Saanay Ki Sanatoun Ka Qareena Tumhi Tou Ho

Saanay Ki Sanatoun Ka Qareena Tumhi Tou Ho
Es Husan e La Makan Ka Khazina Tumhi Tou Ho

صانع کی صنعتوں کا قرینہ تمہی تو ہو
اس حسنِ لا مکا ں کا خزینہ تمہی تو ہو

ختم الرسل ہو شا ہد و مشہود و نورِ دات
دانائے راز حاضر و بینا   تمہی تو ہو

فطرت کے جس کمال پر ہے قد سیوں میں شور
وہ شاہکار ِ حق وہ نگینہ  تمہی تو ہو

دنیا و ماسوا ذات کے عارف و حق شناس
کون و مکان کے راز کا سینہ  تمہی تو ہو

عرفاں کی مے جو ذات مقدس میں ہے چھپی
اس مے کا جا م کیف ہو مینا تمہی تو ہو

ہر آن مل رہا ہے یہ معراج سے سبق
انسانیت کا اوج قرینہ  تمہی تو ہو

جس پرتوِ جما ل کا حامل نہیں کوئی
ان سب تجلیّات کے بینا  تمہی تو ہو

روح الامیں کے جس جگہ جا کر قدم رکے
اس سے وراکے راکب و بینا  تمہی تو ہو

لا ریب غیب داں  ہو حیات النبی ہو تم
ذات و صفات حق کا قرینہ  تمہی تو ہو

سا رے نبی ہیں جس کی امامت پہ مفتخر
اسس مرتبہ کے اہل حسینا تمہی تو ہو

رحمت ہر اک جہاں پہ تمہاری محیط ہے
رحمت کا بے حساب  خزینہ  تمہی تو ہو

اللہ کو ہے تمہاری شفاعت کا احترام
امت کے عاصیوں کا سفینہ تمہی تو ہو

جس زندگی سے ہے کوئی قائم بہ ذات حق
حقا وہ روح زیست و جینا تمہی تو ہو

جس کے طفیل ساحل و منزل پہ جا لگیں
اے جانِ بحر و بر وہ سفینہ تمہی تو ہو

وہ نور جس سے ذرہ خاوؔر ہو آفتاب
ایسی شعاع نور کا سینہ  تمہی تو ہو

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *