Kis Ghar Mein Kis Hijab Mein Ae Jaan Nehaan Ho Tum

Kis Ghar Mein Kis Hijab Mein Ae Jaan Nehaan Ho Tum
Hum Raah Daikhte hain Tumhari Kahan Ho Tum

کس گھر میں کس حجاب میں اے جاں نہاں ہو تم
ہم راہ دیکھتے ہیں تمھاری کہاں ہو تم

مٹنے پر اپنے ناز نہ ہو کس طرح مجھے
میں ہوں وہ بے نشاں کہ جس کہ نشاں ہو تم

پردہ دری کا آپ نہ کیجے گلہ اگر
ہم سینہ چاک کرکے دکھا دیں جہاں ہو تم

دونوں جگہ ظہور برابر ہے آپ کا
ذرے میں آفتاب میں یک ساں عیاں ہو تم

خالی نہیں ہے آپ کے جلوے سے کوئی شے
دریا ہو اور قطروں کے اندر نہاں ہو تم

حاضر ہے بزم یار میں ساماں عیش سب
اب کس کا انتظار ہے اکبر کہاں ہو تم

شاہ اکبر دانا پوری

Thanks to Syed Zeeshan Khalid for Sharing.

Man Shab e Siddique Ra Deedum b’Khawab

خلاصہ مطالبِ مثنوی
در تفسیر سورہَ اخلاص

قل ھواللہ احد
کہہ دو وہ اللہ ایک ہے

Man Shab e Siddque Ra Deedum b’Khawab
Gul Z Khak e Raah e Oo Cheedam b’Khawab

من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاک راہِ اُو چیدم بخواب

ایک رات میں نے خواب میں حضرت ابو بکر صدیق کو دیکھا
آپ کے راستے کی خاک سے میں نے خواب میں پھول چنے

آں امن الناس بر مولائے ما
آں کلیم اوّل سینائے ما

آپ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہمارے مولا ہیں
آپ ہمارے طور(نبی کریم ؐ ) کے پہلے کلیم ہیں

ہمت اُو کشت ملت را چو ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر

آپ کی ہمت امت کی کھیتی کے لئے بادل کی مانند ہے
آپ ثانی اسلام و غار وبدر و قبر ہیں

گفتمش اے خاصہَ خاصانِ عشق
عشقِ تو سرِ مطلعِ دیوانِ عشق

میں نے آپ سے کہا کہ آپ عشق کے خاصوں سے بھی خاص ہیں
آپ کا عشق دیوان عشق کا پہلا شعر ہے

پختہ از دستت اساسِ کار ما
چارہ ے فرما پے آزارِ ما

آپ کے ہاتھوں سے ہمارے کاموں کی بنیاد مضبوط ہوئی
آپ ہمارے دکھ درد کا علاج فرمائیں

گفت تاکہ ہوس گردی اسیر
آب و تاب از سورہ اخلاص گیر

حضرت صدیق نے فرمایا کہ کب تک اُمت حرص و ہوس میں مبتلا رہے گی
اس اُمت کو سورہ اخلاس سے چمک دمک حاصل کرنی چاہیے

ایں کہ در صد سینہ پیچد یک نفس
سرے از اسرارِ توحید است و بس

یہ جو ہزاروں سینوں میں ایک ہی طرح سے سانس چل رہا ہے
یہ توحید کے رازوں میں سے ایک راز ہے

رنگ اُو برکن مثالِ او شوی
در جہاں عکس جمال او شوی

اس جہاں میں تو اس کے رنگ کو اختیار کر کے اس کی مانند ہو جا
اس جہاں میں اُس کے جمال کا عکس بن جا

آنکہ نامِ تو مسلماں کردہ است
اذ دوئی سوے یکی آورہ است

وہ ذات کہ جس نے تیرا نام مسلماں رکھا ہے
وہ تجھے دوئی سے وحدت کی طرف لائی ہے

خویشتن را ترک و افغان خواندہ ای
وائے بر تو آنچہ بودی ماندہ ای

تو خود کو ترک اور افغان کہلانا پسند کرتا ہے
افسوس تجھ پر کہ تو جو تھا اب نہیں ہے

وارہاں نامیدہ را از نامہا
ساز با خم در گذر از جامہا

تو اس قوم کو اتنے سارے ناموں سے نجات دلا
تو صراحی سے موافقت کر اور پیالوں سے جان چھڑا

اے کہ تو رسواے نام افتادہ عی
از درخت خویش خام افتادہ ای

اے کہ تو (قوم) اتنے سارے ناموں کی وجہ سے رسوا ہو گئی ہے
اور اپنے درخت سے کچے پھل کی طرح گر گئی ہے

با یکی ساز از دوئی بردار رخت
وحدت خود را مگرداں لخت لخت

تو توحید سے تعلق جوڑ اور دوئی کو رخصت کر دے
اپنی وحدت کو اس طریقے پر ٹکڑے ٹکڑے نہ کر

اے پرستار یکی گر تو توئی
تا کجا باشی سبق خوانِ دوئی

اے ایک کے پوچنے والے اگر تو تو ہے
تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا

تو درِ خود را بخود پوشیدہ ای
در دل آور آنچہ بر لب چیدہ ای

تو نے اپنا دروازہ اپنے اوپر خود بند کر لیا ہے
تو جو زبان سے کہتا ہے دل سے بھی ادا کر

صد ملل از ملتے انگیختی
برحصارِ خود شبخوں ریختی

تو نے ایک ملت کی سو ملتیں بنا لیں ہیں
اپنے قلعے پر خود ہی شب خوں مارا ہے

یک شو و توحید را مشہود کن
غائبش را از عمل موجود کن

ایک ہو جا اور توحید کا اظہار کر دے
اپنے عمل سے غائب کو موجود کر دے

لذتِ ایماں فزاید در عمل
مردہ آں ایماں کہ ناید در عمل

ایمان کی لذت عمل کرنے سے بڑھتی ہے
مردہ ہے ایمان جس میں عمل نہ ہو

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Mein koji Mera Dilbar Sohna Mein Kyunkar us Noon Bhawaan Hoo

Mein koji Mera Dilbar Sohna Mein Kyunkar us Noon Bhawaan Hoo

میں کوجی میرا دلبر سوہنا ، میں کیونکر اس نوں بھانواں ہُو
ویہڑے ساڈے وڑدا ناہیں پئی لکھ وسیلے پانواں ہُو
ناں میں سوہنی ناں دولت پلّے ، کیوں کر یار مناواں ہُو
ایہہ دکھ ہمیشاں رہسی باہو روندڑی ہی مر جاواں ہُو

میں بد صورت ہوں میرا محبوب نہائت حسین ہے ، میں کس طرح سے اس کو پسند آ سکتی ہوں
میرے گھر میں وہ قدم نہیں رکھتا میں نے لاکھوں تدبیریں کیں ہیں
نہ تو میں حوبصورت ہوں نہ ہی مال و دولت ہے میں کیسے محبوب کو مناوں
باہو یہ دکھ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ رو رو کر مر جاؤں

Sultan Bahu
حضرت  سلطان  باہو

Khizaan Ke Marey Huwe Janib e Bahar Chale

Khizaan Ke Marey Huwe Janib e Bahar Chale
Qarar Pane Zamaney Ke Be Qarar Chale

خزاں کے مارے ہوئے جانب بہار چلے
قرار پانے زمانے کے بے قرار چلے

وہ راہیں مہکیں وہ کوچے بھی عطر بیز ہوئے
جدھر جدھر سے وہ محبوب کرد گار چلے

اے تاجدارِ جہاں اے حبیب ربِ کریم
وہ بھیک دو کہ غریبوں کا کاروبار چلے

وہیں پہ تھام لیا اُن کو دست قدرت نے
نبیؐ کے در کی طرف جب گناہگار چلے

جھکا کے اپنی جبیں اُن کے آستانے پر
نصیب بگڑا ہوا تھا اسے سنوار چلے

ہمارے پاس ہی کیا تھا جو نذر کرتے انہیں
بس ایک دل تھا جسے کر کے ہم نثار چلے

ریاض عظمت نعلین مصطفےٰ کی قسم
سروں پہ رکھتے ہوئے اس کو تاجدار چلے

ریاض اُن کے کرم سے ہوئی ہے جیت اپنی
وگرنہ بازی تھے ہم زندگی کی ہار چلے

علامہ سید ریاض الدین سہروردی
Syed Riaz uddin Soharwardi

Khusboo Hai Do Aalam Main Teri Ae Gul e Cheeda

Khusboo Hai Do Aalam Main Teri Ae Gul e Cheeda
Kis Moun Se Bayan houn Tere Ausaaf Hameeda

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُل چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

تُجھ سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں
دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ

مضمر تیری تقلید میں عالم کی بھلائی
میرا یہی ایماں ہے یہی میرا عقیدہ

اے رحمت عالم تیری یادوں کی بدولت
کس درجہ سکوں میں ہے میرا قلب تپیدہ

خیرات مجھے اپنی محبت کی عطا کر
آیا ہوں بڑی دور سے با دامان دریدہ

یوں دور ہوں تائب میں حریم نبویؐ سے
صحرا میں ہو جس طرح کوئی شاخ بریدہ

حفیظ تائب
Hafeez Taib

Thanks to Mustafa Khan for Sharing the Naat

Balaghal-ula be-Kamal-e-hi

Balaghal-ula be-Kamal-e-hi

بلغ العلی بکمالہ

پہنچے بلندی پر اپنے کمال سے

Kashafad-duja be-Jamaal-e-hi

کشف الدجی بجمالہ

دور کر دیا اندھیرا اپنے جمال سے

Hasunat jamee’u Khisaal-e-hi

حسنت جمیع خصالہ

حسیں ہیں آپ کی سب خصلتیں

Sallu alae-hi wa Aal-e-hi

صلو علیہ و آلہ

درود بھیچو آپؐ پر اور آپؐ کی آل پر

شیخ سعدی شیرازی

Sheikh Saadi Shirazi

Tu Jo Allah Ka Mahboob Howa Khoob Howa

Tu Jo Allah Ka Mahboob Howa Khoob Howa
Ya Nabi Khoob Howa Khoob Howa Khoob Hova

تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا

شب معراج یہ کہتے تھے فرشتے باہم
سخن طالب و مطلوب ہوا خوب ہوا

حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
بخشوانا تجھے مرغوب ہوا خوب ہوا

تھا سبھی پیش نظر معرکہ کرب و بلا
صبر میں ثانی ایوب ہوا خوب ہوا

داغ ہے روز قیامت مری شرم اسکے ہاتھ
میں گناہوں سے جو محجبوب ہوا خوب ہوا

داغ دھلوی

Ek Main He Nahin Un Per Qurban Zamana Hai

Ek Main He Nahin Un Per Qurban Zamana Hai
Jo Rab e Do Alam Ka Mahboob Yaqana Hai

اک میں ہی نہیں اس پر قربان زمانہ ہے
جو رب دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

کل جس نے ہمیں پُل سے خود پار لگانا ہے
زہرہ کا وہ بابا ہے سبطین کا نانا ہے

اُس ہاشمی دولہا پر کونین کو میں واروں
جو حُسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے

عزت سے نہ مر جائیں کیوں نام محمد پر
ہم نے کسی دن یوں بھی دنیا سے تو جانا ہے

آو در زہرہ پر پھیلائے ہوئے دامن
ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے

ہوں شاہ مدینہ کی میں پشت پناہی میں
کیا اس کی مجھے پرواہ دشمن جو زمانہ ہے

یہ کہ کے در حق سے لی موت میں کچھ مہلت
میلاد کی آمد ہے محفل کو سجانا ہے

قربان اُس آقا پر کل حشر کے دن جس نے
اَس اُمت عاصی کو کملی میں چھپانا ہے

سو بار اگر توبہ ٹوٹی بھی تو حیرت کیا
بخشش کی روائت میں توبہ تو بہانہ ہے

ہر وقت وہ ہیں میری دُنیائے تصور میں
اے شوق کہیں اب تو آنا ہے نہ جانا ہے

پُر نور سی راہیں ہیں گنبد پہ نگاہیں ہیں
جلوے بھی انوکھے ہیں منظر بھی سہانا ہے

ہم کیوں نہ کہیں اُن سے رُو داد الم اپنی
جب اُن کا کہا خود بھی اللہ نے مانا ہے

محروم کرم اَس کو رکھیئے نہ سرِ محشر
جیسا ہے نصیر آخر سائل تو پُرانا ہے

Naseer ud Din Naseer
نصیر الدین نصیر

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

بچشم من جہاں جز رہگزر نیست
ہزاراں رہرو و یک ہم سفر نیست
گذشتم از ہجوم خویش و پیوند
کہ از خویشاں کسے بیگانہ تر نیست

میری نظر میں دنیا ایک راستہ کے سوا کچھ نہیں
یہاں ہزاروں مسافر ہیں مگر ایک بھی ہم سفر نہیں ہے
میں عزیزوں اور دوستوں کے ہجوم سے گزر گیا
کیونکہ اپنوں سے بڑھ کر کوئی بیگانہ نہیں ہے

By my eyes this world is just a passage
There are thousands of passengers but no one is companion traveler
I have passed from the crowd of loved ones and relatives
Because there is no one more stranger than our own loved ones

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Jo Bane Aaina Woh Tera Tamasha Daikhe

Jo Bane Aaina Woh Tera Tamasha Daikhe
Apni Soorat mein Tere Husn Ka Jalwa Daikhe

جو بنے آئینہ وہ تیرا تماشا دیکھے
اپنی صورت میں تیرے حسن کا جلوہ دیکھے

ہائے کس طرح تجھے عاشق شیدا دیکھے
تیرا سایہ بھی نہیں ہے جو سایہ دیکھے

تیری شانیں ہیں ہزاروں ،تیرے جلوے ہیں لاکھوں
دو ہی آنکھیں ہوں ملیں جس کو وہ کیا کیا دیکھے

قیس کو ہوش نہیں لب پہ انا لیلیٰ ہے
اپنے دیوانے کو آ کر ذرا لیلیٰ دیکھے

دیکھنے والے تیرے دیکھتے ہیں یوں تجھ کو
جیسے دریا کی طرف پیاس کا مارا دیکھے

کیا سمجھ رکھا ہے اللہ کو تو نے اکبر
آنکھیں کھولے ہوئے بیٹھا ہے کہ جلوہ دیکھے

شاہ اکبر دانا پوری

Hazrat Syed Shah Muhammad Akbar Danapuri

Thanks to Syed Zeeshan Khalid for Sharing and correction.