Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

بچشم من جہاں جز رہگزر نیست
ہزاراں رہرو و یک ہم سفر نیست
گذشتم از ہجوم خویش و پیوند
کہ از خویشاں کسے بیگانہ تر نیست

میری نظر میں دنیا ایک راستہ کے سوا کچھ نہیں
یہاں ہزاروں مسافر ہیں مگر ایک بھی ہم سفر نہیں ہے
میں عزیزوں اور دوستوں کے ہجوم سے گزر گیا
کیونکہ اپنوں سے بڑھ کر کوئی بیگانہ نہیں ہے

By my eyes this world is just a passage
There are thousands of passengers but no one is companion traveler
I have passed from the crowd of loved ones and relatives
Because there is no one more stranger than our own loved ones

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Har Ke PaimaaN Ba HoWal MoJod Bast

Har Ke PaimaaN Ba HoWal MoJod Bast
Gardanash Az Band e Har Mabood Rast

ہر کہ پیماں با ھوالموجود بست
گردنش از بند ہر معبود رَست

جس کسی نے بھی رب حضور کو ہر جگہ موجود جاننے ماننے کا عہد کیا
اُس کی گردن ہر باطل معبود کی زنجیر سے نجات پا گئی

مومن از عشق است و عشق از مومن است
عشق را ناممکن ما ممکن است

مومن عشق سے بنتا ہے اور عشق مومن کی بدولت ہے
عشق کی وجہ سے ہمارے لئے ناممکن بھی ممکن ہو گیا

عقل سفاک است و اُو سفاک تر
پاک تر ، چالاک تر ، بیباک تر

عقل سفاک ہے اور عشق اس سے زیادہ سفاک ہے
کیونکہ عشق پاک ہے ،چالاک ہے اور نڈر ہے

عقل درپیچاک اسباب و علل
عشق چوگاں باز میدان عمل

عقل دلائل و اسباب میں پھنسی رہتی ہے
جبکہ عشق میدان عمل میں چوگان(پولو) کا کھیل کھیلتا ہے

عشق صید از زور بازو افگند
عقل مکار است و دامے می زند

عشق اپنے زور بازو سے شکار کھیلتا ہے
جبکہ عقل عیاری سے شکار کرتی ہے

عقل را سرمایہ از بیم و شک است
عشق را عزم و یقیں لاینفک است

عقل کی ساری جمع پونجی وہم و شک ہے
عشق کے ارادے اٹل اور وہم و شک سے پاک ہوتے ہیں

آں کند تعمیر تا ویراں کند
ایں کند ویراں کہ آباداں کند

عقل تعمیر کرتی ہے تا کہ وہران کر دے
عشق پہلے ویران کرتا ہے تا کہ آباد ہو

عقل چوں باد است ارزاں در جہاں
عشق کمیاب و بہائے او گراں

عقل ہوا کی طرح اس جہان میں سستی چیز ہے
عشق ایک بیش قیمت چیز ہے جو نایاب ہے

عقل محکم از اساس چون و چند
عشق عریاں از لباسِ چون و چند

عقل پختہ ہوتی ہے حجت اور منطق سے
جبکہ عشق اس لباس کو اتار پھنیکتا ہے

عقل می گوید کہ   خودراپیش کن
عشق گوید   امتحان خویش کن

عقل کہتی ہے کہ خود کو پیش کر ہتھیار ڈال دے
عشق کہتا ہے کہ اپنی خودی کا امتحان کر

عقل با غیر آشنا از اکتساب
عشق از فضل است و باخود درحساب

عقل اپنا حساب کروانے کے لئے غیروں سے آشنائی اختیار کرتی ہے
جبکہ عشق خدا کے فضل سے اپنا حساب خود کر لیتا ہے

عقل گوید شاد شو آباد شو
عشق گوید بندہ شو آزاد شو

عقل کہتی ہے کہ خوش رہو آباد رہو
عشق کہتا ہے کہ رب کا بندہ بن جا اور آزاد ہو جا

عشق را آرام جاں حریت است
ناقہ اش را سارباں حریت است

حریت عشق کی جان کی راحت ہے
اس کی سواری(اُونٹنی) کی سارباں بھی حریت ہے

آں شنیدستی کہ ہنگام نبرد
عشق با عقل ہوس پرور چہ کرد

کیا تو نے کربلا کے واقعہ کے بارے میں سنا ہے
عشق نے ہوس پرور عقل کے ساتھ کیا کیا

آں امام عاشقاں پور بتول
سروِ آزادے ز بستان رسولؐ

حسین جو کہ عشاق کے امام اور حضرت بی بی فاطمہ کے بیٹے ہیں
گلشن رسالت کے آزاد سرو (جو باطل کے آگے نہیں جھکا) ہیں

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

اللہ اللہ والد بسم اللہ کی ب کی مثل ہیں
اور بیٹا حسین ذبح عظیم کی صورت میں آیا

بہر آں شہزادہ خیرالملل
دوش حتم المرسلیں نعم الجمل

تمام اُمتوں سے بہترین اُمت کے شہزادے کے لئے
خاتم الانبیا کے کندھے بہترین اُونٹ کی مانند تھے
اشارہ ہے حدیث شریف کی طرف کیا ہی اچھی سواری اور کیا ہی اچھا سوار

سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی ایں مصرع از مضمون او

عشق کو غیرت اور سرخی آپ کے خون سے ملی
اس مصرع کی شوخی آپ کے مضمون کی وجہ سے ہی ہے

درمیان اُمت آں کیواں جناب
ہمچو حرف قل ھواللہ  در کتاب

اس بہترین اُمت کے درمیان آپ کا مقام
ایسے ہی ہے جیسے کہ قرآن میں قل ھواللہ

موسی و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

موسی اور فرعون ، شبیر اور یزید
یہ دونوں  حق و باطل کی قوتیں زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں

زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

حق قوت شبیری کی وجہ سے زندہ ہے
باطل نے آخر کار حسرت کی موت مرنا ہے

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
حریت را زہر اندر کام ریخت

خلافت نے جب قرآن سے تعلق توڑ دیا
تو حریت آزادی کے حلق میں زہر اُنڈیل دیا

خاست آں سر جلوہ خیرالامم
چوں سحاب قبلہ باراں در قدم

اُس خیرالامم کا جلوہ ایسے اُبھرا
جیسے کعبہ سے بارش سے بھرا ہوا بادل اُٹھتا ہے

بر زمین کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت

وہ کربلا کی زمین پر برسا اور چلا گیا
ویرانی میں لالہ کے پھول اُگائے اور چلا گیا

تا قیامت قطعِ استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد

قیامت تک کے لئے شخصی حکومت کا خاتمہ کر دیا
اُن کے خون کی موجوں نے ایک نیا باغ تعمیرکردیا

ہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است

حق کے لئے انہوں نے اپنا خون خاک میں ملایا
اس طرح سے انہوں نے لا الہ کی بنیاد ڈالی

مدعائش سلطنت  بودے اگر
خود نکردے با چنیں سامان سفر

اُن کا مقصد اگر سلطنت ہوتی
تو اتنے  کم سامان سفر کے ساتھ نہ جاتے

دشمناں چوں ریگ صحرا لا تعد
دوستانِ او بہ یزداں ہم عدد

اُن کے دشمنوں کی تعداد صحرا کے ذروں کے مانند ان گنت تھی
جب کہ دوستوں کی تعداد یزداں اللہ کا ایک نام کے عدد کے برابر بہتر تھی
10+7+4+1+50=72

سر ابراہیم و اسماعیل بود
یعنی آں اجمال را تفصیل بود

آپ اصل میں حضرت ابراہیم و اسمیعل کی قربانی کا راز تھے
یعنی وہ اجمال تھے اور آپ ان کی تفصیل و تفسیر ہوئے

عزم او چوں کوہساراں استوار
پایدار و تند سیر و کامگار

آپ کا عزم پہاڑ کی مانند اٹل تھا
مضبوط و تیز اور مقصد کو حاصل کرنے والا تھا

تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس

آپ کی تلوار دین کے عزت و ناموس کے لئے تھی
آپ کی نیت دین اسلام کی حفاظت تھی

ما سواللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

مسلمان خدا کے سوا کسی باطل قوت کا غلام نہیں بنتا
وہ فرعونی قوتوں کے آگے سر نگوں نہیں ہوتا

خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملتِ خوابیدہ را بیدار کرد

آپ کے خون نے کئی رازوں کی تفسیریں بیاں کیں
اور سوئی ہوئی اُمت بیدار کو عملا بیدار کر دیا

تیغ لا چوں میاں بیرون کشید
از رگِ ارباب باطل خوں کشید

جب آپ نے لا کی تلوار کو باہر نکالا
تو باطل قوتوں کی رگوں سے خون کھینچ لیا

نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطرِ عنوان نجات ما نوشت

ہر قطرے سے صحرا پر الا للہ کا نقش لکھ دیا
اور اُمت کی نجات کا مضمون لکھ دیا

رمز قرآں از حسین آموختیم
ز آتشِ اُو شعلہ ہا اندوختیم

قرآن کی رمزیں ہم نے حسین سے سیکھی ہیں
اور آپ کی آگ سے ہم نے کئی شعلے (تعلیم )حاصل کئے ہیں

شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوتِ غرناطہ ہم ازیاد رفت

شام و بغداد کی شوکتیں چلی گئیں
غرناطہ کی دھوم دھام بھی ہماری یاد سے محو ہو گئی

تار ما از خمہ ہائش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز

لیکن ہمارا ساز ابھی بھی آپ کی بدولت بج رہا ہے
آپ کی تکبیر کی گونج ہمارے ایمان کو لمحہ بہ لمحہ تازہ کر رہی ہے

اے صبا اے پیک دور افتادگاں
اشک ما بر خاک پاک او رسان

اے ہوا اے دور رہنے والوں کی پیغام رساں
ہمارے آنسو(سلام و عقیدت) آپ کے مزار مبارک کی خاک پر پہنچا دے

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Sarood Rafta Baaz Ayad ke Nayad

Sarood Rafta Baaz Ayad ke Nayad

سرود رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید؟
سر آمد روز گار ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید؟

خدا جانے کہ وہ پہلے والا دور آئے گا یا نہیں
حجاز کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلے گی یا نہیں

یعنی مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پایئں گے کہ نہیں حضور کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر

اس فقیر (اقبال) کا وقت آخر آ گیا ہے
دیکھتے ہیں کہ میری طرح کا دانائے راز آتا ہے کہ نہیں

The golden era of islam will come back or not ?
Sweet wind will blow from Madina again or not ?

The last moments of this sufi dervish has arrived
Not sure another opener of the secrets will come or not?

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Jahan Az Ishq o Ishq Az Seena Tust

Jahan Az Ishq o Ishq Az Seena Tust

جہان از عشق و عشق از سینہ تست
سرورش از مے دیرینہ تست
جز ایں چیزے نمی دانم ز جبریل
کہ او یک جوہر از آینہ تست

یہ دنیا عشق کی بدولت ہے اور عشق آپؐ کے سینہ(دل) مبارک سے ہے
عشق کا سرور آپؐ کی پرانی شراب (توحید و معرفت)کے طفیل ہے
میں جبریل کے بارے میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ وہ
آپؐ کہ آئینہ کی ایک چمک ہے
یعنی جبریل بھی حضورؐ کے نور کے طفیل معرض وجود میں آئے

Allama Iqbal
علامہ ا قبال

Na Az Saaqi Na Az Paimana Guftam Hadees Ishq Be Bakana Guftam

Na Az Saaqi Na Az Paimana Guftam Hadees Ishq Be Bakana Guftam

نہ از ساقی نہ از پیمانہ گفتم
حدیث عشق بے باکانہ گفتم

میں نے نہ تو ساقی اور نہ ہی پیمانے کی بات کی جیسے کے عام شعرا کرتے ہیں
بلکہ عشق کی باتیں کھل کھلا کہ نڈر ہو کر کی ہیں

شنیدم آنچہ از پاکانِ اُمت
ترا با شوخی رندانہ گفتم

جو کچھ کہ میں نے اس اُمت کے پاک لوگوں سے سنا
تیرے لئے رندانہ شوخی لئے شاعری میں بیان کر دیا

Allama Iqbal
علامہ ا قبال

Ishq Di Navio Navi Bahar

Ishq Di Navio Navi Bahar

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

جاں میں سبق عشق دا پڑھیا
مسجد کولوں جیوڑا ڈریا
ڈیرے جا ٹھاکر دے وڑیا
جتھے وجدے ناد ہَزار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

جاں میں رَمز عشق دی پائی
مَینا طوطا مار گوائی
اندر باہر ہوئی صفائی
جِت وَل ویکھاں یارو یار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

ہیر رانجھے دے ہو گئے میلے
بھُلّی مہر ڈھوڈیندی بیلے
رانجھا یار بُکّل وِچ کھیلے
مینوں سدھ رہی نہ سار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

وید قرآناں پڑھ پڑھ تھکے
سجدے کردیاں گھس گئے متھے
نہ رب تیرتھ نہ رب مکّے
جس پایا تس نور اَنوار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

پُھوک مصلّٰی بھن سٹ لوٹا
نہ پھڑ تسبیح عاصا سوٹا
عاشق کیہندے دے دے ہوکا
ترک حلالوں کھا مردار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

عمر گوائی وچ مسیتی
اندر بھریا نال پلیتی
کدے نماز توحید نہ نیتی
ہن کی کرنائیں شور پُکار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

عشق بُھلایا سجدہ تیرا
ہن کیوں اینویں پاویں جھیڑا
بلھا ہوندا چپ بتیرا
عشق کریندا مارو مار

عشق دی نوّیوں نوّیں بہار

Bulleh Shah
بلھے شاہ

Aashiq Hovain Taan Ishq KamaVain

Aashiq Hovain Taan Ishq KamaVain

عاشق ہوویں تاں عشق کماویں
راہ عشق سوئی دا ٹکا،دھاگہ ہویں تاں ہی جاویں
باہر پاک اندر آلودہ، کیہا توں شیخ کہاویں
کہے حسین جے فارغ تھیویں،تاں خاص مراتبہ پاویں

عاشق بننا ہے تو عشق حقیقی اختیار کر
عشق کا راستہ سوئی کے سوراخ کی مانند ہے ، دھاگے کی طرح ہو جا نفس کو مار کرپھر ہی گزرے گا
ظاہر پاک صاف ہے مگر اندر گندگی ہے تو خود کو شیخ کہلانا پسند کرتا ہے
حسین کہتا ہے کہ دنیاوی خواہشات سے فراغت حاصل کر جب ہی تو خاص مرتبہ پا سکے گا

شاہ حسین
Shah Hussain

Gar Ishq e Haqiqi Ast O Gar Ishq Majaz Ast

Gar Ishq e Haqiqi Ast O Gar Ishq Majaz Ast
Maqsood Azeen Har Do Mera Soz o Gudaz Ast

گر عشق حقیقی است و گر عشق مجاز است
مقصود ازین ہر دو مرا سوز و گداز است

چاہے عشق حقیقی ہو چاہے عشق مجاز ہو
مرا مقصد ان دونوں سے صرف  سوزو گداز ہے

گفتی تو الست و زدم آواز بلی من
بنگر کہ مرا با تو ز میثاق نیاز است

تو نے ازل میں الست بربی کہا اورمیں نے اقرار کیا
تو دیکھ کہ میرا تیرے ساتھ عہد نیاز بندھا ہوا ہے

راز تو بلب ناورد و دل شودش خون
ہر کس کہ درین دہر ترا محرم راز است

وہ تیرا راز لبوں پہ نہیں لاتا یہاں تک کہ دل خون ہو جاتا ہے
جو کوئی بھی اس دنیا میں تیرا محرم راز ہو جاتا ہے

عشق ہست و صد آفات محن لازم وملزوم
این منزل دشوار و رہ سخت دراز است

عشق ہو تو سینکڑوں آفات و بلیات لازم و ملزوم ہو جاتی ہیں
یہ راہ بڑی دشوار اور مشکل ترین اور لمبی ہے

اندر دل او گاؤ خر  و ذکر بلبہا
قاضی بتصور کہ ہمین حق  نماز است

دل میں گائے  اور گدھا ہے اور لبوں پر ترا ذکر ہے
قاضی اپنے خیال میں اسی کو نماز حق سمجھتا ہے

خواہی کہ روی بردر آن دوست قلندر
آن ہدیہ کہ مقبول شودعجز و نیاز است

اے قلندر اگر تو دوست کے دروازے پر جانا چاہتا ہے
تو وہاں ایک ہی ہدیہ قبول ہوتا ہے جو عجزو نیاز ہے

دیوان  بو علی قلندر
Deewan Bu Ali Qalandar

Awal Hamd Khuda Da Vird Kijey Ishq Kita So Jag Da Mol Mian

Awal Hamd Khuda Da Vird Kijey Ishq Kita So Jag Da Mol Mian

اول حمد خدا دا ورد کیجے، عشق کیتا سو جگ دا مول میاں
پہلوں آپ ہی رب نے عشق کیتا ، معشوق ہے نبی رسول میاں
عشق پیر فقیر دا مرتبہ اے، مرد عشق دا بھلا رنجول میاں
کھلے تنہاندے باغ قلوب اندر، جنہاں کیتا اے عشق قبول میاں

سب سے پہلے اللہ پاک کی تعریف جس نے عشق کی ابتدا کی اور  عشق کو جہاں کا دام مقرر کیا
سب سے پہلے عاشق خود بنا اور رسول کریمﷺ کو اپنا محبوب بنایا
عشق تو پیروں فقیروں کا مرتبہ ہے،عاشق حقیقی بڑا خوش قسمت ہوتا ہے
ان کے دلوں میں باغ کھلتے ہیں جو عشق کو قبول کر لیتے ہیں

سید وارث شاہ
Waris Shah

Man Banda e Azadam Ishq Ast Imam Man

Man Banda e Azadam Ishq Ast Imam Man
Ishq Ast Imam Man Aqal Ast Ghulam Man

من بندہ آزادم عشق است امام من
عشق است امام من عقل است غلام من

میں آزاد بندہ ہوں،عشق میرا امام ہے
عشق  میرا امام ہے اور عقل میری غلام ہے

ہنگامۂ ایں محفل از گردش جام من
ایں کوکب شام من ایں ماہ تما م من

اس محفل کا شور اصل میں میرے جام کی گردش کے باعث ہے
یہ چاند اور ستارہ میری شام کے لئے ہیں

جاں در عدم آسودہ بے ذوق تمنا بود
مستانہ نواہازد در حلقہ دام من

روح عدم میں آرزو و تمنا کے ذوق سے خالی تھی
جب وہ میرے قالب میں آئی تو مستانے ساز و نغمے چھڑے

اے عالم رنگ و بو ایں صحبت ما تا چند
مرگ است دوام تو عشق است دوام من

اے جہان یہ تیر ی میری صحبت کب تک باقی ہے
تجھے تو  موت آجانی ہے اور مجھے عشق کی بدولت بقاو دوام حاصل ہے

پیدا بضمیرم او پنہاں بضمیرم او
ایں است مقام او دریاب مقام من

وہ میرے باطن میں پوشیدہ بھی ہے ظاہر بھی ہے
یہ تو اُس کا مقام ہے ، اب میرا مقام دریافت کر

Allama Iqbal
علامہ اقبال