Heart Touching Poetry of Jalal ud din Rumi

Heart Touching Poetry of Moulana Jalal ud din Rumi

یک زمانہ صحبت با اولیا
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا

اللہ کے ولی کی صحبت کے چند لمحے
سو سال کی بے ریا عبادت سے بھی بہتر ہے

صحبت صالح ترا صالح کند
صحبت طالح ترا طالح کند

نیک لوگوں کی صحبت نیک بنا دیتی ہے
بُرے لوگوں کی صحبت بُرا بنا دیتی ہے

اولیا را ہست قدرت از الہ
تیر جستہ باز آرندش راہ

اللہ کے ولیوں کو رب کی طرف سے طاقت حاصل ہے کہ وہ
کمان سے نکلے ہوئے تیر کو بھی واپس کر دیتے ہیں یعنی تقدیر بدل دیتے ہیں

گفت پیغمبرؐ با آواز بلند
بر توکل زانوئے اُشتر بہ بند

نبی پاک نے با آواز بلند تعلیم دی
اللہ پر توکل رکھو ساتھ ہی اُونٹ کے گھٹنے بھی باندھو

رمز الگاسبُ حبیب اللہ شنو
از توکل در سبب کاہل مشو

اشارہ سمجھو کہ حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے
توکل کے بھروسے کاہل نہ بن جاؤ

چیست دنیا از خدا غافل بدن
نے قماش و نقرہ و فرزندان و زن

دنیا کیا ہے اللہ سے غافل ہونا
نا کہ سازو سامان  چاندی ، بیوی اور بچے

نام احمد ؐ نام جملہ انبیا ست
چونکہ صد آمد نود ہم پیش ماست

احمدؐ کے نام میں تمام انبیا کے نام موجود ہیں
جیسا کہ سو آئے تو نوے بھی ساتھ ہی آ جاتے ہیں

کاملے گر خاک گیرد زر شود
ناقص ار زَر بُرد خاکستر شود

کامل انسان خاک پکڑےتو سونا بن جائے
ناقص اگر سونا لے لے تو خاک ہو جائے

قافیہ اندیشم و دلدارِ من
گویدم مندیش جز دیدارِ من

میں قافیہ کی فکر کرتا ہوں اور میرا محبوب
مجھ سے کہتا ہے کہ میرے دیداد کے سوا کچھ نہ سوچ

چوں تو شیریں نیستی فرہاد باش
چوں نہ لیلیٰ تو مجنوں گرد فاش

جب تو شیریں نہیں ہے فرہاد بن جا
جب تو لیلیٰ نہیں ہے توکھلا مجنوں بن جا
یعنی معشوق نہیں ہے توپھر عاشق بن

در بہاراں کے شود سَر سبز سنگ
خاک شو تا گل بَروید رنگ رنگ

موسم بہار میں پتھر سر سبز و شاداب کب ہوتا ہے
خاک (مٹی) بن جا تاکہ رنگ برنگ کے پھول کھلیں

ہمنشینی مُقبلاں چوں کمیاست
چوں نظر شاں کیمائے خود کجاست

بارگاہ حق کے مقبول بندوں کے ہم نشینی سونا ہے
بلکہ ان لوگوں کے نظر کے مقابلے میں سونا خود کچھ نہیں

ہیں کہ اسرافیل وقتند اولیا
مُردہ را زیشاں حیات ست و نما

خبردار اولیا وقت کے اسرافیل ہیں
مردے ان سے حیات اور نشوونما پاتے ہیں

مطلق آں آواز از شہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

ان کی آواز حق کی آواز ہو تی ہے
اگرچہ حلق اللہ کے بندے کا ہوتا ہے

رو کہ بی یَسمَعُ وَ بیِ یَبصِرُ توئی
سِر توئی چہ جائے صاحب سِر توئی

جا کہ توہی رب کی سمع اور بصر والا ہے
تو ہی راز ہے اور تو ہی صاحب راز ہے
دو احادیث کی طرف اشارہ ہے کہ بندہ جب نوافل سے قرب حاصل کرتا ہے تو میں
اُس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے
الا نسان سری و انا سرہ, رب فرماتا ہے انسان میرا راز ہے اور میں اُس کا راز ہوں

بہر کیکے تو کلیمے را مسوز
در صداع ہر مگس مگذارروز

پسو سے تنگ آکر گدڑی نہ جلا دو
مکھی سے تنگ آکر باہر نکلنا مت چھوڑو

ہر کہ اُو بے مرشدے در راہ شد
اُو زغولاں گمرہ و در چاہ شد

جو کوئی بھی بغیر مرشد کے راستہ پر جلا
وہ شیطانوں کی وجہ سے گمراہ اور ہلاگ ہوا

صد ہزاراں نیزہ فرعون را
در شکست آں موسیٰ با یک عصا

فرعون کے لاکھوں نیزے
حضرت موسیٰ نے ایک لاٹھی سے توڑ دیے

صد ہزاراں طب جالنیوس بود
پیش عیسیٰ و دمش افسوس بود

جالنیوس کی لاکھوں طبیں(نسخے) تھیں
حضرت عیسیٰ کے دم(پھونک) کے سامنے ہار گئیں

صد ہزاراں دفتر اشعار بود
پیش حرِف اُمیش آں عار بود

لاکھوں اشعار کے دفتر(دیوان) تھے
حضورؐ کے کلام کے سامنے شرمندہ ہو گئے

ہمسری با انبیا برداشتند
اولیا۶ را ہمچو خود پنداشتند

انبیا کے ساھ برابری کا دعویٰ کر دیا
اولیا کو اپنے جیسا سمجھ لیا

گفتہ اینک ما بشر ایشاں بشر
ما و ایشاں بستہ خوابیم و خور

کہا کہ ہم بھی انسان ہیں اور وہ بھی انسان ہیں
ہم اور وہ سونے اور کھانے کے پابند ہیں

کار پاکاں را قیاس از خود مگیر
گرچہ باشد در نوشتن شیر شیرِ

نیک لوگوں کے کام کو اپنے پر قیاس نہ کر
اگرچہ لکھنے میں شییر(درندہ) اور شیرِ( دودھ) یکساں ہے

مومنی اُو مومنی تو بیگماں
درمیانِ ہر دو فرقے بیکراں

رب بھی مومن ہے ، ،تو بھی مومن ہے
لیکن ہر دو مومنوں کے درمیان بے حساب فرق ہے
اس شعر سے بنی پاک کو اپنے جیسا(بشر) کہنے والوں کو نصیحت پکڑنی چاہیے
مومن اللہ کا نام ہے ، حضور کا بھی نام ہے اور مسلمان بندے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے

بادہ در جوشش گدائے جوشِ ماست
چرخ در گردش فدائے ہوشِ ماست

شراب جوش میں ہمارے جوش کی بھکاری ہے
آسمان گردش میں ہمارے ہوش پر قربان ہے

بادہ از ما مست شدنے ما ازو
قالب از ما ہست شد نے ما ازو

شراب ہماری وجہ سے مست ہوئی ہے نہ کہ ہم اُس سے
جسم ہماری وجہ سے پیدا ہوا ہے نہ کہ ہم اُس کی وجہ سے

 

Maulana Jalal uddin Rumi
مولانا جلال الدین رومی

To be Continued ……