Meray Ishq Ki Hai Azmat Tera Sang e Aastana

Meray Ishq Ki Hai Azmat Tera Sang e Aastana
Hai Yehi Mera Nasheman Hai Yehi Mera Thikana

مرے عشق کی ہے عظمت ، تیرا سنگ آستانہ
ہے یہی مرا نشیمن، ہے یہی مرا ٹھکانہ

سر پردہ سرا سے ہے ظہور کنز مخفی
کہ جہاں میں پھیل جائے تیرے حسن کا فسانہ

کسے ہمسری کا وعوی، کسے سروری کا یارا
کہ ہو انبیا میں یکتا تو رسل میں یگانہ

تیری رحمتیں سراپا ، تیری شفقتیں سرا سر
تری بخشش وکرم کا ہے معترف زمانہ

اُمت کے عاصیوں کا ، ٹوٹے ہوئے دلوں کا
واللہ یہ سبز گنبد ہے آخری ٹھکانہ

تو خدا کی ہم پہ رحمت ، تو خدا کا ہم پہ احساں
کہ تمیں سے ہم نے پایا یہ عرفان کا خزانہ

مجھے کیا غرض زماں سے ، مجھے کیا غرض مکاں سے
مری آرزو تمہیں ہو اے نور دلبرانہ

گہے سوزش محبت ، گہے صبر نا شکیبا
غم عاشقی سلامت، ہے یہ قرب کا بہانہ

تیرا غم میر ا مداوا، تیری یاد میرا حاصل
کیا عجب کہ رنگ لائے میرا عشق والہانہ

وہ جذب و شوق مضطرکہ لی چوم چوم جالی
اسی جذب میں ہے مضمر ، میرے عشق کا فسانہ

یہ سگ در قلندر یہ بہ عرف عام خؔاور
تیرے در کا ہے گداگر اور فقط ترا دوانہ

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *