Deeda e Deedar Jo Har Haal Mein Na Deeda Hai

Deeda e Deedar Jo Har Haal Mein Na Deeda Hai
Jis se Posheeda nahin Tum Hum sy Woh Posheeda Hai

دیدہ دیدار جو ہر حال میں نا دیدہ ہے
جس سے پوشیدہ نہیں تم ہم سے وہ پوشیدہ ہے

دیکھتا ہے سب کو لیکن سب سے خود پوشیدہ ہے
شرم سے آنکھوں کے پردوں میں وہ نور دیدہ ہے

چشم نا بینا سے پردہ ہے تو کچھ بیجا نہیں
آنکھ والوں سے بھی وہ جانِ جہاں پوشیدہ ہے

واہ رے تیری بے حجابی واہ رے تیری نقاب
لفظ پوشیدہ میں معنی کی طرح پوشیدہ ہے

جس کو دیکھو ہر گھڑی پامال کرتا ہے مجھے
کیا مری کشتِ تمنا سبزہ روئیدہ ہے

ذرہ ذرہ ہے ترا آئینہ حُسن و جمال
تو ہی پوشیدہ نہ اب صورت تری نادیدہ ہے

جب بجز اک ذات مطلق دوسرا پیدہ نہیں
کون ہے پھر غیر اور کس سے کوئی پوشیدہ ہے

ہائے وہ کہنا کِسی کا بزم میں پھیلا کے ہاتھ
آگلے مل لیں بس اتنی پات پر رنجیدہ ہے

جستجو ہے اُس کی بیدم دل ہے جسکی جلوہ گاہ
وہ چھپا ہے ہم سے جو آنکھوں کا نورِ دیدہ ہے

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Thanks to Mohammed Tausif Iftekhari for Sharing

Na Mehrab e Haram Samjhe Na Jane Taaq e ButKhana

Na Mehrab e Haram Samjhe Na Jane Taaq e ButKhana
Jehan Daikhi Tajale Ho Gaya Qurban Parwana

نہ محراب حرم سمجھے نہ جانے طاقِ بتخانہ
جہاں دیکھی تجلی ہو گیا قربان پروانہ

دلِ آزاد کو وحشت نے بخشا ہے وہ کاشانہ
کہ اک درجانبِ کعبہ ہے اک در سوئے بتخانہ

بنائے میکدہ ڈالی جو تو نے پیر میخانہ
تو کعبہ ہی رہا کعبہ نہ  پھر بتخانہ بتخانہ

کہاں کا طور مشتاق لقا وہ آنکھ پیدا کر
کہ ذرّہ ذرّہ ہو نظّارہ گاہِ حسن جانانہ

خدا پوری کرے یہ حسرت دیدار حسرت کی
کہ دیکھوں اور تیرے جلووں کو دیکھوں بے حجابانہ

شکست توبہ کی تقریب میں جھک جھک کے ملتے ہیں
کبھی پیمانہ شیشہ سے کبھی شیشہ سے پیمانہ

سجا کر لخت دل سے کشتیٔ چشم تمنّا کو
چلا ہوں بارگاہِ عشق میں لے کر یہ نذرانہ

کبھی جو پردۂ بے صورتی میں جلوہ فرما تھے
انہیں کو عالم صورت میں دیکھا بے حجابانہ

مری دنیا بدل دی جنبش ابروئے جاناں نے
کہ اپنا ہی رہا اپنا نہ بیگا نہ بیگانہ

جلا کر شمع پروانے کو ساری عمر جلتی ہے
اور اپنی جان دے کر چین سے سوتا ہے پروانہ

کسی کی محفل عشرت میں پیہم دور چلتے ہیں
کسی کی عمر کا لبریز ہونے کو ہے پیمانہ

ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی
بھلا ہو موت کا جس نے بنا رکھا ہے افسانہ

یہ لفظ سالک ومجذوب کی ہے شرح اے بیدم
کہ اک ہشیار ختم المرسلیں اور ایک دیوانہ

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Sahara Mojon Ka Le Le Ke Barh Raha Houn Mein

Sahara Mojon Ka Le Le Ke Barh Raha Houn Mein
Safeena Jis Ka Hai Toofan Woh Na Khuda Houn Mein

سہارا موجوں کا لے لے کے بڑھ رہا ہوں میں
سفینہ جس کا ہے طوفاں وہ نا خدا ہوں میں

خود اپنے جلوہ ٔ  ہستی کا مبتلا ہوں میں
نہ مدعی ہوں نہ کسی کا مدعا ہوں میں

کچھ آگے عالم ہستی سے گونجتا ہوں میں
کہ دل سے ٹوٹے ہوئے ساز کی صدا ہوں میں

پڑا ہوں جہاں جس طرح پڑا ہوں میں
جو تیرے در سے نہ اٹھے وہ نقش پا ہوں میں

جہان عشق میں گو پیکر وفا ہوں میں
تیری نگاہ میں جب کچھ نہیں تو کیا ہوں میں

تجلیات کی تصویر کھینچ کر دل میں
تصورات کی دنیا بسا رہا ہوں میں

جنون عشق کی نیرنگیاں ارے توبہ
کبھی خدا اور کبھی بندہ خدا ہوں میں

بدلتی رہتی ہے دنیا میرے خیالوں کی
کبھی ملا ہوں کبھی یار سے جدا ہوں میں

حیات و موت کے جلوے ہیں میری ہستی میں
تغیرات دو عالم کا آئینہ ہوں میں

تری عطا کے تصدق ترے کرم کے نثار
کہ اب تو اپنی نظر میں بھی دوسرا ہوں میں

بقا کی فکر نہ اندیشۂ فنا مجھ کو
تعینات کی حد سے گزر گیا ہوں میں

Dekh lo shakl meri kiska aaina hoon main
Yaar ki Shakl hai aur yaar main fana hoon main

دیکھ لو شکل میری کس کا آئینہ ہوں میں
یار کی شکل ہے اور یار میں فنا ہوں میں

بشر کے روپ میں اک راز کبریا ہوں میں
سمجھ سکے نا فرشتے کہ اور کیا ہوں میں

میں وہ بشر ہوں فرشتے کریں جنھیں سجدہ
اب اس سے آگے خدا جانے اور کیا ہوں میں

پتہ لگائے کوئی کیا میرے پتے کا پتہ
میرے پتے کا پتہ ہے کہ لاپتہ ہوں میں

مجھی کو دیکھ لیں اب تیرے دیکھنے والے
تو آئینہ ہے مرا تیرا آئینہ ہوں میں

میں مٹ گیا ہوں تو پھر کس کا نام ہے بیدم
وہ مل گئے ہیں تو پھر کس کو ڈھونڈتا ہوں میں

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Khinchi Hai Tasawar Mein Tasveer Hum Aaghoshi

Khinchi Hai Tasawar Mein Tasveer Hum Aaghoshi
Ab Hosh Na Aaney Dai Muj Ko Meri BeHoshi

کھینچی ہے تصّور میں تصویر ہم آغوشی
اب ہوش نہ آنے دے مجھ کو میری بے ہوشی

پا جانا ہے کھو جانا ، کھو جانا ہے پا جانا
بے ہوشی ہے ہشیاری ،ہشیاری ہے بے ہوشی

میں ساز حقیقت ہوں ، دمساز حقیقت ہوں
خاموشی ہے گویائی ، گویائی ہے خاموشی

اسرار محبت کا اظہار ہے نا ممکن
ٹوٹا ہے نہ ٹوٹے گا قفل در خاموشی

ہر دل میں تجّلی ہے اُن کے رخ روشن کی
خورشید سے حاصل ہے ذروں کو ہم آغوشی

جو سنتا ہوں سنتا ہوں میں اپنی خموشی سے
جو کہتی ہے کہتی ہے مجھ سے مری خاموشی

یہ حسن فروشی کی دکان ہے یا چلمن
نظّارہ کا نظّارہ ہے ،روپوشی کی روپوشی

یاں خاک کا ذرہ بھی لغزش سے نہیں خالی
میخانۂ دنیا ہے یا عالم بے ہوشی

ہاں ہاں مرے عصیاں کا پردہ نہیں کھلنے کا
ہاں ہاں تیری رحمت کا ہے کام خطا پوشی

اس پردے میں پوشیدہ لیلائے دو عالم ہے
بے وجہ نہیں بیدم کعبے کی سیہ پوشی

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Hai Roz e Alast Se Apni Sada Waris Mujh Main Mein Waris Main

Hai Roz e Alast Se Apni Sada Waris Mujh Main Mein Waris Main
Woh Raaz Mera Main Bhaid us Ka Waris Mujh Main Mein Waris Main

ہے روز الست سے اپنی سدا وارث مجھ میں میں وارث میں
وہ راز مرا میں بھید اس کا  وارث مجھ میں میں وارت میں

دریا سے وجودِ قطرہ ہے قطرے سے نمود دریا ہے
دریا قطرہ قطرہ دریا وارث مجھ میں میں وارث میں

وہ نقطہ خطِ تقدیر ہوں میں وہ خامہ ہے اور تحریر ہوں میں
میں صورت ہوں اور وہ معنی وارث مجھ میں میں وارث میں

وہ راز ہے پردہ راز ہوں میں وہ زمزمہ ہے اور ساز ہوں میں
ہے میری حقیقت آئینہ وارث مجھ میں میں وارث میں

وہ نیّر برج احدیت میں پر تو شان احدیت
مجھے کہتے ہیں ذرہ مہر نما وارث مجھ میں میں وارث میں

وہ چمن ہے چمن کی بہار ہوں میں وہ بہار ہے رنگ بہار ہوں میں
وہ شمع ہے اورمیں اس کی ضیا وارث مجھ میں میں وارث میں

دیدار کی دھن میں صبح و مسا بیدم مجھے خوں روتے گزرا
حیرت چھائی جب یہ دیکھاوارث مجھ میں میں وارث میں

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Kon Sa Ghar Hai Ke Ae Jaan Nahin Kashana Tera Aur Jalu Khana Tera

Kon Sa Ghar Hai Ke Ae Jaan Nahin Kashana Tera
Aur Jalu Khana Tera

کون سا گھر ہے کہ اے جاں نہیں کا شانہ ترا
اور جلو خانہ ترا

میکدہ تیرا ہے کعبہ ترا بت خانہ ترا
سب ہے جانانہ ترا

تو کسی شکل میں ہو ترا شیدائی ہوں
ترا سودائی ہوں

تو اگر شمع ہے اے دوست میں پروانہ ترا
یعنی دیوانہ ترا

مجھ کو بھی جام کوئی پیر خرابات ملے
تیری خیرات ملے

تا قیامت یونہی جاری رہے پیمانہ ترا
رہے میخانہ ترا

تیرے دروازے پہ حاضر ہے تیرے در کا فقیر
اے امیروں کے امیر

مجھ پہ بھی ہو الطاف کریمانہ ترا
لطف شاہانہ ترا

صدقہ مے خانہ کا ساقی مجھے بے ہوشی دے
خود فراموشی دے

یوں تو سب کہتے ہیں بیدم ترا مستانہ ترا
اب ہوں دیوانہ ترا

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Kaash Meri Jabeen e Shouq Sajdoon Se Sarfaraz Ho

Kaash Meri Jabeen e Shouq Sajdoon Se Sarfaraz Ho
Yaar Ki Khak e Aastan Taj e Sar e Niyaz Ho

کاش مری جبین شوق سجدوں سے سرفراز ہو
یار کی خاکِ آستاں تاجِ سرِ نیاز ہو

ہم کو بھی پایئمال کر عمر تری دراز ہو
مستِ خرامِ ناز ادھرمشقِ خرامِ ناز ہو

چشمِ حقیقت آشنا دیکھے جو حسن کی کتاب
دفترِ صد حدیث راز ہر ورقِ مجاز ہو

سامنے روئے یار ہو سجدہ میں ہو سرِ نیاز
یونہی حریم ناز میں آٹھوں پہر نماز ہو

اس کے حریم ناز میں عقل و خرز کو دخل کیا
جس کی گلی کی خاک کا ذرہ جہانِ راز ہو

تیری گلی میں پا کے جا، جائے کہاں ترا گدا
کیوں نہ وہ بے نیاز ہو تجھ سے جسے نیاز ہو

بیدم خستہ ہجر میں بن گئی جانِ زار پر
جس نے دیا ہے دردِ دل کاش وہ چارہ ساز ہو

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Khuda Jane Kahan Se Jalwa e Jaana Kahan Tak Hai

Khuda Jane Kahan Se Jalwa e Jaana Kahan Tak Hai
Waheen Tak Daikh Sakta Hai Nazar Jis Ki Jahan Tak Hai

خدا جانے کہاں سے جلوۂ جاناں کہاں تك ہے
وہیں تك دیكھ سكتا ہے نظر جس كی جہاں تك ہے

ہم اتنا بھی نہ سمجھے عقل كھوئی دل گنوا بیٹھے
كہ حسن و عشق كی دنیا كہاں سے ہے کہاں تك ہے

زمیں سے آسماں تك ایك سناٹے كا عالم ہے
نہیں معلوم میرے دل كی ویرانی کہاں تك ہے

نیاز راز كی روداد حسن و عشق كا قصہ
یہ جو كچھ بھی ہے سب انكی ہماری داستاں تك ہے

خیال یار نے تو آتے ہی گم كر دیا مجھ كو
یہی ہے ابتدا تو انتہا اس كی کہاں تك ہے

زمیں سے آسماں تك، آسماں سے لامكاں تك ہے
خدا جانے ہمارے عشق كی دنیا کہاں تك ہے

سنا ہے ہم نے صوفیوں سے اكثر خانقاہوں میں
كہ یہ رنگین بیانی بیدمؔ رنگیں بیاں تك ہے

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Abida Parveen YouTube:Khuda jane Kahan se Jalwa e Jaana Kahan Tak Hai

 

Kiya Poochte Ho Garmi e Bazar e Mustafa

Kiya Poochte Ho Garmi e Bazar e Mustafa
کیا پوچھتے ہو گرمی بازار  مصطفےٰؐ

 

کیا پوچھتے ہو گرمی بازار  مصطفےٰؐ
خود بک رہے ہیں آ کے خریدار  مصطفےٰؐ

 

دل ہے مرا خزینہ اسرارِ مصطفےٰؐ
آنکھیں ہیں دونوں روزنِ دیوار مصطفےٰؐ

 

پھیلا ہوا ہے چاروں طرف دامنِ نگاہ
اور لُٹ رہی ہے دولتِ دیدارِ مصطفےٰؐ

 

تفسیر مصحفِ رخِ پر نور والضحیٰ
والیل شرح گیسوئے خمدارِ مصطفےٰؐ

 

نعلین پا سے عرش معلیٰ کو ہے شرف
روح الا میںؑ ہیں غاشیہ بردارِ مصطفےٰؐ

 

کیونکر نہ سجدہ پیش رح مصطفے ٰؐکروں
طاقِ حرم ہے ابروئے خمدار مصطفےٰؐ

 

بیدمؔ نہ  آوں جا کہ دیار رسول ؐسے
تربت ہو زیر سایہ دیوارِ مصطفےٰؐ

بیدم وارثی
Bedam Warsi

Youtube : Kiya Poochte Ho Garmi e Bazar e Mustafa

Ada Pay Teri Dil Hai Aanay k Qabil

 

Ada Pay Teri Dil Hai Aanay k Qabil
ادا پر تری دل ہے آنے کے قابل

ادا پر تری دل   ہے آنے کے قابل
مری جان ہے تجھ پہ جانے کے قا بل

انہیں کو چنا چن کے بجلی نے پھونکا
وہ تنکے جو تھے آشیانے کے قابل

ترے مصحف رخ کو اللہ رکھے
یہ قرآں ہے ایمان لانے کے قابل

ہوا راز دل سب پہ ظاہر تو اب کیا
چھپاتے تھے جب تھا چھپانے کے قابل

جبیں مدتوں سے لئے پھر رہی ہے
جو سجدے ہیں اس آستانے کے قابل

جگر ہو کہ دل ناوک ناز جاناں
یہ دونوں ہیں تیرے نشانے کے قابل

میں بیدم اسی بات پہ مٹ رہا ہوں
کہ وہ مجھ کو سمجھے مٹانے کے قابل

بیدم وارثی
Bedam Warsi