BJuz Tumhare Kahoon Kis Se Ya Ghareeb Nawaz

BJuz Tumhare Kahoon Kis Se Ya Ghareeb Nawaz
Suno Meri Mere Mushkil Kusha Ghareeb Nawaz

بجز تمھارے کہوں کس سے یا غریب نواز
سنو مری مرے مشکل کشا غریب نواز

تمہارے دامن عالی نے ہاتھ آتے ہی
بڑھا دیا ہے مرا حوصلہ غریب نواز

معین دین و عطائے رسولؐ والیَ ہند
امیر خواجہ گلگوں قبا غریب نواز

کہاں تک پھرے در در کی ٹھوکریں کھاتا
تمہارے در کا تمھارا گدا غریب نواز

سُنی ہے آپ کی بندہ نوازیوں کی دھوم
کبھی ادھر بھی نگاہ عطا غریب نواز

تمہارا ہوں میں تمہیں سے ہی التجا میری
تمہارے ہوتے کہوں کس سے یا غریب نواز

لحد میں روز قیامت میں دین دنیا میں
تمھارے نام کا ہے آسرا غریب نواز

تمہارے در کی گدائی ہے آبرو میری
تھماری دید مرا مدعا غریب نواز

ضیائے مجلس عرفاں نگار عالم قُدس
فضائے گلشنِ اِنی انا غریب نواز

کچھ اپنے بیدم خستہ کو بھی عطا کیجیے
سخی ہے آپ کی سرکار یا غریب نواز

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Thanks to Mohammed Tausif Iftekhari for Sharing

Dar Jaan Choo Kard Manzil Jaanan e Ma Muhammad

Dar Jaan Choo Kard Manzil Jaanan e Ma Muhammad
Sad Dar Kusha Dar Dil Az Jaan e Ma Muhammad

در جان چو کرد منزل جانان ما محمد ﷺ
صد در کشا در دل از جان ما محمد ﷺ

جب سے میرے محبوب حضرت محمد ﷺ نے میرے دل میں گھر کیا ہے
میری جان و دل میں سینکڑوں دروازے محبوب کی وجہ سے کھل گئے ہیں

ما بلبلیم بالاں در گلستان احمد ﷺ
ما لولوئیم و مرجاں عمان ما محمد ﷺ

ہم گلستان احمد کی بلند مرتبت  بلبلیں ہیں
ہم لولو اور مرجان کے موتی ہیں اور آپﷺ دریا ہیں

مستغرق گناہیم ہر چند عذر خواہیم
پژ مردہ چوں گیاہیم باران ما محمدﷺ

ہم گناہوں میں غرق ہیں اور عذر خواہ ہیں
ہم خشک گھاس کی مانند ہیں اور آپ ہمارے لئے باران رحمت ہیں

از درد زخم عصیاں مارا چہ غم چو سازد
از مرہم شفاعت درمان ما محمد ﷺ

ہم گناہوں کے زخموں سے چور ہیں ، لیکن یہ فکر نہیں کہ کیوں ہوا کیسے ہوا
کیونکہ ہمیں شفاعت کا مرہم ملے گا اور حضور ہمارا مداوا کریں گے

امروز خون عاشق در عشق اگر ہدر شد
فردا ز دوست خواہم تاوان ما محمدﷺ

آج اگر عاشق کا خون عشق کی راہ میں ہوا ہے
تو کل قیامت میں حضور اس کا بدلہ تاوان دلوا دیں گے

ما طالب خدایئم بر دین مصطفائیم
بر در گہش گدائیم سلطان ما محمد

ہم طالب باری تعالیٰ ہیں اور دین مصطفیٰ پر قائم ہیں
انہیں کے در پر پڑے ہیں اور حضور ہمارے سلطان ہیں

از امتاں دیگر ما آمدیم برسر
واں را کہ نیست یاور برہان ما محمد ﷺ

حضور کی بدولت دوسری امتوں سے افضل ہیں
اُن کے پاس کوئی مددگار نہیں اور حضور ﷺ ہماری روشن دلیل ہیں

اے آب و گل سرودے وی جان و دل درودے
تا بشنود بہ یژب افغان ما محمدﷺ

اے پانی و مٹی کے پتلے نغمے گا اور دل و جان سے حضور پر درود بھیج
تا کہ مدینے میں حضور ﷺ سنیں اور ہماری آہ و زاری کو

در باغ و بوستانم دیگر مخواں  معینے
باغم بشست قرآں بستان ما محمد

اے معین ہمارے باغ و بوستاں میں کچھ اور نہ پڑھ
حضور ﷺ کی طفیل قرآن ہمارا باغ بن چکا ہے

خواجہ معین الدین چشتی
Khwaja Moinuddin Chishti

Een Manam Ya Rab Ke Andar Noor e Haq Fani Shudam

Een Manam Ya Rab Ke Andar Noor e Haq Fani Shudam
Matla e Anwaar e Faiz Zaat e Subhani Shudam

ایں منم یا رب کہ اندر نور حق فانی شدم
مطلع انوار فیض ذات سبحانی شدم

اے میرے رب میں تیرے نورحق میں فانی ہو چکا ہوں
تیری پاک ذات کے انوار کے  فیض کا مطلع بن چکا ہوں

ذرہ ذرہ   از  وجودم  طالب  دیدار  گشت
تا کہ من مست   از  تجلی  ہائے  ربانی  شدم

میری جسم وجان کا ذرہ ذرہ تیرے دیدار کا طالب ہے
جب سے میں تجلیات ربانی سے مست ہوا ہوں

زنگ غیرت را    ز  مرآت  دلم  بزدود  عشق
تا بکلی  واقف  اسرار  پنہانی  شدم

تیرے عشق نے میرے دل پر سے غیرت کا زنگ دور کر دیا ہے
تاکہ میں ان چھپے ہوئے رازوں سے مکمل واقف ہو جاؤں

من چناں بیروں شدم از ظلمت  ہستی  خویش
تا ز نور ہستی  او آنکہ می دانی  شدم

میں اپنی ہستی کے اندھیروں سے باہر نکل آیا ہوں
لہذا اُس کی ہستی کے نور سے آگاہ ہو گیا ہوں

گر ز دود نفس ظلمت پاک بودم سوختہ
ز امتزاج آتش عشق تو نورانی شدم

اگرچہ نفس کےظالم دھویئں نے مجھے جلا  کر راکھ کر دیا ہے
مگر میں تیرے عشق کی آگ سے نورانی ہو گیا ہوں

خلق می گفتند کیں راہ را بدشواری روند
اے عفاک اللہ کہ من بارے بآسانی شدم

خلق کہتی ہے کہ مشکل راہ پر کیوں پڑا ہے
اللہ کا شکر ہے کہ اس راہ کوبا آسانی طے کر لیا ہے

دم بدم روح القدس اندر معینی می دمد
من نمی دانم مگر عیسیٰ ثانی شدم

دم بدم معین کے اندر روح القدس کو پھونکی جا رہی ہے
میں وجہ نہیں جانتا مگر عیسی ثانی ہو گیا ہوں

خواجہ معین الدین چشتی
Khwaja Moinuddin Chishti

Agar Ba Chashm e Haqiqat Wajood e Khud Beeni

Agar Ba Chashm e Haqiqat Wajood e Khud Beeni
Qayam Jumla Ashya Bahbood e Khud Beeni

اگر بچشم حقیقت وجود خود بینی
قیام جملہ اشیاء بہبود خود بینی

اگر حقیقت کی آنکھ سے  خود اپنے وجود کو دیکھو گے
تو جملہ تمام اشیا کو تم اپنے وجود میں دیکھو گے

دجود ہیزمیت نار موسوی گردد
اگر بروں کنی از سر تو دود خود بینی

تیرا وجود خشک ایندھن کی طرح نار موسوی بن جائے گا
اگر تو اپنے سر سے خود بینی کے دھوئیں کو نکال باہر کرے

ز قعر لجہ توحید در عشق برار
کہ گنج مخفی حق را نفود خود بینی

دریائے توحید کی گہرائی سے عشق کے موتی نکال کر لا
تا کہ تو اپنے اندر حق تعالیٰ کا مخفی خزانہ محسوس کرے

بہ قصر عشق تراپایہ از سر جہدست
کہ تخت ہر دو جہاں را فرود خود بینی

ایوان عشق میں تیرا درجہ بلند ہو گا جدوجہد سے
تو ہر دو جہان میں اپنا مقام اپنے مرضی کے مطابق دیکھے گا

تو چوں فرشتہ نظر بر جمال دوست گمار
نہ چوں لعیں کہ ہمیں در سجود خود بینی

تو فرشتوں کی مانند اپنی نظریں یار کے حسن و جمال پر لگا دے
شیطان کی طرح سجدوں کے باوجود انا پرست نہ بن

ازیں حضیض و دنایت چو بگذری شاید
کہ تا  دنا فتدلیٰ صعود خود بینی

اپنے تنگ و تاریک پنجرے سے باہر نکل کہ شاید
تا کہ تو دنا و فتدلیٰ کی بلندیوں اور قربتوں کو دیکھے

بباز خانہ بروں آ ونور دوست نگر
تو چند شیشہ سرخ و کبود خود بینی

اپنے گھر سے باہر نکل اوریار کے نور کو دیکھ
تو آخر کب تک دنیا وی شیشوں کی رنگ برنگی روشنیوں میں کھویا رہے گا

اگر ز آئینہ زنگ حدوث بزوائی
جمال شائد حق در شہود خود بینی

اگر تو اپنے دل کا زنگ اتار دے
پھر شائد توجمال حق کا جلوہ اپنے دجود میں دیکھ سکے

بہ بند دیدہ ز اعیاں کہ تا ز عین عیاں
وجود دوست چو جان وجود خود بینی

آنکھیں بند کر لے اور اعیان کی جگہ عین عیاں دیکھ
تا کہ دوست کے وجود کو اپنے وجود کے طرح دیکھ سکے

بیا بزم گدایاں شہ نشاں خودی ست
کہ تا نتیجہ  احساں وجود خود بینی

خودی کے شہ نشیں گداؤں کی محفل میں آجا
تا کہ تو اپنے وجود حقیقی کو پا کراحسان مند ہو جائے

در آ بہ مجلس مسکیں معین شوریدہ
کہ نقل و بادہ ز گفت و شنود  خود بینی

آ جا اور مجھ عاشق دیوانہ مسکیں معین کی مجلس میں بیٹھ
تا کہ تجھے گفت و شنود کی شرینی و حلاوت  اور زندگی کا شعور ملے

خواجہ معین الدین چشتی
Khwaja Moinuddin Chishti

Man Nami Goym Anal Haq Yaar Me Goid Bago

Man Nami Goym Anal Haq Yaar Me Goid Bago
Choon Nagoym Choon Mera Dildar Me Goid Bago

من نمی گویم انا الحق یار می گوید بگو
چوں نگویم چوں مرا دلدار می گوید بگو

میں انا الحق نہیں کہتا،میرا یار کہتا ہے کہ میں کہوں
پھر کس طرح نہ کہوں جب میرامحبوب مجھے کہتا ہے کہ میں کہوں

ہر چہ می گفتنی بمن بار می گفتی مگو
من نمی دانم چرا ایں بار می گوید بگو

جو کچھ بھی وہ مجھے فرماتا ہے ،مجھے بیان کرنے سے منع کرتا ہے
میں نہیں جانتا کہ اس بار کیوں کہہ رہا ہے کہ میں کہہ دوں

آں چہ نتواں گفتن اندر صومعہ با زاہداں
بے تحاشا بر سر بازار می گوید بگو

وہ بات جو گرجے میں عابدوں سے بھی کہنے کی نہیں
اس پر بار بار اصرار ہے کہ میں کھل کے سر بازار کہہ دوں

گفتمش رازے کہ دارم با کہ گویم در جہاں
نیست محرم با در و دیوار می گوید بگو

اس راز کو جو مجھے معلوم ہے جہاں میں کس سے کہوں
میرا رازداں کوئی نہیں ،فرمایا درودیوار سے کہوں

سر منصوری نہاں کردن حد چوں منست
چوں کنم ہم ریسماں ہم دار می گوید بگو

منصور کا راز چھپانے کی ہمت نہیں
کیوں نہ کہوں کہ دار کی رسی خود کہہ رہی ہے کہ میں کہوں

آتش عشق از درخت جان من بر زد علم
ہر چہ با موسی بگفت آں یار می گوید بگو

عشق کی آگ کا اظہار جب میری جان کے درخت سے ہو گیا
جو کچھ کہ موسیؑ نے کہا تھا ، محبوب کہتا ہے میں کہوں

گفتمش من چوں نیم در من مدام می دمے
من نخواہم گفتن اسرار می گوید بگو

میں بانسری کی طرح ہوں اور مدام پھونک مارتا ہے
میں یہ اسرارنہیں کہنا چاہتا لیکن وہی مجھے کہتا ہے کہ میں کہوں

اے صبا کہ پرسدت کز ما چہ می گوید معیں
ایں دوئی را از میاں بر دار می گوید بگو

اے صبا محبوب پوچھے کہ معین ہمارے بارے میں کیا کہتا ہے
کہنا کہ اس دوئی کہ پردے کودرمیان سے  ہٹا کر خودہرراز کہ دے

اسکا منظوم اردو ترجمہ جناب عبد القادر فدائ صاحب مرحوم نے اس طرح کیا:

میں نہیں کہتا انا الحق یار کہتا ہیکہ کہہ
جب نہیں کہتا ہوں میں دلدار کہتا ہیکہ کہہ

پہلے جو کہتا تھا وہ، تاکید کرتا تھا نہ کہہ
پھر نہ جانے کس لئے اس بار کہتا ہیکہ کہہ

جو نہ کہنا چاہئے تھا زاہدون کے سامنے
بہ تحاشا برسرِ بازار کہتا ہیکہ کہہ

رازِ منصوری چھپانے کی نہیں ہے مجھ پہ حد
کیا کروں پھانسی کا پھندا دار کہتا ہیکہ کہہ

میں نے پوچھا اس جہاں میں رازِ دل کس سے کہوں
محرمِ دل جب تمیں دیوار کہتا ہیکہ کہہ

عشق کی آتش نے جھنڈا کردیا دل پہ نصب
جو کہ موسیٰ نے کہا تھا یار کہتا ہیکہ کہہ

میں نہیں ویسا تو میری خاک میں ہے کیوں چمک
چاہتا ہوں نہ کہوں اسرار کہتا ہیکہ کہہ

اے صبا تجھ سے وہ پوچھیں کچھ معیں کہتا بھی تھا
دور کرنے کو دوئ غم خوار کہتا ہیکہ کہہ

خواجہ معین الدین چشتی
Khwaja Moinuddin Chishti

Thanks to Badshah Mohiuddin for contribution.