Mukarram Zee Muazzam Ya Muhammad

Mukarram Zee Muazzam Ya Muhammad
Karam Noor e Mujasim Ya Muhammad

مکرم! دی معظم! یا محمد
کرم  نور  مجسم  یا محمدؐ

تیرا دیدار ، دیدار الہیٰ
دکھاو جلوہ ہر دم یا محمدؐ

شفاعت رحمت و نور ہدایت
تری ذات مکرم یا محمدؐ

گہے قرآن ہستد گہ حدیثے
ترا معجز  تکلم یا محمدؐ

علاج عاشقان خستہ حالاں
فقط تیرا تبسم یا محمدؐ

کر م کے منتظر در پر پڑے ہیں
ہر اک نعمت کے قاسم یا محمدؐ

درود و الفت آل و صحابہ
مرا ایمان محکم یا محمدؐ

اذان و کلمہ میں اسم گرامی
زہے یہ اسم اعظم یا محمدؐ

محمدؐ حاضرو ناظر ہیں خاور
مرا ہے ورد ہر دم یا محمدؐ

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Pehlay Zara Hazoor Ko To Jaan Jaeyey

Pehlay Zara Hazoor Ko To Jaan Jaeyey
Mumkin Hai Phir Khuda Ko Bhi Pahchaan Jaeyey

پہلے ذرا حضورؐ کو تو جان جائیے
ممکن ہے پھر خدا کو بھی پیچان جایئے

ہر قول و فعل اذن الہیٰ کے تخت ہے
محبوبیت کی شان ہے قربان جایئے

ایماں یہی ہے آپ کا ہر حکم بر ملا
بے حیل و بے گماں ہی بس مان جائیے

اہل یقیں ہی صاحب ایماں ہے دوستو
جینا یہی ہے مر کے مسلمان جایئے

دنیا کی ہراک شے سے ہیں جبکہ عزیز تر
قربان ان کی ذات پہ ہر آن جائیے

دونوں جہان کی دل سے محبت نکال کر
پیش حضورؐ بے سروسامان جائیے

اُٹھو کہ اب حضورؐ ہیں تشریف لا رہے
اس ساعت حسیں کو تو پہچان جایئے

کہتے ہیں تیری نعت کو قندیل خاوری
خؔاور تری اس طرزپہ قربان جایئے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Noor he Noor Mahak Kaif o Saroor Ayay Hain

Noor he Noor Mahak Kaif o Saroor Ayay Hain
Dil e Baitaab Zara Sabr Hazoor Ayay Hain

نور ہی نور، مہک ، کیف و سرور آئے ہیں
دل بیتاب ذرا صبر ، حضورؐ آئے ہیں

چشم پر نم ہے ، طبیعت میں سکوں کا عالم
زہے!ذولفضل وکرم، رحمت و نور آئے ہیں

قدسیاں فرط اَدب سے ہیں ہر سمت کھڑے
اور ہاتھوں میں لئے جام طہور  آئے ہیں

جام پہ جام لنڈھاو کہ صلائےعا م ہے یارو
اپنے رندوں کو پلانے خود حضورؐ آئے ہیں

عاصیو! بڑھ کے پکڑ لو اپنے مولیٰ کے قدم
وہ شفاعت کو یوم النشور آئے ہیں

اپنے پلے تو نہیں کچھ بھی بجز اس کے کہ ہم
حمد اور نعت کی محفل میں ضرور آئے ہیں

ہیں تجلی گہ ربی یہ بزرگوں کے مزارات
کون کہتا ہے کہ ہم پیش قبور آئے ہیں

تاکہ ہم پر بھی ہو واجب یہ شفاعت خاور
در اقدس پہ جبھی پیش حضورؐ آئے ہیں

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Jahan Bhar Ke Haseenon Se Haseen Tar Ae Haseen Tum Ho

Jahan Bhar Ke Haseenon Se Haseen Tar Ae Haseen Tum Ho
Jamal e Zaat Ho , Noor Elahi al Aalameen Tum Ho

جہاں بھر کے حسینوں سے حسیں تر اے حسیں تم ہو
جمال ذات ہو، نور الہ العالمیں تم ہو

گنہگاران امت کا سہارا بالیقیں تم ہو
کرم ہو، فضل ہو اور رحمت اللعالمیں تم ہو

بہ جسم ظاہری زِندہ، نبی آخریں اور غیب کے عالم
ہو اُمی ظاہراً پر حامل علم مبیں تم ہو

ہو محو ہم کلامی باالمشافہ اور بے پردہ
کہ عین وصل میں بینائےذات العالمیں تم ہو

مری جانِ تمنّا ہو، مرا مقصد مرا حاصل
مرا علم الیقیں، عین الیقیں، حق الیقیں تم ہو

نقاب رخ الٹ دو اے سرور جان مشتاقاں
متاع عاشقاں ہو آرزوئےمخلصیں تم ہو

نگاہے کن بہ خستگان ملت بیضا
امیر کارواں، منزل رسا، کار آفریں تم ہو

سلام اے رہبر دوراں! سلام اے مرکز ایماں
سلام اے حامل قرآں! کہ خوددین متیں تم ہو

سلام اے کار ساز و دستگیر ناقص و کامل
طبیب ہر مرض ، چارہ گر قلب حزیں تم ہو

سلام اے جان عشاقاں، سلام اے روح جاں بازاں
منور کر دو دل مرا کہ نور اولیں تم ہو

سلام اے شاہکار حق! سلام اے پیکر رحمت
سلام از خاورعا جز کہ میرے بس تمہیں تم ہو

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Jab Noor e Tajalla Ka Ezhaar Huwa Maloom

Jab Noor e Tajalla Ka Ezhaar Huwa Maloom
Deedar Ke Taalib Ka Esrar Huwa Maloom

جب نورتجلی کا اظہار ہوا معلوم
دیدار کے طالب کا اصرار ہوا معلوم

کیا حسن مشیت ہے ، کیا حسن تماشا ہے
انکار کی عظمت میں ، اقرار ہوا معلوم

اک دید حجابوں میں ، اک دید ہے بے پردہ
دلدار کی مرضی ہے ، دیدار ہوا معلوم

یہ حسن کی مرضی تھی ہر حال عیاں ہونا
تخلیق کی صورت میں اظہار ہوا معلوم

ہر شے کی حقیقت میں اس نور کا جلوہ ہے
یہ دیدہ باطن سے اک بار ہوا معلوم

جس دم تھا رگ و پے کا ہر ریشہ تماشا مست
اس عالم حیرت میں وہ یار ہوا معلوم

ہر حال میں دل خاور، با یار رہے با کار
ساز دل غافل تو بے تار ہوا معلوم

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Ik Rashk e Zamana Hain Parwanay Muhammad Ke

Ik Rashk e Zamana Hain Parwanay Muhammad Ke
Ya Khuld Badaman Hain Deewanay Muhammad Ke

اک رشکِ زمانہ ہیں، پروانے محمد کے
یا خلد بداماں ہیں، دیوانے محمد کے

مرتے ہیں محبت میں، جیتے ہیں محبت میں
یوں زندہ و تابندہ ہیں ، پروانے محمد کے

اوتادِ زمین و عرش، سرمست و خدا  آگاہ
ویرانہ ء عالم میں ،فرزانے محمد کے

محبوبیِ و سرشاری، ہر آن طمانیت
بیگانہ ء خوف و غم، دیوانے محمد کے

یک مستی و ہشیاری، یک گونہ سروروشوق
میخانہء ہستی میں ، پیمانے محمد کے

عرفان کی مے سےپر، جاںبخش ودوائےدل
پیمانے محمد کے ، میخانے محمدؐکے

انوار الہیٰ کا ہر رنگ نمایاں ہے
سر چشمہءرحمت ہیں کاشانے محمدؐ کے

اقوالِ شریعتہوں اسرار طریقت ہوں
ہر شے کی حقیقت ہیں،افسانے محمدؐ کے

تفسیر و فقہ، فتویٰ، شمشیر، جہادِ نفس
عشاق کے ہاتھوںمیں،پیمانے محمدؐکے

یہ فیض قلندر کے ، ہیں فیض محمدؐ کے
کاشانے قلندر کے کاشانے محمد کے

دربار قلندرؒ میں دل کھول کے پی خاور
بوالفیض کی نظریں ہیں میخانے محمدؐ کے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai

Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai
Har Uqdah e Mushkil Khulta Hai Taqdeer Edhar Ho Jati hai

اے نورِ مجسم جب تیری ، رحمت کی نظر ہو جاتی ہے
ہر عقدہ مشکل کھلتا ہے ، تقدیر ادھر ہو جاتی ہے

اے حسنِ تجلی میں قرباں، اے شمع حقیقت کیا کہنا
جس سَمت نگاہیں اٹھتی ہیں ، رحمت بھی ادھر ہو جاتی ہے

کیا عشق تماشا بنتا ہے، کیا پردہ دوئی اتھتا ہے
خود کشف ِ حقیقت ہوتا ہے جس شے پہ نظر ہو جاتی ہے

گھنگھور گھٹائیں اٹھتی ہیں ، اک نور کی بارش ہوتی ہے
سب دل کی سیاہی دھلتی ہے وہ زلف جدھر ہو جاتی ہے

محبوب خدا کے قدموں میں ، محبوب خدا کی صحبت میں
وہ علمِ لدنی ملتا ہے ، ہر شے کی خبر ہو جاتی ہے

جب اسوہ نبوی اپنا کر ، اک قربِ خصوصی ملتا ہے
ہر عرض رضائے حق بن کر “اکسیر اثر” ہو جاتی ہے

اے نورہدیٰ کے متلاشی، سن! غارحرا کے ذرّوں سے
آواز کچھ ایسی آتی ہے تسکینِ خبر ہو جاتی ہے

انوارِ نبی کے جلو وں سے دیدارِ نبی کی برکت سے
بیمار محبت کی ہر شب گویا کہ سَحر ہو جاتی ہے

جب صحبت ِ پیرِ کا مل میں آداب محبت آتے ہیں
دربار رسالت میں فوراً طالب کی گذر ہو جاتی ہے

بو الفیض کی نظر کا مل ہے عرفان و حقیقت کا عنواں
تکمیل تمنا ہوتی ہے جس آن نظر ہو جاتی ہے

سرکا ر کی الفت میں خاؔور جب ہستی ء ظاہر مٹتی ہے
خود درد مداوا بنتا ہے”اللہ” کی خبر ہو جاتی ہے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Tere Dar Se Door Hat Kar Main Kahin Na Ja Sakon Ga

Tere Dar Se Door Hat Kar Main Kahin Na Ja Sakon Ga
Jo Utha Diya Yahan Se Koi Raah Na Pa Sakon Ga

تیرے در سے دور ہٹ کر ، میں کہیں نہ جا سکوں گا
جو اُٹھا دیا یہاں سے ، کوئی راہ نہ پا سکوں گا

میری زندگی تمہیں سے ، میری بندگی تمہیں سے
تیرے نقش پا پہ چل کر ، تیرے رب کو پا سکوں گا

جو پکڑ لیا ہے دامن، پہ ہزار نا توانی
نہ چھڑایئے خدا را، کہ کہیں نہ جا سکوں گا

تیری پاک صحبتوں میں ، جو ملا ہےراز ہستی
نہ کہیں سے مل سکا تھا، نہ کہیں سے پا سکوں گا

وہ جو با ر امانتوں کا ، نہ اُٹھا سکا تھا کوئی
تیری بندہ پروری سے ، اسے میں اُٹھا سکوں گا

میری سجدہ ریزیوں کو، تیرے سنگ ِ آستاں سے
وہ ملا ہے ذوقِ سجدہ، نہ کبھی بھلا سکوں گا

میرے دل کے چند ٹکڑے ، للہ قبول کیجے
نہ انہیں بساط و ساماں، نہ کچھ اور لا سکوں گا

میری تشنگی کا عالم ، ہر لحظہ بڑھ رہا ہے
میرے ولولوں سے پوچھو، کیسے بجھا سکوں گا

یہ بجھا بجھا سا دیپک ، ارمان و آرزو کا
تیرے حسنِ ضوفشاں سےدائم جلا سکوں گا

میرا من ہو تیری بستی، میرا تن ہو تیری نگری
کہ میں داغ ہائے سینہ ، یونہی جلا سکوں گا

پنہائیاں یہ دل کی، مہمان کی ہیں طالب
تجھ سے یہ گھر سجے گا ، تجھ سے بسا سکوں گا

سرِ عا شقے علامت ، دلِ عاشقے سلامت
زہے جذبہء شہادت کہ نہ سر اُٹھا سکوں گا

میر اسلسلہ قلندر  میرا واسطہ محمدؐ
اسی واسطے سے خاؔور میں خدا کو پا سکوں گا

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Saanay Ki Sanatoun Ka Qareena Tumhi Tou Ho

Saanay Ki Sanatoun Ka Qareena Tumhi Tou Ho
Es Husan e La Makan Ka Khazina Tumhi Tou Ho

صانع کی صنعتوں کا قرینہ تمہی تو ہو
اس حسنِ لا مکا ں کا خزینہ تمہی تو ہو

ختم الرسل ہو شا ہد و مشہود و نورِ دات
دانائے راز حاضر و بینا   تمہی تو ہو

فطرت کے جس کمال پر ہے قد سیوں میں شور
وہ شاہکار ِ حق وہ نگینہ  تمہی تو ہو

دنیا و ماسوا ذات کے عارف و حق شناس
کون و مکان کے راز کا سینہ  تمہی تو ہو

عرفاں کی مے جو ذات مقدس میں ہے چھپی
اس مے کا جا م کیف ہو مینا تمہی تو ہو

ہر آن مل رہا ہے یہ معراج سے سبق
انسانیت کا اوج قرینہ  تمہی تو ہو

جس پرتوِ جما ل کا حامل نہیں کوئی
ان سب تجلیّات کے بینا  تمہی تو ہو

روح الامیں کے جس جگہ جا کر قدم رکے
اس سے وراکے راکب و بینا  تمہی تو ہو

لا ریب غیب داں  ہو حیات النبی ہو تم
ذات و صفات حق کا قرینہ  تمہی تو ہو

سا رے نبی ہیں جس کی امامت پہ مفتخر
اسس مرتبہ کے اہل حسینا تمہی تو ہو

رحمت ہر اک جہاں پہ تمہاری محیط ہے
رحمت کا بے حساب  خزینہ  تمہی تو ہو

اللہ کو ہے تمہاری شفاعت کا احترام
امت کے عاصیوں کا سفینہ تمہی تو ہو

جس زندگی سے ہے کوئی قائم بہ ذات حق
حقا وہ روح زیست و جینا تمہی تو ہو

جس کے طفیل ساحل و منزل پہ جا لگیں
اے جانِ بحر و بر وہ سفینہ تمہی تو ہو

وہ نور جس سے ذرہ خاوؔر ہو آفتاب
ایسی شعاع نور کا سینہ  تمہی تو ہو

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Hasti Ka Intizam Muhammad Ke Dam Se Hai

Hasti Ka Intizam Muhammad Ke Dam Se Hai
Sara Yeah Ahtamam Muhammad Ke Dam Se Hai

 

ہستی کا انتظام محمدؐ کے دم سے ہے
سارا یہ اہتمام محمدؐ کے دم سے ہے

جبریل،عرش،لوح وقلم ، فرش الکتاب
ان سب کا احترام محمد ؐ کے دم سے ہے

محرم تھا کون پہلے اس سر بستہ راز کا
ہر سُو خدا کا نام محمدؐ کے دم سے ہے

انساں نے جو کیا ہے نیابت کا حق ادا
اس کا حسیں مقام محمدؐ کے دم سے ہے

اللہ رے شانِ رفعتِ دکرِ حبیبِ پاک
حمد و ثناء تمام محمدؐ کے دم سے ہے

اے طالبانِ بادہ عرفاں! خدا گواہ
پُر معرفت کا جام  محمدؐ کے دم سے ہے

پیغام دے رہا ہے یہ صدیق کا خلوص
عشاق کا دوام محمدؐ کے دم سے ہے

اے سالکانِ راہِ طریقت تمہیں ہے علم ؟
اس راہ میں خرام  محمدؐ کے دم سے ہے

جویانِ حق کو مژدہ  دیدار ذوالجلال
یہ سُرمدی پیغام محمدؐ کے دم سے ہے

قرآں کی دل نشین تلاوت سے ہر کوئی
اللہ سے ہم کلام محمدؐ کے دم سے ہے

لا تَقْنَطُوْ ا سے عاصیوں کی ہر خطا معاف
یہ اِذنِ عفوِ عا م محمدؐ کے دم سے ہے

عصیاں کے داغ دامنِ دل پر لئے ہوئے
حاضر ہوا ہوں ، کا م محمدؐ کے دم سے ہے

صبرِ حسینؓ  صدقِ حسنؓ علمِ بو ترابؓ
خاؔور یہ فیض عا م محمدؐ کے دم سے ہے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy