Kis Ghar Mein Kis Hijab Mein Ae Jaan Nehaan Ho Tum

Kis Ghar Mein Kis Hijab Mein Ae Jaan Nehaan Ho Tum
Hum Raah Daikhte hain Tumhari Kahan Ho Tum

کس گھر میں کس حجاب میں اے جاں نہاں ہو تم
ہم راہ دیکھتے ہیں تمھاری کہاں ہو تم

مٹنے پر اپنے ناز نہ ہو کس طرح مجھے
میں ہوں وہ بے نشاں کہ جس کہ نشاں ہو تم

پردہ دری کا آپ نہ کیجے گلہ اگر
ہم سینہ چاک کرکے دکھا دیں جہاں ہو تم

دونوں جگہ ظہور برابر ہے آپ کا
ذرے میں آفتاب میں یک ساں عیاں ہو تم

خالی نہیں ہے آپ کے جلوے سے کوئی شے
دریا ہو اور قطروں کے اندر نہاں ہو تم

حاضر ہے بزم یار میں ساماں عیش سب
اب کس کا انتظار ہے اکبر کہاں ہو تم

شاہ اکبر دانا پوری

Thanks to Syed Zeeshan Khalid for Sharing.

Jo Bane Aaina Woh Tera Tamasha Daikhe

Jo Bane Aaina Woh Tera Tamasha Daikhe
Apni Soorat mein Tere Husn Ka Jalwa Daikhe

جو بنے آئینہ وہ تیرا تماشا دیکھے
اپنی صورت میں تیرے حسن کا جلوہ دیکھے

ہائے کس طرح تجھے عاشق شیدا دیکھے
تیرا سایہ بھی نہیں ہے جو سایہ دیکھے

تیری شانیں ہیں ہزاروں ،تیرے جلوے ہیں لاکھوں
دو ہی آنکھیں ہوں ملیں جس کو وہ کیا کیا دیکھے

قیس کو ہوش نہیں لب پہ انا لیلیٰ ہے
اپنے دیوانے کو آ کر ذرا لیلیٰ دیکھے

دیکھنے والے تیرے دیکھتے ہیں یوں تجھ کو
جیسے دریا کی طرف پیاس کا مارا دیکھے

کیا سمجھ رکھا ہے اللہ کو تو نے اکبر
آنکھیں کھولے ہوئے بیٹھا ہے کہ جلوہ دیکھے

شاہ اکبر دانا پوری

Hazrat Syed Shah Muhammad Akbar Danapuri

Thanks to Syed Zeeshan Khalid for Sharing and correction.