Kafir e Ishq Houn Main Banda e Islam Nahin

Kafir e Ishq Houn Main Banda e Islam Nahin
Butt Parasti Ke Siwa Aur Mujhay Kaam Nahin

Ishq Main Poojta Houn Qibla o Kaaba Apna
Ek Pal Dil Ko Mere Es Ke Bin Aaraam Nahin

کافر عشق ہوں میں بندہ اسلام نہیں
بت پرستی کےسوا اور مجھے کام نہیں

عشق میں پوجتا ہوں قبلہ و کعبہ اپنا
اک پل دل کو میرے اس کے بنا آرام نہیں

ڈھونڈتا ہے تو کدھر یار کو میرے ایماہ
منزلش در دلِ ما ہست لبِ بام نہیں

بوالہوس عشق کو تو خانہ خالہ مت بوجھ
اُسکا آغاز تو آسان ہے پر انجام نہیں

پھانسنے کو دلِ عشاق کے اُلفت بس ہے
گہیر لینے کو یہ تسخیر کم از دام نہیں

کام ہو جائے تمام اُسکا پڑی جس پہ نگاہ
کشتہ چشم کو پھر حاجتِ صمصام نہیں

ابر ہے جام ہے مینا ہے می گلگون ہے
ہے سب اسبابِ طرب ساقی گلفام نہیں

ہائے رے ہائے چلی جاتی ہے یوں فصل بہار
کیا کروں بس نہیں اپنا وہ صنم رام نہیں

جان چلی جاتی ہے چلی دیکھ کے یہ موسم گُل
ہجر و فرقت کا میری جان پہ ہنگام نہیں

دل کے لینے ہی تلک مہر کی تہی ہم پہ نگاہ
پھر جو دیکھا تو بجز غصہ و دشنام نہیں

رات دن غم سے ترے ہجر کے لڑتا ہے نیاز
یہ دل آزاری میری جان بھلا کام نہیں

Hazrat Shah Niaz
حضرت شاہ نیاز 

Thanks to Mohammed Tausif Iftekhari for Sharing

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha
Kahin Zaahir Kahin Chhupa Daikha

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں
کہیں کاسا لیئے گدا دیکھا

کر کے دعویٰ اناالحق کا
برسر دار وہ کھنچا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشوقہ
بر سر ناز و ادا دیکھا

صورت گل میں کھلکھلا کہ ہنسا
شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریان و دل جلا دیکھا

Hazrat Shah Niaz
حضرت شاہ نیاز 

Bahraist Bahr e Ishq Ke Bahaichash Kinara Naist

Bahraist Bahr e Ishq Ke Bahaichash Kinara Naist

‫بحریست بحرِ عشق کہ بہیچش کنارہ نیست
آن جا جُز اینکہ جاں بسپارند چارہ نیست

عشق کا سمندر ایسا سمندر ہے جِس کا کوئی کنارہ نہیں،وہاں بجُز جان دینے کے اور کوئی چارہ نہیں۔۔

آں دم کہ دِل بہ عشق دہی خوش دمے بود
در کارِ خیر حاجتِ ہیچ اِستخارہ نیست

جِس وقت بھی دِل کو عشق میں لگا دو وہی وقت اچھا ہو گا،کیونکہ نیک کام کرنے کے لئے کِسی اِستخارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔

مارا بمنعِ عقلِ مترسان و مے بیار
کآں شحنہ در وِلایتِ ما ہیچ کارہ نیست

عقل کی ممانعت کی وجہ سے ہمیں عشق سے نہ ڈرا اور شراب لا،اِس لئے کہ عقل ایسا سپاہی ہے جِس کا مُلکِ عشق میں کوئی کام نہیں۔۔

از چشمِ خود بپُرس کہ مارا کہ میکُشد
جاناں گناہِ طالع و جرمِ ستارہ نیست

اپنی آنکھ سے پوچھ کہ ہمیں کون قتل کر رہا ہے؟ میری جان یہ نصیبہ کی خطا یا ستارے کا جرم نہیں بلکہ تیری آنکھ کا ہے۔۔

رُویش بچشمِ پاک تواں دید چوں ہِلال
ہر دیدہ جائے جلوہء آں ماہ پارہ نیست

اِس کا چہرہ ہلال کی طرح پاک نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے،کیونکہ ہر آنکھ اُس ماہ پارے کے جلوے کی جگہ نہیں ہے۔۔

فُرصت شُمر طریقہء رِندی کہ ایں نِشاں
چوں راہِ گنج ہر ہمہ کس آشکارہ نیست

رِندی کے راستے کو غنیمت سمجھ اِس لئے کہ یہ نِشان خزانے کے راستے کی مانند ہر شخص پر آشکارہ نہیں۔۔

نگرفت در تو گِریہء حافظ بہیچ روی
حیرانِ آں دِلم کہ کم از سنگِ خارہ نیست

حافظ کی گریہ و زاری نے کِسی طرح بھی تجھ پر اثر نہ کیا،میں تو تیرے دِل پر حیران ہوں جو کِسی طرح بھی سنگِ خارہ سے کم نہیں ہے۔۔

Thanks to Raja Nauman for sharing this.

Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Man Ke Basham Az Bahar e Jalwa e Dildar Mast

Man Ke Basham Az Bahar e Jalwa e Dildar Mast
Choon Maney Naid Nazar Dar Khana Khumaar Mast

 

 من کہ باشم از بہار جلوہ دلدار مست
چون منے ناید نظر در خانہ خمار مست

میں تو دلدار کے جلوے کی بہار سے مست ہوں
میخانے میں میری طرح کا مست نظر نہیں آتا

مے نیاید در دلش انگار دنیا ہیچ گاہ
زاہدا ہر کس کہ باشد از ساغر سرشار مست

شراب کے آنے سے دل میں دنیا کی قدر ختم جاتی ہے
اے زاہد جو کوئی بھی ساغر سرشار سے مست ہو

جلوہ مستانہ کر دی دور ایام بہار
شد نسیم و بلبل و نہر و گلزار مست

تو نے بہار کے دنوں میں اپنا جلوہ مستانہ دکھایا
جس کی وجہ سے ہوا و بلبل ، نہر و پھول و باغ سبھی مست ہو گئے

من کہ از جام الستم مست ہر شام کہ سحر
در نظر آید مرا ہر دم درو دیوار مست

میں تو روز ازل سے جام الست سے مست ہوں اور ہر صبح و شام
درودیوار ہر لمحے مجھے مست نظر آتے ہیں

چون نہ اندر عشق او جاوید مستیہا کنیم
شاہد مارا بود گفتار و ہم رفتار مست

میں کیوں اس کے عشق میں مستیاں نہ کروں
جب کہ محبوب کہ رفتار و گفتار دونوں ہی مست ہیں

تا اگر راز شما گوید نہ کس پروا کند
زین سبب باشد شمارا محرم اسرار مست

اگر راز کو ظاہر کر بھی دیا جائے تو پروا نہیں
کیونکہ محرم راز بھی مست ہے

غافل از دنیا و دین و جنت و نار است او
در جہان ہر کس کہ میباشد قلندر وار مست

وہ دنیا و دین و جنت و دوزخ سے بے پرواہ ہوتا ہے
جو کوئی بھی اس جہان میں قلندر کہ طرح مست ہو

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Best Poetry of Allama Iqbal

Best Poetry of Allama Iqbal

علامہ اقبال ایک سچے عاشق رسول نہائت خوبی سے حضور کی شان بیان کر گئے ہیں

در دل مسلم مقام مصطفیٰ است
آبروئے ما زِ نام مصطفیٰ است

مسلمانوں کے دلوں میں حضور کا مقام ہے
ہم مسلمانوں کی عزت و آبرو حضورؐ کے نام کی بدولت ہے

طور موجے از غبار خانہ اش
کعبہ را بیت الحرم کاشانہ اش

کوہ طور تو آپ کے مبارک گھر کی گرد کی لہر ہے
کعبہ کے لئے آپ کا کاشانہ مبارک بیت الحرام کی مانند ہے

کمتر از آنے ز اوقاتش، ابد
کاسب افزائش از ذاتش ابد

ابد جس کی انتہا نہیں آپؐ کے مبارک اوقات کے ایک پل سے بھی کم ہے
ابد کی افزائش بھی آپ کی ذات گرامی کے طفیل ہے

Asrar o Ramooz
اسرار و رموز
——————————————————————
مسلماں آں فقیر کج کلاہے
رمید از سینہ او سوز آہے
دلش نالد چرا نالد؟ نداند
نگاہے یا رسول اللہ نگاہے

مسلماں جو کہ اپنی فقیری میں بے پرواہ تھا
اس کا سینہ سوز و گداز کی آہ سے خالی ہو گیا ہے
اس کا دل روتا ہے مگر رونے کا سبب نہیں معلوم
ایسے حال میں یارسول اللہ آپ ہی کچھ نظر کرم کریں

Armaghan Hijaz
ارمغان حجاز
——————————————————————-
شبے پیش خدا بگریستم زار
مسلماناں چرا زارند و خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے ندارند

ایک رات خدا کے حضور بہت رویا
کہ مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہیں
صدا آئی کہ تو نہیں جانتا کہ یہ قوم
دل تو رکھتی ہے محبوب(حضورؐ) نہیں رکھتی

Armaghan Hijaz
ارمغان حجاز

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Ae Ke Bashi Dar Pe Kasb e Uloom

Ae Ke Bashi Dar Pe Kasb e Uloom
Ba Tu me Goium Payam Pir e Room

علامہ اقبال نے خوبصورت اشعار کی صورت میں حضرت مولانا روم کا مشہور واقعہ قلمبند کیا ہے
جس کے بعد آپ نے درس و تدریس کو چھوڑ کر حضرت شمس تبریزی کی صحبت اختیار کر لی

اے کہ باشی در پے کسب علوم
با تو می گویم پیام پیر روم

اےکہ تو علم حاصل کرنے میں مصروف ہے
کیا تو نے پیر روم کا پیغام بھی سنا ہے

“علم را بر تن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود”

مولانا روم کہتے ہیں کہ
علم کو اگر بدن پر لگایا جائے تو یہ سانپ بن جاتا ہے
لیکن علم کو اگر دل سے جوڑا جائے تو یہ یار بن جاتا ہے

آگہی از قصہ اخوند روم
آں کہ داد اندر حلب درس علوم

تو مولاناروم  کے قصے سے تو واقف ہے
وہ جو روم کہ شہر حلب مین علوم کا درس دیا کرتے تھے

پائے در زنجیر توجیہات عقل
کشتیش طوفانی طلمات عقل

اُن کے پاؤں عقل کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے
اُن کی کشتی عقل کی تاریکیوں اور طوفانوں میں گھری ہوئی تھی

موسی ے بیگانہ سینائے عشق
بے خبر از عشق او از سودائے عشق

وہ ایسے موسی تھے جو عشق کے طور سے نا واقف تھا
عشق اور عشق کے طور اطوار سے بے خبر تھے

از تشکک گفت و از اشراق گفت
وز حکم صد گوہر تابندہ سفت

وہ تشکک اور اشراق جیسے  فلسفہ کے موضوعات پر گفتگو فرماتے
علوم کے موتی پروتے اور اس کے حصول پر زور دیتے تھے

عقدہائے قول مشائیں کشود
نور فکرش ہر خفی را وا نمود

اُنہوں نے بہت سے پیچیدہ مسائل کی گھتیاں سلجھائیں
اپنے نور فکر سے علم کا حصول ہر خاص و عام پر آسان کر دیا

گرد و پیشش بود انبار کتب
بر لب او شرح اسرار کتب

اُن کے گرد ہر وقت کتابوں کا ڈھیر ہوتا
ان کے ہونٹوں پر ہر وقت کتابوں کی تشریحات ہوتیں تھیں

پیر تبریزی ز ارشاد کمال
جست راہ مکتب مُلا جلال

حضرت شمس تبریزی اپنے مرشد کے حکم پر
مولاناجلال الدین رومی کے مدرسے پر آئے

گفت “ایں غوغا و قیل و قال چیست
ایں قیاس و وہم و استدلال چیست؟”

کہا کہ یہ شورو شرابہ اور غل غپاڑہ کیا ہے؟
یہ وہم و قیاس ،شک شبہ ،سمجھنا کیا ہے؟

مولوی فرمود “ناداں لب بہ بند
بر ملاقات خرد منداں مخند

مولانا روم نے کہا کہ مولوی چپ ہو جا
تو عقل مندوں کی باتوں کا مذاق نہ اُڑا

پائے خویش از مکتبم بیروں گذار
قیل و قال است ایں ترا باوے چہ کار؟

تو اُلٹے پاؤں میرے مدرسے سے نکل جا
میر ے قول و فعل سے تیرا کوئی لینا دینا نہیں

قال ما از فہم تو بالا تر است
شیشہ ادراک را روشن گر است”
میری باتیں تیری عقل سے اونچی ہیں
یہ عقل کے شیشے کو روشن کرتیں ہیں

سوز شمس از گفتہ ملا فزود
آتشے از جان تبریزی کشود
شمس تبریزی کے سوز کی گرمی مولانا کی باتوں سے بڑھ گئی
ان کی جان میں چھپی آگ ظاہر ہو گئ

بر زمیں برق نگاہ او فتاد
خاک از سوز دم او شعلہ زاد

اُنہوں نے جلال سے بھری آنکھ زمیں پہ ڈالی
ان کے پھونک سے مٹی شعلہ بن گئی

آتش دل خرمن ادراک سوخت
دفتر آں فلسفی را پاک سوخت

دل کی آگ نے عقل و فہم و ادراک کا کھلیان جلا دیا
اس فلسفی کا دفتر جل کر راکھ ہو گیا

مولوی بیگانہ از اعجاز عشق
ناشناس نغمہائے ساز عشق

مولانا روم جو کہ اُس وقت تک عشق کی کرامتوں سے نا واقف تھے
اور عشق کے نغموں اور رازوں سے بھی بے خبر تھے

گفت: “ایں آتش چساں افروختی
دفتر ارباب حکمت سوختی”

بولے کہ تو نے یہ آگ کیسے جلا لی
تو نے ارباب علم و حکمت کا نایاب خزانہ جلا ڈالہ

گفت شیخ اے مسلم زنار دار
ذوق و حال است ایں ترا باوے چہ کار

شمس تبریز بولے کہ اے بظاہر مسلم مگر عملا انکاری
یہ ذوق و شوق اور عشق کی گرمی کہ باعث ہے لیکن تیرا اس سے کوئی کام نہیں

حال ما از فکر تو بالا تر است
شعلہ ما کیمائے احمر است

میرا حال تیری سمجھ سے بالا تر ہے
میرا شعلہ پارس پتھر سونا ہے

Allama Iqbal
علامہ اقبال

—————————————————————
Molvi Hargiz Na Shud Maula E Rum
Ta Ghulam e Shams Tabraizi Na Shud

مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد
مولانا روم اپنے بارے میں کہتے ہیں کہ میں فقط مولوی تھا
مگر جب حضرت شمس تبریزی کا غلام ہوا تو روم کا سردار ہو گیا۔

—————————————————————

اس واقعہ کے بارے میں حکائت ہے کہ حضرت شمس تبریزی نے حضرت مولانا روم کی کتب پانی کے تالاب میں ڈال دی تھیں۔پھر جب مولانا روم برہم ہوئے تو آپ نے تالاب سے خشک کتابیں نکال دیں۔یہ کرامت دیکھ کہ مولانا روم آپ کے گرویدہ و مرید ہو گئے

Ae Shahid Qudsi Ke Kashd Band e Naqabat

Ae Shahid Qudsi Ke Kashd Band e Naqabat

اے شاہد قدسی کہ کشد بندِ نقابت
وے مرغ بہشتی کہ دہد دانہ و آبت

اے محبوب تیرے رخ سے نقاب کون کھولے گا
اے بہشتی پرندے تجھے کون نورانی رزق پہنچاتا ہے

خوابم بشداز دیدہ درین فکر جگر سوز
کاغوشِ کہ شد منزل آسائش و خوابت

میری نیند اس جگر سوز فکر سے اُڑگئ ہے
کہ تیری منزل و خواب گاہ کہاں ہے اور تو کس کی آغوش میں ہے

درویش نمی پرسی و ترسم کہ نباشد
اندیشہ ء آمرزش و پروائے ثوابت

تو درویشوں اور فقیروں کا حال و احوال نہیں پوچھتا شاید
تجھے سزا و جزا کی پروا نہیں ہے

راہِ دل عشّاق زد آں چشم خماری
پیداست ازیں شیوہ کہ مستت شرابت

تیری مست نگاہ نے عاشقوں کے دلوں میں گزر گاہ بناہ لی ہے
لہزا وہ مست ہو کر راہ سے بھٹک گئے ہیں

تیریکہ زدی بر دلم از غمزہ خطا رفت
تا باز چہ اندیشہ کند رائے صوابت

جو تیر تو نے میرے دل پر چلایا تھا وہ خطا ہو گئا ہے
اب دیکھتے ہیں کہ تو اس بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے

ہر نالہ و فریاد کہ کردم نشیندی
پیداست نگارا کہ بلندست جنابت

میں نے بہت آہ زاری و فریادیں کیں ہیں مگر تو نے نہ سنی
میں جانتا ہوں کہ تیری بارگاہ بہت بلند اور بے نیاز ہے

ای قصرِ دل افروز کہ منزل گہہ اُنسی
یا رب مکناد آفتِ اَیّام خراَبت

یہ تیرا محل دلوں کو محبتیں بانٹنیں والا مرکز ہے
اللہ کرے کہ یہ زمانے کی آفات و بلیات سے محفوظ رہے

دورست سرِ آب ازیں بادیہ ہشدار
تا غولِ بیابان بفریبد بہ سرابت

ہوشیاری سے کام لے پانی کا کنارہ اس صحرا میں بہت دور ہے
کہیں سراب تجھے دھوکا نہ دے دے

رفتی زکنار من دِل خستہ بناکام
تا جائے کہ شد منزل و ماوائے کہ خوابت

تو میرے دل کو مجھ سے چھین کر روانہ ہو گیا ہے
ذرا یہ تو بتا کہ کونسی جگہ پر تیرا پڑاو ہوگا

تا دررَہِ پیری بچہ آئین روی اے دِل
بارے بغلط صرف شد اَیّام شبابت

دیکھتے ہیں کہ بڑھاپے میں یہ دل کس راہ پہ چلتا ہے
جوانی کے ایام تو اُلتے سیدھے کاموں میں صرف کر چکا ہوں

حافظ نہ غلامیست کہ از خواجہ گریزد
لطفے کن و باز آکہ خرابم ز عتابت

حافظ وہ غلام ہی نہیں جو آقا سے بھاگ جائے
اپنے حال پہ رحم کر اور واپس آ کہ تجھ پر مہربانیاں ہوں

Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Tujhay Apnay Maal Pe Ujab Hai Mujhay Apnay Haal Pay Naaz Hai

Tujhay Apnay Maal Pe Ajab Hai Mujhay Apnay Haal Pay Naaz Hai
Tera Hisa Masti o Baikhudi Mera Bakhra Sooz o Gudaaz Hai

تجھے اپنے مال پہ عجب ہے ، مجھے اپنے حال پہ ناز ہے
تیرا حصّہ مستی و بیخودی مرا بخرہ سوزوگداز ہے

تو دُکھے ہوؤں کو دکھائے جا،تو جلے ہووں کو جلائے جا
تو نشان خیر مٹائے جا ترے شر کی رسی دراز ہے

غم دہر تجھ کو نہ کھائے کیوں خوشی اپنا جلوہ دکھائے کیوں
تو وفا کا لطف اٹھائے کیوں، ترا دل تو بندہ آز ہے

تجھے فکر ہے کم وبیش کی تجھے سوچ ہے پس و پیش کی
مری زندگی کے محیط میں نہ نشیب ہے نہ فراز ہے

طرب آفریں میرا ساتگیں،تری لے ہے مایہ بغض و کیں
میں جہان درد کا راز ہوں تو دیار حرص کا ساز ہے

مجھے تیرے مال سے کیا غرض،تجھے میرے حال کی کیا خبر
کہ میں غزنوی بُتِ ذر کا ہوں ،شہ سیم کا تو ایاز ہے

تو رہین شوکت قیصری ، میں امین شان قلندری
ترا قبلہ ہے بُتِ آذری،سر عرش میری نماز ہے

کروں مال و زر کی میں کیوں ہوس  مجھے اپنے فقر پہ فخر بس
یہی حرز جان فقیر ہے ،یہی قول شاہ حجاز ؐہے

MAIKASH AKBARABADI
میکش اکبر آبادی

Sehrum Dolat e Beedar Babaleen Amad

Sehrum Dolat e Beedar Babaleen Amad

سحرم دولتِ بیدار ببالیں آمد
گفت برخیز کہ آں خسرو شیریں آمد

صبح کے وقت وہ خوش بختی کی دولت میرے پاس آئی
کہا کہ اُٹھ کہ تیرا حسیں محبوب آرہا ہے

قدحے درکش و سر خوش بتماشا بخرام
تا بہ بینی کہ نگارت بچہ آئین آمد

شراب کا پیالہ اُٹھا ،پی اور سیر کو نکل جا
تا کہ تو دیکھ سکے کہ وہ کس ناز وانداز سے آ رہا ہے

مژدگانے بدہ اے خلوتیِ نافہ کشائے
کہ زصحرائےختن آہوئے مشکیں آمد

خوش خبری سنا دے مشک کھول کر گوشہ تنہائی میں بیٹھنے والے
کہ مشک کے صحرا  سے تیرا محبوب خوش بو بکھیرتا آرہا ہے

گریہ آبے برخِ سوختگاں باز آورد
نالہ فریاد رسِ عاشق مسکیں آمد

ان آنسوؤں نے دل جلوں کے چہروں پر پھر سے چمک پیدا کر دی ہے
یہ نالے فریاد رس بن گئے ہیں اس مسکیں عاشق کے لئے

مرغ دل باز ہوادارِ کمان ابروئیست
کہ کمیں صیدگہش جان و دِل ودیں آمد

میرے دل کا پرندہ اس کی ابرو کی کمان کی زد میں ہے
میری جان و دل و دنیاودیں سب کچھ اس کی شکار گا ہ ہیں

در ہوا چندمعلق زنی و جلوہ کنی
اے کبوتر نگراں باش کہ شاہیں آمد

تو کب تک ہوا میں قلا بازیاں کھاتا  اور جلوہ دکھاتا رہے گا
اے کبوتر ہوشیاری سے کام لے کہ وہ باز آ رہا ہے

ساقیا مے بدہ و غم مخور از دشمن و دوست
کہ بکام دل ما آں بشد و ایں آمد

ساقی تو جام پلا اور دوست و دشمن کا غم نہ کر
کیونکہ ہماری مرضی کے مطابق غم ختم ہوا اور مسرت کا دور آگیا ہے

شادی یارِ پچہرہ بدہ بادہ ناب
کہ مئےلَعل دوائے دلِ غمگیں آمد

اس پری جیسے چہرے والے محبوب کی خوشی میں خالص شراب دے
کیونکہ سرخ شراب ہی غمگیں دل کا علاج ہے

رسم بد عہدی ایام چو دید ابر بہار
گریہ اش بر سمن و سنبل و نسریں آمد

بہار کے بادل نے جب زمانے کی بد عہدی کا دستور دیکھا
تو وہ چنبیلی و سنبل اور سیوتی کے پھولوں پر رونے لگ گیا

چوں صبا گفتہ  حافظ بشنید از بُلبُل
عنبر افشاں بتماشائے ریاحیں آمد

باد صبا نے جب بلبل کی زباں سے حافظ کا کلام سنا
تو وہ خوشبو بکھیرتی گل و ریحان کی سیر کو نکل پڑی

Deewan E Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Gar Ishq e Haqiqi Ast O Gar Ishq Majaz Ast

Gar Ishq e Haqiqi Ast O Gar Ishq Majaz Ast
Maqsood Azeen Har Do Mera Soz o Gudaz Ast

گر عشق حقیقی است و گر عشق مجاز است
مقصود ازین ہر دو مرا سوز و گداز است

چاہے عشق حقیقی ہو چاہے عشق مجاز ہو
مرا مقصد ان دونوں سے صرف  سوزو گداز ہے

گفتی تو الست و زدم آواز بلی من
بنگر کہ مرا با تو ز میثاق نیاز است

تو نے ازل میں الست بربی کہا اورمیں نے اقرار کیا
تو دیکھ کہ میرا تیرے ساتھ عہد نیاز بندھا ہوا ہے

راز تو بلب ناورد و دل شودش خون
ہر کس کہ درین دہر ترا محرم راز است

وہ تیرا راز لبوں پہ نہیں لاتا یہاں تک کہ دل خون ہو جاتا ہے
جو کوئی بھی اس دنیا میں تیرا محرم راز ہو جاتا ہے

عشق ہست و صد آفات محن لازم وملزوم
این منزل دشوار و رہ سخت دراز است

عشق ہو تو سینکڑوں آفات و بلیات لازم و ملزوم ہو جاتی ہیں
یہ راہ بڑی دشوار اور مشکل ترین اور لمبی ہے

اندر دل او گاؤ خر  و ذکر بلبہا
قاضی بتصور کہ ہمین حق  نماز است

دل میں گائے  اور گدھا ہے اور لبوں پر ترا ذکر ہے
قاضی اپنے خیال میں اسی کو نماز حق سمجھتا ہے

خواہی کہ روی بردر آن دوست قلندر
آن ہدیہ کہ مقبول شودعجز و نیاز است

اے قلندر اگر تو دوست کے دروازے پر جانا چاہتا ہے
تو وہاں ایک ہی ہدیہ قبول ہوتا ہے جو عجزو نیاز ہے

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar