Zarre Zarre Mein Tu WahdaHoo WahdaHoo

Zarre Zarre Mein Tu WahdaHoo WahdaHoo
Hai Sadda Char Soo WahdaHoo WahdaHoo

ذرے ذرے میں تو وحدہُ وحدہُ
ہے صدا چار سو وحدہُ وحدہُ

ساری مخلوق کے لب پہ ہے رات دن
تیری ہی گفتگو وحدہُ وحدہُ

تیرے ڈر سے جو روتی ہے اُس آنکھ کا
ہو گیا ہے وضو وحدہُ وحدہُ

صورتِ مصطفی میں ہوا جلوہ گر
خود ہی تو ہو بہو وحدہُ وحدہُ

جاؤں دُنیا سے جب ہو لبوں پہ ریاض
اللہ ہو اللہ ہو وحدہُ وحدہُ

علامہ سید ریاض الدین سہروردی
Syed Riaz uddin Soharwardi

Awal Hamd Khuda Da Vird Kijey Ishq Kita So Jag Da Mol Mian

Awal Hamd Khuda Da Vird Kijey Ishq Kita So Jag Da Mol Mian

اول حمد خدا دا ورد کیجے، عشق کیتا سو جگ دا مول میاں
پہلوں آپ ہی رب نے عشق کیتا ، معشوق ہے نبی رسول میاں
عشق پیر فقیر دا مرتبہ اے، مرد عشق دا بھلا رنجول میاں
کھلے تنہاندے باغ قلوب اندر، جنہاں کیتا اے عشق قبول میاں

سب سے پہلے اللہ پاک کی تعریف جس نے عشق کی ابتدا کی اور  عشق کو جہاں کا دام مقرر کیا
سب سے پہلے عاشق خود بنا اور رسول کریمﷺ کو اپنا محبوب بنایا
عشق تو پیروں فقیروں کا مرتبہ ہے،عاشق حقیقی بڑا خوش قسمت ہوتا ہے
ان کے دلوں میں باغ کھلتے ہیں جو عشق کو قبول کر لیتے ہیں

سید وارث شاہ
Waris Shah

Muj Ko Ya Allah Apna Ishq Dai Hai Ibaadat Sirf Teray Wastay

Muj Ko Ya Allah Apna Ishq Dai
Hai Ibaadat Sirf Teray Wastay

مناجات بدرگاہ قَاضی الحاجات بواسطہ اسماالحُسنیٰ

مجھ کو یا اللہ اپنا عشق دے
ہے عبادت صرف تیرے واسطے

مستحق تو ہی عبادت کا ہوا
ہے توئی معبود ساری خلق کا

بخش یا رحمٰنُ میں ہوں خوارتر
یا رَحِیُم مہربانی مجھ پہ کر

خلق ہے یا مَالکُ کہتی تجھے
لے بچا دوزخ سے جنت دے مجھے

مجھ کو یاقدّوسُ کر عیبوں سے پاک
تو مجسم نوُر میں اک مشت خاک

یا سَلام ُدین و ایماں کو میرے
رکھ سلامت اپنے فضل و لطف سے

امن دے یامومنُ  مجھ کو سدا
یامُھیِمن ُہو نگہباں تو میرا

یا عَزیزُ میرے دشمن ہوویں سست
کام یا جَبّارُ میرے کر درست

تو ہے یا مُتکبّرُ سب سے بڑا
مجھ کو مغروروں کی صحبت سے بچا

جز تیرے یاخَالقُ ارض وسما
کس نے سب خلقت کا اندازہ کیا

کن سے یا باَرِیُ تو پیدا کرے
یا مُصوِرُ صورت و فطرت گرے

بخش یا غَفّا رُ عصیاں سر بسر
نفس پر غالب تو یا قَہّارُ کر

بے عوض تو رزق یا وہّاب دے
رزق یا رزّاق دے دو قسم کے

کھول یا فتّاحُ تو روزی کا در
یا عَلِیمُ علم دے کر با خبر

تنگ کر یا قاَبِضُ ہر شے پلید
رزق کر یا بَاسِطُ طیب مزید

پست ہوں یا حَافِضُ دشمن میرے
دے مجھے یاَ رافِعُ رتبے بڑے

یا معزُمجھ کو عزت کر عطا
یا  مُذِلُ مجھ کو ذلت سے بچا

یا سَمیعُ سن میری فریاد کو
یا بَصیرُ دیکھ مجھ ناشاد کو

یا حَاکِمُ حکم پر اپنے چلا
ڈر ہے یا عَادِلُ تیرے انصاف کا

یا ِِلطیفُ مجھ پہ اپنا لطف کر
یا خَبیُر جلد لے میری خبر

یا حَلیمُ بردباری کر عطا
یا عَظیُم ہے توئی سب سے بڑا

یا غَفورُ بخش دے میرے گناہ
یا شَکورُ شکر کر مجھ کو عطا

یا عَلِّیُ رتبہ ہے تیرا بڑا
یا ِکبیرُ تو بڑا سب سے بڑا

یا حَفیِظُ عافتوں سے رکھ نگاہ
یامُقِیتُ تن میں دے قوت کو راہ

یا حَسیِبُ سہل ہو مجھ پر حساب
یا جَلیل تو بڑا عالی جناب

یا  کَریمُ تو سخی محتاج سب
یا رَقیبُ تو نگہباں روزوشب

یا مجیب کر دعا میری قبول
دین و دنیا میں نہ کر مجھ کو ملول

علم کر یا وَاسعُ مجھ پر فراخ
بعد مردن قبر میری ہووے کاخ

یا حکیم تو ہے دانائے عمل
یا وَدُودُ تو محب بے بدل

یا مُجِیدُ ذات میں ہے تو بڑا
قبر سے یا باَعثُ مومن اٹھا

یا شَہیدُ حاضرو آگاہ کل
تو ہی ہے یاحَقُ شہنشاہ کل

یا وَکَیلُ  کار ساز بیکساں
یا قَویُ قوت بے مایئگاں

یا متینُ دین پر رکھ استوار
یا وَلِیُ کر مدد لیل و نہار

یا حَمیُد حمد ہے تیری سدا
تو ہے یا محُصِیُ محیط ما سوا

پہلے بھی یا مبدُ پیدا کیا
یا مُعید ُتو ہی ہے مرجع ہوا

زندہ یا محی ہون جبتک شاد رکھ
جب مروں میں یا ممیت یاد رکھ

تو ہی یا حَیی ُزندہ ہے تا ابد
تو ہی یا قیومُ قائم ہے احد

رکھ غنی مجھ کو سدا یا وَاجدُ
سب بڑائی تجھ کو ہے یا مَاجدُ

ہے تویئ یا دَاحدُ عالی صفات
یا احَدُ مطلق یگانہ پاک ذات

یا صَمد ہے سب کو تیری جستجو
سب تیرے محتاج بے پرواہ ہے تو

نفس پر یا قاَدرُ قادر رہوں
اس طرح یا مقشدر نادر ہوں

یا مُقدمُ ہووے اگلوں میں گزر
یا موخِر پیچھے والوں میں نہ کر

ہے توئی یا اَولُ اول قدیم
پھر توئی یا آخِرُ ہو گا مقیم

سب پہ تو یا ظَاہرُ ظاہر ہوا
تیری صفتوں سے ہر اک ماہر ہوا

وہم سے یا باطن تو پا ک ہے
عقل کو تیرا کہاںادراک ہے

تو ہے یا وَالی ِولی بندگاں
کار سازومالک ہر دو جہاں

تیرا یا متعالِی ہے رتبہ کمال
کس طرح یا بر ہو تیری مشال

میری یا تَوابُ توبہ کر قبول
رحم کر یا مُنعِمُ میں ہوں ملول

یا عَفوُ کر گناہ سے درگزر
یا رَوفُ ہو عنایئت کی نظر

مَالکُ الُملکْ ہے صحیح یہ تیرا نام
دے مجھے اَقْلیِم میں عالی مقام

ذُوالجلال ہے اور والاکرام ہے
دے مجھے جنت کہ تیرا کام ہے

عدل سے یا مُقسِتُ ڈرتا ہوں میں
فضل کی امید بس کر تا ہوں میں

جمع کر یا جَامعُ دل کو میرے
یا غَنیُ کر دے بے پرواہ مجھے

مجھ کو یا مُغنیِ بے پرواہ بنا
ہو نہ کچھ یا مانع نقصاں میرا

جو ضرر یا ضَارْ ہے وہ دور رکھ
نفع سے یا نَافعُ مسرور رکھ

کر دے یا نُورُ منور دل میرا
راہ یا ھَادی مجھے سیدھی دکھا

یا بَدیعُ تو بڑا ہے لا زوال
کر دیا عالم کو پیدا بے مثال

ہے تو یا باَقیُ باقی سدا
ہے توئی یا وارثُ وارث میرا

یا رَشیدُ راہ نیکی کی دکھا
ہر برائی سے قلؔندر کو بچا

یا الہٰی از طفیل مصطفے
معرفت اپنی مجھے تو کر عطا

Abul Faiz Qalandar Ali
ابو الفیض قلندر علی

Download Mp3 Here:Munajaat Asmaul Husna

Tu Ghani az Har Do Alam man Faqir

Tu Ghani az Har Do Alam man Faqir
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر

Tu Ghani az Har Do Alam man Faqir
Roz e Mehshar Uzr Hai Man Pazeer

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر

You are the self sufficient (un-wanting) and independent from both the worlds and I am a miserable Faqeer.
At the day of judgement (Doomsday) please accept my excuse and forgive me

علامہ اقبال بارگاہ الہیٰ میں التجا کر رہیے ہیں

تو دونوں عالم سے بے نیاز ہے اور میں ایک عاجز سوالی ہوں
روز قیامت میری ایک عرض قبول کر لینا

Var Hisabam Ra Tu beeni Naguzeer
Az Nigah e Mustafa Pinhaan Bageer

ورحسابم را تو بینی نا گزیر
از نگاہ مصطفے پنہاں بگیر

If you must want to open my record and it is inevitable (unavoidable)
Please keep it hidden from my beloved prophet Mustafa (PBUH)

اگر میرا حساب نامہ اعمال دیکھنا بڑا ہی ضروری ہے تو
برائے مہربانی حضور ؐ کی نگاہوں سے بچا کر حساب کرنا

مطلب یہ کہ میں گناہ گار اُمتی ہوں میں اپنے نبی کے سامنے شرمند گی سے بچ جاؤں

اور حضور کو میری وجہ سے تیرے دربار میں اور دیگر انبیا کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے
اس لئے مجھے ایک طرف ہٹا کرتنہائی میں حساب کتاب کرنا

————————————————————————————–
دوسری طرف حضرت بیدم وارثی نے کسی اور خواہش کا اظہار کیا روز قیامت کے پس منظر میں

عجب تماشا ہو میدان حشر میں بیدم
کہ سب ہوں پیش خدا اور میں روبروئے رسول

————————————————————————————–

Thanks to Asifa Mumtaz for sharing the following article of Irfan Siddique

Tu Ghani Az Har Do Alam - Allama Iqbal -column -Naqsh Khiyal -Irfan Siddique -

Tu Ghani Az Har Do Alam- Allama Iqbal- Column Naqsh Khiyal by Irfan Siddique

Orya Maqbool Jan - Harf e Raaz - Tu Ghani Az har do Alam

Orya Maqbool Jan – Harf e Raaz –
Tu Ghani Az har do Alam

  Allama Iqbal
علامہ اقبال

Tu Ba elm e Azal Mera Deedi

 

Tu Ba elm e Azal Mera Deedi
تو بعلم ازل مرا دیدی

تو بعلم ازل مرا دیدی
دیدی آنگہ بعیب بخریدی

تو نے ازلی علم سے مجھے دیکھا
دیکھنے کے بعد عیبوں سمیت خرید لیا

تو بعلم آں و من بعیب ہماں
رد مکن آنچہ تو خود پسندیدی

تیرا وہ ازلی علم اور میرے وہ عیب
اب مجھے ردنہ کریں جب تو نے پسند کرہی لیا ہے

Abul Faiz Qalandar Ali
ابو الفیض قلندر علی