Ae Shahid Qudsi Ke Kashd Band e Naqabat

Ae Shahid Qudsi Ke Kashd Band e Naqabat

اے شاہد قدسی کہ کشد بندِ نقابت
وے مرغ بہشتی کہ دہد دانہ و آبت

اے محبوب تیرے رخ سے نقاب کون کھولے گا
اے بہشتی پرندے تجھے کون نورانی رزق پہنچاتا ہے

خوابم بشداز دیدہ درین فکر جگر سوز
کاغوشِ کہ شد منزل آسائش و خوابت

میری نیند اس جگر سوز فکر سے اُڑگئ ہے
کہ تیری منزل و خواب گاہ کہاں ہے اور تو کس کی آغوش میں ہے

درویش نمی پرسی و ترسم کہ نباشد
اندیشہ ء آمرزش و پروائے ثوابت

تو درویشوں اور فقیروں کا حال و احوال نہیں پوچھتا شاید
تجھے سزا و جزا کی پروا نہیں ہے

راہِ دل عشّاق زد آں چشم خماری
پیداست ازیں شیوہ کہ مستت شرابت

تیری مست نگاہ نے عاشقوں کے دلوں میں گزر گاہ بناہ لی ہے
لہزا وہ مست ہو کر راہ سے بھٹک گئے ہیں

تیریکہ زدی بر دلم از غمزہ خطا رفت
تا باز چہ اندیشہ کند رائے صوابت

جو تیر تو نے میرے دل پر چلایا تھا وہ خطا ہو گئا ہے
اب دیکھتے ہیں کہ تو اس بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے

ہر نالہ و فریاد کہ کردم نشیندی
پیداست نگارا کہ بلندست جنابت

میں نے بہت آہ زاری و فریادیں کیں ہیں مگر تو نے نہ سنی
میں جانتا ہوں کہ تیری بارگاہ بہت بلند اور بے نیاز ہے

ای قصرِ دل افروز کہ منزل گہہ اُنسی
یا رب مکناد آفتِ اَیّام خراَبت

یہ تیرا محل دلوں کو محبتیں بانٹنیں والا مرکز ہے
اللہ کرے کہ یہ زمانے کی آفات و بلیات سے محفوظ رہے

دورست سرِ آب ازیں بادیہ ہشدار
تا غولِ بیابان بفریبد بہ سرابت

ہوشیاری سے کام لے پانی کا کنارہ اس صحرا میں بہت دور ہے
کہیں سراب تجھے دھوکا نہ دے دے

رفتی زکنار من دِل خستہ بناکام
تا جائے کہ شد منزل و ماوائے کہ خوابت

تو میرے دل کو مجھ سے چھین کر روانہ ہو گیا ہے
ذرا یہ تو بتا کہ کونسی جگہ پر تیرا پڑاو ہوگا

تا دررَہِ پیری بچہ آئین روی اے دِل
بارے بغلط صرف شد اَیّام شبابت

دیکھتے ہیں کہ بڑھاپے میں یہ دل کس راہ پہ چلتا ہے
جوانی کے ایام تو اُلتے سیدھے کاموں میں صرف کر چکا ہوں

حافظ نہ غلامیست کہ از خواجہ گریزد
لطفے کن و باز آکہ خرابم ز عتابت

حافظ وہ غلام ہی نہیں جو آقا سے بھاگ جائے
اپنے حال پہ رحم کر اور واپس آ کہ تجھ پر مہربانیاں ہوں

Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Leave a comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

azkalam.com © 2019 | Privacy Policy | Cookies | DMCA Policy