Ae Khasa e Khasan e Rusul waqt e duaa hai

Ae Khasa e Khasan e Rusul waqt e duaa hai
Ummat pe tiree aakay ajab waqt para hai

اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تیری آ کے عجب وقت پڑا ہے

jo deen barhi shaan say nikla tha, watan say
pardais mein woh aaj ghareeb-ul-ghuraba hai

جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سے
پردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے

Jiss Deen Nay Ghairo kay thay Dil aakay Milaaye
iss deen mein khud bhai say ab bhai judaa hai

جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائے
اس دین میں اب بھائی خود بھائی سے جدا ہے

Jo Deen Ke Hamdard e Bani Nao e Bashr Tha
Ab Jang o Jadal Char Taraf Es Mein Bpa Hai

جو دین کہ ہمدرد بنی نوع بشر تھا
اب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے

Faryaad hai aye kashti-e-ummat kay nigehbaan
beira yeh tabaahi kay qareeb aa lagaa hai

فریاد ہے اے کشتی امت کے نگہباں
بیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے

Kar Haq Se Dua Umat e Marhoom ke haq mein
Khatroon mein bohat jis ka jahaz aa ke ghira hai

کر حق سے دعا امت مرحوم کے حق میں
خطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھرا ہے

Hum naik hain ya bad hain phir aakhir hain tumhare
Nisbat bohat achi hai agar Haal bura hai

ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارے
نسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے

tadbeeer sambhalney ki hamarey nahin koi
haan aik DUA teri ke maqbool e KHUDA hai

تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئی
ہاں ایک دعا تری کے مقبول خدا ہے

woh deen, huee bazm-e-jahaan’, jiss say charaaghaan’
aaj iski majaaliss mein na batti na diyaa hai

وہ دین ہوئی بزم جہاں جس سے چراغاں
اب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے

jo deen keh tha shirk say aalam ka nigehbaan
ab iska nigehbaan’, agar hai, to KHUDA hai

جو دین کہ تھا شرک سے عالم کا نگہباں
اب اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے

جس دین کے مدعو تھے کبھی قیصر و کسرٰی
خود آج وہ مہمان سراۓ فقرا ہے

جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے

جس دین کا تھا فقر بھی اکسیر ، غنا بھی
اس دین میں اب فقر ہے باقی نہ غنا ہے

جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوب
اب معترض اس دین پہ ہر ہرزہ درا ہے

ہے دین تیرا اب بھی وہی چشمہ صافی
دیں داروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے

عالم ہے سو بےعقل ہے، جاہل ہے سو وحشی
منعم ہے سو مغرور ہے ، مفلس سو گدا ہے

یاں راگ ہے دن رات وداں رنگِ شب وروز
یہ مجلسِ اعیاں ہے وہ بزمِ شرفا ہے

چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میں
پیاروں میں محبت ہے نہ یاروں میں وفا ہے

دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہے
اک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے

ہے دین کی دولت سے بہا علم سے رونق
بے دولت و علم اس میں نہ رونق نہ بہا ہے

شاہد ہے اگر دین تو علم اس کا ہے زیور
زیور ہے اگر علم تو مال سے کی جلا ہے

جس قوم میں اور دین میں ہو علم نہ دولت
اس قوم کی اور دین کی پانی پہ بنا ہے

گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائی
پر نام تری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے

ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخر
مدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے

جس قصر کا تھا سر بفلک گنبدِ اقبال
ادبار کی اب گونج رہی اس میں صدا ہے

بیڑا تھا نہ جو بادِ مخالف سے خبردار
جو چلتی ہے اب چلتی خلاف اس کے ہوا ہے

وہ روشنیِ بام و درِ کشورِ اسلام
یاد آج تلک جس کی زمانے کو ضیا ہے

روشن نظر آتا نہیں واں کوئی چراغ آج
بجھنے کو ہے اب گر کوئی بجھنے سے بچا ہے

عشرت کدے آباد تھے جس قوم کے ہرسو
اس قوم کا ایک ایک گھر اب بزمِ عزا ہے

چاوش تھے للکارتے جن رہ گزروں میں
دن رات بلند ان میں فقیروں کی صدا ہے

وہ قوم کہ آفاق میں جو سر بہ فلک تھی
وہ یاد میں اسلاف کی اب رو بہ قضا ہے

اے چشمہ رحمت بابی انت و امی
دنیا پہ تیرا لطف صدا عام رہا ہے

امت میں تری نیک بھی ہیں بد بھی ہیں لیکن
دل دادہ ترا ایک سے ایک ان میں سوا ہے

ایماں جسے کہتے ہیں عقیدے میں ہمارے
وہ تیری محبت تری عترت کی ولا ہے

ہر چپقلش دہر مخالف میں تیرا نام
ہتھیار جوانوں کا ہے، پیروں کا عصا ہے

جو خاک تیرے در پہ ہے جاروب سے اڑتی
وہ خاک ہمارے لئے داروے شفا ہے

جو شہر ہوا تیری ولادت سے مشرف
اب تک وہی قبلہ تری امت کا رہا ہے

جس ملک نے پائی تری ہجرت سے سعادت
کعبے سے کشش اس کی ہر اک دل میں سوا ہے

کل دیکھئے پیش آئے غلاموں کو ترے کیا
اب تک تو ترے نام پہ اک ایک فدا ہے

خود جاہ کے طالب ہیں نہ عزت کے خواہاں
پر فکر ترے دین کی عزت کی صدا ہے

ہاں حالیء گستاغ نہ بڑھ حدِ ادب سے
باتوں سے ٹپکتا تری اب صاف گلا ہے

ہے یہ بھی خبر تجھ کو کہ ہے کون مخاطب
یاں جنبشِ لب خارج از آہنگ خطا ہے

مولانا الطاف حسین حالی
Maulana Altaf Hussain Hali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *