Tanam Farsooda Jaan Para Ze Hijraan Ya Rasool Allah

Tanam Farsooda Jaan Para Ze Hijraan Ya Rasool Allah

تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ، یا رسول اللہ

Tanam Farsooda jaa para Ze Hijra, Ya Rasulallah
Dillam Paz Murda Aawara Ze Isyaa, Ya Rasulallah!

یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے
گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے

My body is dissolving in your separation And my soul is breaking into pieces, Ya Rasulallah!
Due to my sins, My heart is weak and becoming enticed, Ya Rasulallah!

چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائے نقشِ نعلینت ، کنم جاں ، یا رسول اللہ

Choon Soo’e Mun Guzar Aari Manne Miskeen Zanaa Daari
Fida-E-Naqsh-E-Nalainat Kunam Ja, Ya Rasulallah!

یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں
آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں

When you pass by me Then even in my immense poverty, ecstatically,
I must sacrifice my soul on the impression of your Blessed Sandal, Ya Rasulallah!

ز جام حب تو مستم ، با زنجیر تو دل بستم
ںا می گویم کہ من بستم سخن دا، یا رسول اللہ

Ze Jaame Hubb To Mustam Ba Zanjeere To Dil Bustam
Nu’mi Goyam Ke Mun Hustum Sukhun Daan, Ya Rasulallah!

آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں،آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں
پھربھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سےشناسا ہوں ، یا رسول اللہ

I am drowned in the taste of your love And the chain of your love binds my heart.
Yet I don’t say that I know this language (of love), Ya Rasulallah!

زِ کردہ خویش حیرانم ، سیہ شُد روزِ عصیانم
پشیمانم، پشیمانم ، پشیماں ، یا رسول اللہ

Ze Kharda Khaish Hairaanam Siyaa Shud Roze Isyaanam
Pashemaanam, Pashemaanam, Pashemaanam, Ya Rasulallah!

میں اپنے کیے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں
پشیمانی اور شرمند گی سے پانی پانی ہو رہا ہوں ،یا رسول اللہ

I am worried due to my misdeeds; And I feel that my sins have blackened my heart, Ya Rasulallah!
I am in distress! I am in distress! I am in distress! Ya Rasulallah!

چوں بازوئے شفاعت را ، کُشائی بر گنہ گاراں
مکُن محروم جامی را ، درا آں ، یا رسول اللہ

Choon Baazoo’e Shafaa’at Raa Khushaa’I Bar Gunaagara
Makun Mahruume Jaami Raa Daraa Aan, Ya Rasulallah!

روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لیے کھولیں گیں
یا رسول اللہ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھیے گا

Ya Rasulallah! When you raise your hands to intercede for the sinners,
Then do not deprive Jami of your exalted intercession.

http://tune.pk/video/3044691/tanam-farsooda-jaan-para-zulfiqar-ali#

مولانا عبدالرحمن جامی

Molana Abdur Rehman Jami

BJuz Tumhare Kahoon Kis Se Ya Ghareeb Nawaz

BJuz Tumhare Kahoon Kis Se Ya Ghareeb Nawaz
Suno Meri Mere Mushkil Kusha Ghareeb Nawaz

بجز تمھارے کہوں کس سے یا غریب نواز
سنو مری مرے مشکل کشا غریب نواز

تمہارے دامن عالی نے ہاتھ آتے ہی
بڑھا دیا ہے مرا حوصلہ غریب نواز

معین دین و عطائے رسولؐ والیَ ہند
امیر خواجہ گلگوں قبا غریب نواز

کہاں تک پھرے در در کی ٹھوکریں کھاتا
تمہارے در کا تمھارا گدا غریب نواز

سُنی ہے آپ کی بندہ نوازیوں کی دھوم
کبھی ادھر بھی نگاہ عطا غریب نواز

تمہارا ہوں میں تمہیں سے ہی التجا میری
تمہارے ہوتے کہوں کس سے یا غریب نواز

لحد میں روز قیامت میں دین دنیا میں
تمھارے نام کا ہے آسرا غریب نواز

تمہارے در کی گدائی ہے آبرو میری
تھماری دید مرا مدعا غریب نواز

ضیائے مجلس عرفاں نگار عالم قُدس
فضائے گلشنِ اِنی انا غریب نواز

کچھ اپنے بیدم خستہ کو بھی عطا کیجیے
سخی ہے آپ کی سرکار یا غریب نواز

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Thanks to Mohammed Tausif Iftekhari for Sharing

Man Shab e Siddique Ra Deedum b’Khawab

خلاصہ مطالبِ مثنوی
در تفسیر سورہَ اخلاص

قل ھواللہ احد
کہہ دو وہ اللہ ایک ہے

Man Shab e Siddque Ra Deedum b’Khawab
Gul Z Khak e Raah e Oo Cheedam b’Khawab

من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاک راہِ اُو چیدم بخواب

ایک رات میں نے خواب میں حضرت ابو بکر صدیق کو دیکھا
آپ کے راستے کی خاک سے میں نے خواب میں پھول چنے

آں امن الناس بر مولائے ما
آں کلیم اوّل سینائے ما

آپ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہمارے مولا ہیں
آپ ہمارے طور(نبی کریم ؐ ) کے پہلے کلیم ہیں

ہمت اُو کشت ملت را چو ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر

آپ کی ہمت امت کی کھیتی کے لئے بادل کی مانند ہے
آپ ثانی اسلام و غار وبدر و قبر ہیں

گفتمش اے خاصہَ خاصانِ عشق
عشقِ تو سرِ مطلعِ دیوانِ عشق

میں نے آپ سے کہا کہ آپ عشق کے خاصوں سے بھی خاص ہیں
آپ کا عشق دیوان عشق کا پہلا شعر ہے

پختہ از دستت اساسِ کار ما
چارہ ے فرما پے آزارِ ما

آپ کے ہاتھوں سے ہمارے کاموں کی بنیاد مضبوط ہوئی
آپ ہمارے دکھ درد کا علاج فرمائیں

گفت تاکہ ہوس گردی اسیر
آب و تاب از سورہ اخلاص گیر

حضرت صدیق نے فرمایا کہ کب تک اُمت حرص و ہوس میں مبتلا رہے گی
اس اُمت کو سورہ اخلاس سے چمک دمک حاصل کرنی چاہیے

ایں کہ در صد سینہ پیچد یک نفس
سرے از اسرارِ توحید است و بس

یہ جو ہزاروں سینوں میں ایک ہی طرح سے سانس چل رہا ہے
یہ توحید کے رازوں میں سے ایک راز ہے

رنگ اُو برکن مثالِ او شوی
در جہاں عکس جمال او شوی

اس جہاں میں تو اس کے رنگ کو اختیار کر کے اس کی مانند ہو جا
اس جہاں میں اُس کے جمال کا عکس بن جا

آنکہ نامِ تو مسلماں کردہ است
اذ دوئی سوے یکی آورہ است

وہ ذات کہ جس نے تیرا نام مسلماں رکھا ہے
وہ تجھے دوئی سے وحدت کی طرف لائی ہے

خویشتن را ترک و افغان خواندہ ای
وائے بر تو آنچہ بودی ماندہ ای

تو خود کو ترک اور افغان کہلانا پسند کرتا ہے
افسوس تجھ پر کہ تو جو تھا اب نہیں ہے

وارہاں نامیدہ را از نامہا
ساز با خم در گذر از جامہا

تو اس قوم کو اتنے سارے ناموں سے نجات دلا
تو صراحی سے موافقت کر اور پیالوں سے جان چھڑا

اے کہ تو رسواے نام افتادہ عی
از درخت خویش خام افتادہ ای

اے کہ تو (قوم) اتنے سارے ناموں کی وجہ سے رسوا ہو گئی ہے
اور اپنے درخت سے کچے پھل کی طرح گر گئی ہے

با یکی ساز از دوئی بردار رخت
وحدت خود را مگرداں لخت لخت

تو توحید سے تعلق جوڑ اور دوئی کو رخصت کر دے
اپنی وحدت کو اس طریقے پر ٹکڑے ٹکڑے نہ کر

اے پرستار یکی گر تو توئی
تا کجا باشی سبق خوانِ دوئی

اے ایک کے پوچنے والے اگر تو تو ہے
تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا

تو درِ خود را بخود پوشیدہ ای
در دل آور آنچہ بر لب چیدہ ای

تو نے اپنا دروازہ اپنے اوپر خود بند کر لیا ہے
تو جو زبان سے کہتا ہے دل سے بھی ادا کر

صد ملل از ملتے انگیختی
برحصارِ خود شبخوں ریختی

تو نے ایک ملت کی سو ملتیں بنا لیں ہیں
اپنے قلعے پر خود ہی شب خوں مارا ہے

یک شو و توحید را مشہود کن
غائبش را از عمل موجود کن

ایک ہو جا اور توحید کا اظہار کر دے
اپنے عمل سے غائب کو موجود کر دے

لذتِ ایماں فزاید در عمل
مردہ آں ایماں کہ ناید در عمل

ایمان کی لذت عمل کرنے سے بڑھتی ہے
مردہ ہے ایمان جس میں عمل نہ ہو

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Deeda e Deedar Jo Har Haal Mein Na Deeda Hai

Deeda e Deedar Jo Har Haal Mein Na Deeda Hai
Jis se Posheeda nahin Tum Hum sy Woh Posheeda Hai

دیدہ دیدار جو ہر حال میں نا دیدہ ہے
جس سے پوشیدہ نہیں تم ہم سے وہ پوشیدہ ہے

دیکھتا ہے سب کو لیکن سب سے خود پوشیدہ ہے
شرم سے آنکھوں کے پردوں میں وہ نور دیدہ ہے

چشم نا بینا سے پردہ ہے تو کچھ بیجا نہیں
آنکھ والوں سے بھی وہ جانِ جہاں پوشیدہ ہے

واہ رے تیری بے حجابی واہ رے تیری نقاب
لفظ پوشیدہ میں معنی کی طرح پوشیدہ ہے

جس کو دیکھو ہر گھڑی پامال کرتا ہے مجھے
کیا مری کشتِ تمنا سبزہ روئیدہ ہے

ذرہ ذرہ ہے ترا آئینہ حُسن و جمال
تو ہی پوشیدہ نہ اب صورت تری نادیدہ ہے

جب بجز اک ذات مطلق دوسرا پیدہ نہیں
کون ہے پھر غیر اور کس سے کوئی پوشیدہ ہے

ہائے وہ کہنا کِسی کا بزم میں پھیلا کے ہاتھ
آگلے مل لیں بس اتنی پات پر رنجیدہ ہے

جستجو ہے اُس کی بیدم دل ہے جسکی جلوہ گاہ
وہ چھپا ہے ہم سے جو آنکھوں کا نورِ دیدہ ہے

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Thanks to Mohammed Tausif Iftekhari for Sharing

Naseema Janib e Bat-HA Guzar Kun

Naseema Janib e Bat-hA Guzar Kun
Ze Ehwalam Muhammad Ra Khabar Kun

نسیما ! جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کن

اے صبا بطحا کی طرف چل
میرے احوال حضورؐ کو سنا

O morning breeze! set out towards Bat’haa,”
Inform Muhammad of my plight

ببریں جانِ مشتاقم بہ آں جا
فدائے روضہ خیر البشر کُن

میری بے تاب جان کو اُس جگہ لے جا
تا کہ یہ حضور کے روضہ اقدس پر نثار ہو جائے

Take me to that place so that
I sacrifice my life at the shrine of Muhammad (best of mankind)

توئی سلطان عالم یا محمد
زروئے لطف سوئے من نظر کن

یا رسول اللہ آپ ہی دونوں جہان کے سلطان ہیں
آپ نگاہ کرم مجھ پر ڈالیں

Muhammad ; You, who are the Emperor of both worlds
Cast your graceful, blessed glance towards me

مشرف گرچہ شد جامی زلطفش
خدایا ! ایں کرم با ر دگر کن

جامی اگرچہ آپؐ کے لطف سے محظوظ ہو گیا
یا اللہ یہ کرم بار بار ہو

Although you have showered your grace on Jami
In God’s name, grant him this favor once again.

مولانا عبدالرحمن جامی
Molana Abdur Rehman Jami

Mein koji Mera Dilbar Sohna Mein Kyunkar us Noon Bhawaan Hoo

Mein koji Mera Dilbar Sohna Mein Kyunkar us Noon Bhawaan Hoo

میں کوجی میرا دلبر سوہنا ، میں کیونکر اس نوں بھانواں ہُو
ویہڑے ساڈے وڑدا ناہیں پئی لکھ وسیلے پانواں ہُو
ناں میں سوہنی ناں دولت پلّے ، کیوں کر یار مناواں ہُو
ایہہ دکھ ہمیشاں رہسی باہو روندڑی ہی مر جاواں ہُو

میں بد صورت ہوں میرا محبوب نہائت حسین ہے ، میں کس طرح سے اس کو پسند آ سکتی ہوں
میرے گھر میں وہ قدم نہیں رکھتا میں نے لاکھوں تدبیریں کیں ہیں
نہ تو میں حوبصورت ہوں نہ ہی مال و دولت ہے میں کیسے محبوب کو مناوں
باہو یہ دکھ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ رو رو کر مر جاؤں

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Khizaan Ke Marey Huwe Janib e Bahar Chale

Khizaan Ke Marey Huwe Janib e Bahar Chale
Qarar Pane Zamaney Ke Be Qarar Chale

خزاں کے مارے ہوئے جانب بہار چلے
قرار پانے زمانے کے بے قرار چلے

وہ راہیں مہکیں وہ کوچے بھی عطر بیز ہوئے
جدھر جدھر سے وہ محبوب کرد گار چلے

اے تاجدارِ جہاں اے حبیب ربِ کریم
وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

وہیں پہ تھام لیا اُن کو دست قدرت نے
نبیؐ کے در کی طرف جب گناہگار چلے

جھکا کے اپنی جبیں اُن کے آستانے پر
نصیب بگڑا ہوا تھا اسے سنوار چلے

ہمارے پاس ہی کیا تھا جو نذر کرتے انہیں
بس ایک دل تھا جسے کر کے ہم نثار چلے

ریاض عظمت نعلین مصطفےٰ کی قسم
سروں پہ رکھتے ہوئے اس کو تاجدار چلے

ریاض اُن کے کرم سے ہوئی ہے جیت اپنی
وگرنہ بازی تھے ہم زندگی کی ہار چلے

علامہ سید ریاض الدین سہروردی
Syed Riaz uddin Soharwardi

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha
Kahin Zaahir Kahin Chhupa Daikha

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں
کہیں کاسا لیئے گدا دیکھا

کر کے دعویٰ اناالحق کا
برسر دار وہ کھنچا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشوقہ
بر سر ناز و ادا دیکھا

صورت گل میں کھلکھلا کہ ہنسا
شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریان و دل جلا دیکھا

Hazrat Shah Niaz
حضرت شاہ نیاز 

Khusboo Hai Do Aalam Main Teri Ae Gul e Cheeda

Khusboo Hai Do Aalam Main Teri Ae Gul e Cheeda
Kis Moun Se Bayan houn Tere Ausaaf Hameeda

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُل چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

تُجھ سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں
دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ

مضمر تیری تقلید میں عالم کی بھلائی
میرا یہی ایماں ہے یہی میرا عقیدہ

اے رحمت عالم تیری یادوں کی بدولت
کس درجہ سکوں میں ہے میرا قلب تپیدہ

خیرات مجھے اپنی محبت کی عطا کر
آیا ہوں بڑی دور سے با دامان دریدہ

یوں دور ہوں تائب میں حریم نبویؐ سے
صحرا میں ہو جس طرح کوئی شاخ بریدہ

حفیظ تائب
Hafeez Taib

Thanks to Mustafa Khan for Sharing the Naat

Balaghal-ula be-Kamal-e-hi

Balaghal-ula be-Kamal-e-hi

بلغ العلی بکمالہ

پہنچے بلندی پر اپنے کمال سے

Kashafad-duja be-Jamaal-e-hi

کشف الدجی بجمالہ

دور کر دیا اندھیرا اپنے جمال سے

Hasunat jamee’u Khisaal-e-hi

حسنت جمیع خصالہ

حسیں ہیں آپ کی سب خصلتیں

Sallu alae-hi wa Aal-e-hi

صلو علیہ و آلہ

درود بھیچو آپؐ پر اور آپؐ کی آل پر

شیخ سعدی شیرازی

Sheikh Saadi Shirazi