلو و بر کو خبر نہ ہو

طیر حرم ہیں یہ کہیں رشتے بپا نہ ہوں
یوں دیکھیے کہ تار نظر کو خبر نہ ہو

اے خار طیبہ دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یوں دل میں آ کہ دیدہ تر کو خبر نہ ہو

اے شوق دل یہ سجدہ گر ان کو روا نہیں
اچھا وہ سجدہ کیجیے کہ سر کو خبر نہ ہو

ان کے سوا رضا کو ئی حامی نہیں جہاں
گزرا کرے پسر پہ پدر کو خبر نہ ہو

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Rukh Din Hai Ya Meher Sama Yeh Bhi Nahin Woh Bhi Nahin

Rukh Din Hai Ya Meher Sama Yeh Bhi Nahin Woh Bhi Nahin
Shab Zulf Ya MushKe Khata Yeh Bhi Nahin Woh Bhi Nahin

رُخ دن ہے یا مہر سما ء یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
شب زلف یا مشک ختا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ممکن میں یہ قدرت کہاں واجب میں عبدیت کہاں
حیراں ہوں یہ بھی خطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

حق یہ کہ ہیں عبد الہ اور عالم امکاں کے شاہ
برزخ ہیں وہ سر خدایہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

بلبل نے گل ان کو کہاقمری نے سروجان فزا
حیرت نے جھنجھلا کر کہا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

خورشید تھا کس زور پر کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر
بے پردہ جب وہ رح ہوا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا اب ہو گی یا روز جزا
دی ان کی رحمت نے صدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

کوئی ہے نازاں زہد پر یا حسن توبہ ہے سپر
یاں ہے فقط تیری عطا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

دن لہو میں کھونا تجھے شب صبح تک سونا تجھے
شرم نبی خوف خدا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

رزق خدا کھایا کیا فرمان حق ٹالا کیا
شکر کرم ترس سزا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

ہے بلبل رنگیں رضا یا طوطی نغمہ سرا
حق یہ کہ واصف ہے تیرایہ بھی نہیں وہ بھی نہیں

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Ya Elahi Har Jaga Teri Ata Ka Saath Ho

Ya Elahi Har Jaga Teri Ata Ka Saath Ho
Jab Paray Mushkil Shah e Muskil Kusha Ka Saath Ho

 یا الہٰی  ہر   جگہ تیری عطا کا ساتھ ہو
جب پڑے مشکل شہ مشکل کشا کا ساتھ ہو

یا الہٰی بھول جاؤں نزع کی تکلیف کو
شادی دیدار حسن مصطفی کا ساتھ ہو

یا الہیٰ گور تیرہ کی آئے جب سخت رات
ان کے پیارے منہ کی صبح جانفزا کا ساتھ ہو

یا الہٰی جب پڑے محشر میں شور داروگیر
امن دینے والےپیارے پیشوا کا ساتھ ہو

یا الہیٰ جب زبانیں باہر آیئں پیاس سے
صاحب کوثر شہ جودو عطا کا ساتھ ہو

یا الہٰی سرد مہری پر ہو جب خورشید حشر
سید بے سایہ کے ظل لوا کا ساتھ ہو

یا الہٰی گرمی محشر سے جب بھڑکیں بدن
دامن محبوب کی ٹھنڈی ہوا کا ساتھ ہو

یا الہٰی نامہ اعمال جب کھلنے لگیں
عیب پوش خلق ستار کا ساتھ ہو

یا الہٰی  جب بہیں آنکھیں حساب جرم میں
ان تبسم ریز ہونٹوں کی دعا کا ساتھ ہو

یا الہٰی  جب حساب خندہ بیجا رلائے
چشم گریان مرتجے کا ساتھ ہو

یا الہٰی رنگ لائیں جب مری بے باکیاں
ان کی نیچی نیچی نظروں کی حیا کا ساتھ ہو

یا الہٰی جب چلوں تاریک راہ پل صراط
آفتاب ہاشمی نورالہدیٰ کا ساتھ ہو

یا الہٰی جب سر شمشیر پر چلنا پڑے
رب سلم کہنے والے غمزدا کا ساتھ ہو

یا الہٰی جو دعائے نیک میں تجھ سے کروں
قدسیوں کے لب سے اٰمین ربنا کا ساتھ ہو

یا الہٰی جب رضا خواب گراں سے سر اُٹھائے
دولت بیدار عشق مصطفےٰ کا ساتھ ہو

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Sunte Hain Ke Mehshar Mein Sirf Un Ki Rasai Hai

Sunte Hain Ke Mehshar Mein Sirf Un Ki Rasai Hai
Gar Un Ki Rasai Hai Lo Jab Tu Ban Aai Hai

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے
گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے

مچلا ہے کہ رحمت نے امید بندھائی ہے
کیا بات تری مجرم کیا بات بنائی ہے

سب نے صف محشر میں للکار دیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا اب تیری دہائی ہے

یوں تو سب انھیں کا ہے پر دل کی اگر پوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دل ہی خاص اُن کی کمائی ہے

زائر گئے بھی کب کے دِن ڈھلنے پہ ہے پیارے
اٹھ میرے اکیلے چل کیا دیر لگائی ہے

بازار عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا
سرکار کرم تجھ میں عیبی کی سمائی ہے

گرتے ہووں کو مژدہ سجدے میں گرے مولیٰ
رو رو کے شفاعت کی تمہید اُٹھائی ہے

اے دل یہ سلگنا کیا جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ
دَم گھٹنے لگا ظالم کیا دھونی رَمائی ہے

مجرم کو نہ شرماؤ احباب کفن ڈھک دو
منھ دیکھ کے کیا ہو گا پردے میں بھلائی ہے

اب آپ ہی سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں
ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے

اے عشق تِرے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی وہ آگ لگائی ہے

حرص و ہوس ِ بد سےدل تو ، بھی ستم کر لے
تو ہیں نہیں بے گانہ دنیا ہی پرائی ہے

ہم دل جلے ہیں کس کے ہٹ فتنوں کے پرکالے
کیوں پھونک دوں اک اُف سے کیا آگ لگائی ہے

طیبہ نہ سہی افضل مکّہ ہی بڑا زاہد
ہم عشق کے بندے ہیں کیوں بات بڑھائی ہے

مطلع میں یہ شک کیا تھا واللہ رضا واللہ
صرف اُن کی رسائی ہے صرف اُن کی رسائی ہے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا