Marhaba Sayyedi Makki Madani ul Arabi

Marhaba Sayyedi Makki Madani ul Arabi
Dil o Jaan Baad Fidayat Che Ajab Khush Laqabi

مرحبا سید مکی مدنی العربی
دل وجاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی

اے مکی مدنی و عربی آقا مرحبا ۔ آپ پر دل و جاں فدا ہوں ، کیا خوبصورت لقب ہے آپکا

من بیدل بجمال تو عجب حیرانم
اللہ اللہ چہ جمال است بدیں بوالعجبی

میں بیدل آپکی خوبصورتی دیکھ کر عجب حیرانی میں مبتلا ہوں ۔اللہ اللہ کیا جمال ہے حیرانگی کی انتہا ہے

نخل بستان مدینہ ز تو سرسبز مدام
زاں شدہ شہرۂ آفاق بہ شیریں رُطَبی

مدینے کے باغات آپ کی وجہ سے ہمیشہ کیلیے سرسبز ہو گئے اور آپ کی وجہ ہی سے یہاں کی تر و تازہ کجھوریں اپنی شیرینی میں شہرہ آفاق ہو گئیں
تر و تازہ سے مراد نیا نظام اسلام ہے اور اسکا شہرہ آفاق ہونا تو ظاہر ہی ہے کہ اسلام ہر طرف پھیل گیا۔

چشم رحمت بکشا سوئے من انداز۔نظر
اے قریشی لقبی ھاشمی و مطلبیّ

اپنی رحمت کی آنکھ کھول کر میری جانب اک نظر کیجیے
اے کہ آپ  قریشی ہاشمی اور مطلبی لقب رکھنے والے ہیں

نسبتِ نیست بذاتِ تو بنی آدم را
برتراز عالم و آدم تو چہ عالی نسبی

آپ کی ذات کی نسبت بنی آدم سے نہیں ہے بلکہ آپ تو تمام جہانوں اور آدم سے برتر ہیں، آپ کا نسب کیا اعلیٰ ہے۔

ماھمہ تشنہ لبا نیم وتوئ آب ِحیات
رحم فرما کہ زحد می گزروتشنہ لبی

ہم سب انتہائی پیاسے ہیں اور آپ کی ذاتِ مبارک آبِ حیات ہے، رحم فرمائیے
اور اس آبِ حیات کے جام پلایئے ، کہ ہماری پیاس حد سے بڑھ چکی ہے۔

ذاتِ پاکِ تو دریں مللک ِعرب کردہ ظہور
زاں سبب آمدہ قراں بہ زبان ِ عربی

آپ کی ذاتِ پاک نے عرب میں ظہور کیا اور اسی سبب سے قرآن کی زبان بھی عربی ہے۔

سیدّی انتَ حبیبی و طبیبِ قلبی
آمدہ سوئے تو قدّسی پئے درماں طلبی

اے آقا آپ ہی حبیب اور دلوں کے طبیب ہیں اور فرشتے بھی آپ کی طرف درمان طلب کرنے کیلیے آتے ہیں۔

Jaan Muhammad Qudsi
جان محمد قدسی

Reference: : http://www.urduweb.org

Download Mp3: Marhaba Maki Madni ul Arabi Qudsi Farzand Ali 27-6-4 786

Bheeni Suhani Subhu Mein Dhandak Jigar Ki Hai Lyrics

Bheeni Suhani Subhu Mein Dhandak Jigar Ki Hai
Kalliyaan Khileen Dilon Ki Hawa Yeah Kidhar ki Hai

بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے

ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ  عظمت کس سفر کی ہے

مجرم بلائے آئے ہیں جاوءک ہے گواہ
پھر رد ہو کب یہ شان کریموں کے در کی ہے

پہلے ہو ان کی یاد کہ پائے جلا نماز
یہ کہتی ہے اذان جو پچھلے پہر کی ہے

سرکار ہم گنواروں میں طرز ادب کہاں
ہم کو تو بس تمیز یہی بھیک بھر کی ہے

اپنا شرف دعا سے باقی رہا قبول
یہ جانیں ان کے ہاتھ میں کنجی عصر کی ہے

کعبہ ہے بے شک انجمن آرا دلہن مگر
ساری بہار دلہنوں میں دولہا کے گھر کی ہے

وہ خلد جس میں اترے گی ابرار کی بارات
ادنیٰ نچھاور اس مرے دولہا کے سر کی ہے

ہاں ہاں رہ مدینہ ہے غافل ذرا تو جاگ
او پاؤں رکھنے والے یہ جا چشم و سر کی ہے

ستر ہزار صبح ہیں ستر ہزار شام
یوں بندگی ٴ زلف و رخ آٹھوں پہر کی ہے

محبوب رب عرش ہے اس سبز قبہ میں
پہلو میں جلوہ گاہ عتیق و عمر کی ہے

لب واہیں آنکھیں بند ہیں پھیلی ہیں جھولیاں
کتنے مزے کی بھیک ترے پاک در کی ہے

قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کج
یہ ساری گتھی اک تیری سیدھی نظر کی ہے

مومن ہوں مومنوں پہ رؤف رحیم ہو
سائل ہوں سائلوں کو خوشی لا نہر کی ہے

مولیٰ علی نے واری تِری نیند پر نماز
اور وہ بھی عصر سب سے جو اعلی خطر کی ہے

صدیق بلکہ غار میں جاں اس پر دے چکے
اور حفظِ جاں تو جان فروضِ غرر کی ہے

ہا ں تو نے ان کو جان انھیں پھیر دی نماز
پر وہ تو کر چکے جو کر نی بشر کی ہے

ثابت ہوا جملہ فرائض فروع ہیں
اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے

آ کچھ سنا دے عشق کے بولوں میں اے رضا
مشتاق طبع لذّتِ سوزِ جگر کی ہے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Download Here:Bheeni Suhani Subhu Mein — Farzand Ali Soharwardi–AlaHazrat Naat– 786

Nami Danam Ke Aakhir Chun Dam e Deedar Me Raqsam

Nami Danam Ke Aakhir Chun Dam e Deedar Me Raqsam
Magar Nazam Ba Ein Zouq e Ke Paish Yaar Me Raqsam

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بایں ذوقے کہ پیشِِ یار می رقصم

مجھےنہیں معلوم کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں ناچ رہاہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے ناچتا ہوں

تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خونخوار می رقصم

تُو وہ قاتل ہے کہ تماشے کے لیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خونخوار خنجر کے نیچے ناچتا ہوں

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم

آ، اے محبوب  اورتماشا دیکھ کہ جانبازوں کی بھِیڑ میں،  میں سینکڑوں رسوائیوں کےسامان کےساتھ ،سر بازار ناچتا ہوں

خوشا رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم

واہ ! مے نوشی کہ جس کیلیے میں نے سینکڑوں پارسائیوں کو پامال کر دیا، خوب! تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ ناچتا ہوں

اگرچہ قطرۂ شبنم نپوئید بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بنوکِ خار می رقصم

اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں پڑتا لیکن میں شبنم کا وہ قطرہ ہوں کہ کانٹے کی نوک پر ناچتا ہوں

تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہر طرزے کہ رقصانی منم اے یار می رقصم

توہر وقت جب بھی مجھے نغمہ سناتا ہے، میں  ہر بار ناچتا ہوں، اور جس طرز پر بھی تو رقص کراتا ہے، اے یار میں ناچتا ہوں

سراپا بر سراپائے خودم از بیخودی قربان
بگرد مرکزِ خود صورتِ پرکار می رقصم

سر سے پاؤں تک جو میرا حال ہےاس  بیخودی پر میں قربان جاؤں،کہ پرکار کی طرح اپنے ہی گرد ناچتا ہوں

مرا طعنہ مزن اے مدعی طرزِ ادائیم بیں
منم رندے خراباتی سرِ بازار می رقصم

اے ظاہر دیکھنے والے مدعی !مجھے طعنہ مت مار،میں تو شراب خانے کا مے نوش ہوں کہ سرِ بازار ناچتا ہوں

کہ عشقِ دوست ہر ساعت دروں نار می رقصم
گاہےبر خاک می غلتم , گاہے بر خار می رقصم

عشق کا دوست تو ہر گھڑی آگ میں ناچتا ہے،کبھی تو میں خاک میں مل جاتا ہوں ،کبھی کانٹے پر ناچتا ہوں

منم عثمانِ ھارونی کہ یارے شیخِ منصورم
ملامت می کند خلقے و من برَ،دار می رقصم

میں عثمان ھارونی ،شیخ حسین بن منصور حلاج کا دوست ہوں، مجھے خلق ملامت کرتی ہے اور میں سولی پر ناچتا ہوں

Khwaja Usman Harooni
خواجہ عثمان ہارونی

Download Link: Nami Danam Ke Aakhir Chun Dam e Deedar Me Raqsam-Usman Harooni–Farzand Ali Soharwardy –Mehfil Meelad– 6-5-4 —786

Text Reference: http://aljellani.blogspot.com/2012/01/blog-post_5148.html

Woh Sarwar e Kishwar e Risalat (Qaseeda Mairaj Lyrics)

Woh Sarwar e Kishwar e Risalat Jo Arash Pe Jalwah Gar Howay Thay
Naye Nirale Tarab Ke Saaman Arab Ke Mahmaan Ke Liye Thay

وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے سَاماں عرب کے مہماں کے لئے تھے

The King of Prophets shined on the divine throne of Allah
Special arrangements were made by Allah to welcome this guest of Arab.

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے

There at Heavens were wedding celebrations and here at earth were announcements everywhere.
The Dazzling Lights were coming with smile from Heaven and Fragrant Perfumes were being produced from Earth

اُتار کے اُن کے رخ کا صدقہ یہ نور کا بٹ رہاتھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

The Noor light was being distributed as a charity of his Face.
The Moon And The Sun were at forefront to collect their part from forehead.

وہی تو اب تک چھلک ہرا ہے وہی تو جوبن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لئے تھے

The same luminous water is still overflowing and leaking from stars in shape of light
The stars reserved the bath water and filled their cups.

بچا جو تلو وں کا ان کے دھوون بنا وہ جنت کا رنگ و روغن
جنھوں نے دولھا کی پائی اُترن وہ پھول گلزارِ نور کے تھے

The remaining water was used to color and paint the Paradise
The groom dress was distributed among the brighting flowers of the Paradise

اُٹھے جو قصرِ دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جا ہی نہیں دوئی کی نہ کہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے

The curtains of the nearness were raised How can any one bring news of that moment
There is no room for secondness .Dont say he wasn’t, Beware He was.

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوط واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چَکر میں دائرے تھے

حجاب اُٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ دصل و فرقت جنم کہ بچھڑے گلے ملے تھے

وہی ہے اوّل وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے اُسی سے اس کی طرف گئے تھے

کمان امکاں کے جھوٹے نقطوں تم اّول آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

نبیِ رحمت شفیعِ اُمت رضؔا پہ للہ ہو عنائت
اُسے بھی ان خلعتوں سے حصّہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبول سَرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا ردی تھی کیا کیسے قافیے تھے

Alahazrat Imam Ahmad Raza
اعلی حضرت احمد رضا

Download mp3 Link:Woh Sarwar e Kishwar e Risalat Jo Arash Pe Jalwah Gar Howay Thay

Jab Noor e Tajalla Ka Ezhaar Huwa Maloom

Jab Noor e Tajalla Ka Ezhaar Huwa Maloom
Deedar Ke Taalib Ka Esrar Huwa Maloom

جب نورتجلی کا اظہار ہوا معلوم
دیدار کے طالب کا اصرار ہوا معلوم

کیا حسن مشیت ہے ، کیا حسن تماشا ہے
انکار کی عظمت میں ، اقرار ہوا معلوم

اک دید حجابوں میں ، اک دید ہے بے پردہ
دلدار کی مرضی ہے ، دیدار ہوا معلوم

یہ حسن کی مرضی تھی ہر حال عیاں ہونا
تخلیق کی صورت میں اظہار ہوا معلوم

ہر شے کی حقیقت میں اس نور کا جلوہ ہے
یہ دیدہ باطن سے اک بار ہوا معلوم

جس دم تھا رگ و پے کا ہر ریشہ تماشا مست
اس عالم حیرت میں وہ یار ہوا معلوم

ہر حال میں دل خاور، با یار رہے با کار
ساز دل غافل تو بے تار ہوا معلوم

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Ik Rashk e Zamana Hain Parwanay Muhammad Ke

Ik Rashk e Zamana Hain Parwanay Muhammad Ke
Ya Khuld Badaman Hain Deewanay Muhammad Ke

اک رشکِ زمانہ ہیں، پروانے محمد کے
یا خلد بداماں ہیں، دیوانے محمد کے

مرتے ہیں محبت میں، جیتے ہیں محبت میں
یوں زندہ و تابندہ ہیں ، پروانے محمد کے

اوتادِ زمین و عرش، سرمست و خدا  آگاہ
ویرانہ ء عالم میں ،فرزانے محمد کے

محبوبیِ و سرشاری، ہر آن طمانیت
بیگانہ ء خوف و غم، دیوانے محمد کے

یک مستی و ہشیاری، یک گونہ سروروشوق
میخانہء ہستی میں ، پیمانے محمد کے

عرفان کی مے سےپر، جاںبخش ودوائےدل
پیمانے محمد کے ، میخانے محمدؐکے

انوار الہیٰ کا ہر رنگ نمایاں ہے
سر چشمہءرحمت ہیں کاشانے محمدؐ کے

اقوالِ شریعتہوں اسرار طریقت ہوں
ہر شے کی حقیقت ہیں،افسانے محمدؐ کے

تفسیر و فقہ، فتویٰ، شمشیر، جہادِ نفس
عشاق کے ہاتھوںمیں،پیمانے محمدؐکے

یہ فیض قلندر کے ، ہیں فیض محمدؐ کے
کاشانے قلندر کے کاشانے محمد کے

دربار قلندرؒ میں دل کھول کے پی خاور
بوالفیض کی نظریں ہیں میخانے محمدؐ کے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai

Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai
Har Uqdah e Mushkil Khulta Hai Taqdeer Edhar Ho Jati hai

اے نورِ مجسم جب تیری ، رحمت کی نظر ہو جاتی ہے
ہر عقدہ مشکل کھلتا ہے ، تقدیر ادھر ہو جاتی ہے

اے حسنِ تجلی میں قرباں، اے شمع حقیقت کیا کہنا
جس سَمت نگاہیں اٹھتی ہیں ، رحمت بھی ادھر ہو جاتی ہے

کیا عشق تماشا بنتا ہے، کیا پردہ دوئی اتھتا ہے
خود کشف ِ حقیقت ہوتا ہے جس شے پہ نظر ہو جاتی ہے

گھنگھور گھٹائیں اٹھتی ہیں ، اک نور کی بارش ہوتی ہے
سب دل کی سیاہی دھلتی ہے وہ زلف جدھر ہو جاتی ہے

محبوب خدا کے قدموں میں ، محبوب خدا کی صحبت میں
وہ علمِ لدنی ملتا ہے ، ہر شے کی خبر ہو جاتی ہے

جب اسوہ نبوی اپنا کر ، اک قربِ خصوصی ملتا ہے
ہر عرض رضائے حق بن کر “اکسیر اثر” ہو جاتی ہے

اے نورہدیٰ کے متلاشی، سن! غارحرا کے ذرّوں سے
آواز کچھ ایسی آتی ہے تسکینِ خبر ہو جاتی ہے

انوارِ نبی کے جلو وں سے دیدارِ نبی کی برکت سے
بیمار محبت کی ہر شب گویا کہ سَحر ہو جاتی ہے

جب صحبت ِ پیرِ کا مل میں آداب محبت آتے ہیں
دربار رسالت میں فوراً طالب کی گذر ہو جاتی ہے

بو الفیض کی نظر کا مل ہے عرفان و حقیقت کا عنواں
تکمیل تمنا ہوتی ہے جس آن نظر ہو جاتی ہے

سرکا ر کی الفت میں خاؔور جب ہستی ء ظاہر مٹتی ہے
خود درد مداوا بنتا ہے”اللہ” کی خبر ہو جاتی ہے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Na Chehro Khiyal e Muhammad Main Gum Hun

Na Chehro Khiyal e Muhammad Main Gum Hun
Ba Een Rukh e Wisaal e Muhammad Main Gum Hun

نہ چھیڑو خیالِ محمد میں گم ہوں
بہ ایں رخ وصالِ محمد میں گم ہوں

ہمہ وصف موصوف نورٌ من اللہ
جلال و جمال محمدؐ میں گم ہوں

اَمینے ،حکیمے، رحیمے، کریمے
ہمی خوش خصالِ محمدؐ میں گم ہوں

سدا نعت گوئی، سدا نعت خوانی
سدا قیل و قالِ محمد ؐ میں گم ہوں

ہمہ آفتابم، مہا ماہتابم
کہ حسن و جمالِ محمدؐ میں گم ہوں

نہ ہنگامِ مستی نہ ایں ہوشیاری
غلامانِ آلِ محمدؐ میں گم ہوں

مرے حالِ ظاہر ہی اے ہنسنے والو
دریں حال، قالِ محمدؐ میں گم ہوں

سراپا محمدؐ کے نقش قدم پر
سراپا مالِ محمد ؐ میں گم ہوں

دما دم نئے ولولے زندگی کے
کہ دائم خیالِ محمد میں گم ہوں

حقائق کا عرفاں، معارف کا طوفاں
کہ جامِ سفالِ محمدؐ میں گم ہوں

ہے محشر میں ہر کوئی پرسش پہ لرزاں
مگر میں خیالِ محمد میں گم ہوں

خوشا بخت خؔاور قلندر کے صدقے
میں قرب و وصالِ محمد میں گم ہوں

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Khiyaal e Ghair Mitey Dor e Imtihan Guzray

Khiyaal e Ghair Mitey Dor e Imtihan Guzray
خیالِ غیر مٹے دور این و آں گزرے

 خیالِ غیر مٹے دور این و آں گزرے
الہیٰ عشق محمد ؐ میں میری جاں گزرے

یہی ہے رمز محبت یہی ہے رازِ حیات
فریب سودوذیاں سے یہ جسم و جاں گزرے

خدا وہ وقت نہ لائے کہ میرا کوئی قدم
خلافِ جادہ سیاحِ لا مکاں گزرے

خوشا وہ وقت کہ میرے حریمِ شوق میں بھی
کسی بہانے وہ محبوب انس و جاں گزرے

زہے نصیب ملے محملِ حبیب کہیں
ہزار دشت پھرےاور رواں دواں گزرے

یہی ہے اصلِ قیام و رکوع و درورد  صٰلوۃ
کہ زندگی تری الفت میں جادداں گزرے

فقط حضوری تری قرب و مدعا کی دلیل
خدا کرے کہ تیرے آستاں پ جاں گزرے

ثباتِ رونق ہستی، قوام ِ دنیا و دیں
ترا قدم ہے مبارک جہاں جہاں گزرے

بہار تیرا تبسم سحر کی تجھ سے نمود
کرم اے مہرِ جہاں ظلمت وخزاں گزرے

تیری نظر کےتصّدق ترے کرم کے طفیل
اسیر دا من الفتہیں کا مراں گزرے

تیری تلاش میں اب تک بہ انتظار سحر
نگاہ شوق سے لاکھوں ہیں کاردوں گزرے

اسی اُمید پہ تیرے فقیر بیٹھے ہیں
کرم کی بھیک ملے دورِ امتحاں گزرے

فقظ وہی ہے زمانے میں صاحب مقصود
جو معرفت میں تری ہو کے کامراں گزرے

نگاہ فیض بھی ہو جائے جانبِ خؔاور
کہ راہ عشق میں بے خوف و بے گماں گزرے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

Muj Ko Ya Allah Apna Ishq Dai Hai Ibaadat Sirf Teray Wastay

Muj Ko Ya Allah Apna Ishq Dai
Hai Ibaadat Sirf Teray Wastay

مناجات بدرگاہ قَاضی الحاجات بواسطہ اسماالحُسنیٰ

مجھ کو یا اللہ اپنا عشق دے
ہے عبادت صرف تیرے واسطے

مستحق تو ہی عبادت کا ہوا
ہے توئی معبود ساری خلق کا

بخش یا رحمٰنُ میں ہوں خوارتر
یا رَحِیُم مہربانی مجھ پہ کر

خلق ہے یا مَالکُ کہتی تجھے
لے بچا دوزخ سے جنت دے مجھے

مجھ کو یاقدّوسُ کر عیبوں سے پاک
تو مجسم نوُر میں اک مشت خاک

یا سَلام ُدین و ایماں کو میرے
رکھ سلامت اپنے فضل و لطف سے

امن دے یامومنُ  مجھ کو سدا
یامُھیِمن ُہو نگہباں تو میرا

یا عَزیزُ میرے دشمن ہوویں سست
کام یا جَبّارُ میرے کر درست

تو ہے یا مُتکبّرُ سب سے بڑا
مجھ کو مغروروں کی صحبت سے بچا

جز تیرے یاخَالقُ ارض وسما
کس نے سب خلقت کا اندازہ کیا

کن سے یا باَرِیُ تو پیدا کرے
یا مُصوِرُ صورت و فطرت گرے

بخش یا غَفّا رُ عصیاں سر بسر
نفس پر غالب تو یا قَہّارُ کر

بے عوض تو رزق یا وہّاب دے
رزق یا رزّاق دے دو قسم کے

کھول یا فتّاحُ تو روزی کا در
یا عَلِیمُ علم دے کر با خبر

تنگ کر یا قاَبِضُ ہر شے پلید
رزق کر یا بَاسِطُ طیب مزید

پست ہوں یا حَافِضُ دشمن میرے
دے مجھے یاَ رافِعُ رتبے بڑے

یا معزُمجھ کو عزت کر عطا
یا  مُذِلُ مجھ کو ذلت سے بچا

یا سَمیعُ سن میری فریاد کو
یا بَصیرُ دیکھ مجھ ناشاد کو

یا حَاکِمُ حکم پر اپنے چلا
ڈر ہے یا عَادِلُ تیرے انصاف کا

یا ِِلطیفُ مجھ پہ اپنا لطف کر
یا خَبیُر جلد لے میری خبر

یا حَلیمُ بردباری کر عطا
یا عَظیُم ہے توئی سب سے بڑا

یا غَفورُ بخش دے میرے گناہ
یا شَکورُ شکر کر مجھ کو عطا

یا عَلِّیُ رتبہ ہے تیرا بڑا
یا ِکبیرُ تو بڑا سب سے بڑا

یا حَفیِظُ عافتوں سے رکھ نگاہ
یامُقِیتُ تن میں دے قوت کو راہ

یا حَسیِبُ سہل ہو مجھ پر حساب
یا جَلیل تو بڑا عالی جناب

یا  کَریمُ تو سخی محتاج سب
یا رَقیبُ تو نگہباں روزوشب

یا مجیب کر دعا میری قبول
دین و دنیا میں نہ کر مجھ کو ملول

علم کر یا وَاسعُ مجھ پر فراخ
بعد مردن قبر میری ہووے کاخ

یا حکیم تو ہے دانائے عمل
یا وَدُودُ تو محب بے بدل

یا مُجِیدُ ذات میں ہے تو بڑا
قبر سے یا باَعثُ مومن اٹھا

یا شَہیدُ حاضرو آگاہ کل
تو ہی ہے یاحَقُ شہنشاہ کل

یا وَکَیلُ  کار ساز بیکساں
یا قَویُ قوت بے مایئگاں

یا متینُ دین پر رکھ استوار
یا وَلِیُ کر مدد لیل و نہار

یا حَمیُد حمد ہے تیری سدا
تو ہے یا محُصِیُ محیط ما سوا

پہلے بھی یا مبدُ پیدا کیا
یا مُعید ُتو ہی ہے مرجع ہوا

زندہ یا محی ہون جبتک شاد رکھ
جب مروں میں یا ممیت یاد رکھ

تو ہی یا حَیی ُزندہ ہے تا ابد
تو ہی یا قیومُ قائم ہے احد

رکھ غنی مجھ کو سدا یا وَاجدُ
سب بڑائی تجھ کو ہے یا مَاجدُ

ہے تویئ یا دَاحدُ عالی صفات
یا احَدُ مطلق یگانہ پاک ذات

یا صَمد ہے سب کو تیری جستجو
سب تیرے محتاج بے پرواہ ہے تو

نفس پر یا قاَدرُ قادر رہوں
اس طرح یا مقشدر نادر ہوں

یا مُقدمُ ہووے اگلوں میں گزر
یا موخِر پیچھے والوں میں نہ کر

ہے توئی یا اَولُ اول قدیم
پھر توئی یا آخِرُ ہو گا مقیم

سب پہ تو یا ظَاہرُ ظاہر ہوا
تیری صفتوں سے ہر اک ماہر ہوا

وہم سے یا باطن تو پا ک ہے
عقل کو تیرا کہاںادراک ہے

تو ہے یا وَالی ِولی بندگاں
کار سازومالک ہر دو جہاں

تیرا یا متعالِی ہے رتبہ کمال
کس طرح یا بر ہو تیری مشال

میری یا تَوابُ توبہ کر قبول
رحم کر یا مُنعِمُ میں ہوں ملول

یا عَفوُ کر گناہ سے درگزر
یا رَوفُ ہو عنایئت کی نظر

مَالکُ الُملکْ ہے صحیح یہ تیرا نام
دے مجھے اَقْلیِم میں عالی مقام

ذُوالجلال ہے اور والاکرام ہے
دے مجھے جنت کہ تیرا کام ہے

عدل سے یا مُقسِتُ ڈرتا ہوں میں
فضل کی امید بس کر تا ہوں میں

جمع کر یا جَامعُ دل کو میرے
یا غَنیُ کر دے بے پرواہ مجھے

مجھ کو یا مُغنیِ بے پرواہ بنا
ہو نہ کچھ یا مانع نقصاں میرا

جو ضرر یا ضَارْ ہے وہ دور رکھ
نفع سے یا نَافعُ مسرور رکھ

کر دے یا نُورُ منور دل میرا
راہ یا ھَادی مجھے سیدھی دکھا

یا بَدیعُ تو بڑا ہے لا زوال
کر دیا عالم کو پیدا بے مثال

ہے تو یا باَقیُ باقی سدا
ہے توئی یا وارثُ وارث میرا

یا رَشیدُ راہ نیکی کی دکھا
ہر برائی سے قلؔندر کو بچا

یا الہٰی از طفیل مصطفے
معرفت اپنی مجھے تو کر عطا

Abul Faiz Qalandar Ali
ابو الفیض قلندر علی

Download Mp3 Here:Munajaat Asmaul Husna