Ae Jaan e Jahan Arzoo e Roey Tu Daram

Ae Jaan e Jahan Arzoo e Roey Tu Daram
Dar Sar Hawas e Qamat e Dil Joey Tu Daram

اے جانِ جہاں آرزوئے روئے تو دارم
در سر ہوسِ قامتِ دلجوئے تو دارم

اے جان جہاں آپ کے چہرے کی زیارت کا مشتاق ہوں
میری بزم خیال میں آپ کی سروقدی کا نشہ ہر وقت چھایا رہتا ہے

در کعبہ و در صومعہ در دیروخرابات
ہرجا کہ روم دیدہ دل سوئے تو دارم

کعبہ ، کلیسا ، گرجا اور شراب خانے میں ہر جگہ
جہاں بھی جاتا ہوں میرا دل آپ کی محبت میں سرشار رہتا ہے

حاجی بہ طوافِ حرم کعبہ رود لیک
من کعبہ مقصود سِر کوئے تو دارم

حاجی حرم کعبہ کے طواف کے لئے جاتا ہے لیکن
میرا قبلہ و کعبہ آپ کا سنگ آستاں ہے

اندرصف طاعت چُوں بہ مسجد بہ نشستم
دل مائل محراب دو ابروئے تو دارم

جب بھی میں عبادت کی نیت سے مسجد میں بیٹھتا ہوں
میرے دل کا رجوع آپ کے دونوں ابرووں کی طرف ہوتا ہے

ہرجا کہ رود قطبِ دیں آید بہرِتو باز
چوں رشتہ دل بستہ بہر موئے تو دارم

جہاں کہیں بھی قطب دیں جاتا ہے آپ ہی کے لئے جاتا ہے
کیونکہ اُس کا دل تو آپ کی زلف سیاہ کا اسیر ہے

Hazrat Qutbuddin Bakhtiar Kaki
ؒحضرت قطب الدین بختیار کاکی

 

Tanam Farsooda Jaan Para Ze Hijraan Ya Rasool Allah

Tanam Farsooda Jaan Para Ze Hijraan Ya Rasool Allah

تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ، یا رسول اللہ

Tanam Farsooda jaa para Ze Hijra, Ya Rasulallah
Dillam Paz Murda Aawara Ze Isyaa, Ya Rasulallah!

یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے
گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے

My body is dissolving in your separation And my soul is breaking into pieces, Ya Rasulallah!
Due to my sins, My heart is weak and becoming enticed, Ya Rasulallah!

چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائے نقشِ نعلینت ، کنم جاں ، یا رسول اللہ

Choon Soo’e Mun Guzar Aari Manne Miskeen Zanaa Daari
Fida-E-Naqsh-E-Nalainat Kunam Ja, Ya Rasulallah!

یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں
آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں

When you pass by me Then even in my immense poverty, ecstatically,
I must sacrifice my soul on the impression of your Blessed Sandal, Ya Rasulallah!

ز جام حب تو مستم ، با زنجیر تو دل بستم
ںا می گویم کہ من بستم سخن دا، یا رسول اللہ

Ze Jaame Hubb To Mustam Ba Zanjeere To Dil Bustam
Nu’mi Goyam Ke Mun Hustum Sukhun Daan, Ya Rasulallah!

آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں،آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں
پھربھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سےشناسا ہوں ، یا رسول اللہ

I am drowned in the taste of your love And the chain of your love binds my heart.
Yet I don’t say that I know this language (of love), Ya Rasulallah!

زِ کردہ خویش حیرانم ، سیہ شُد روزِ عصیانم
پشیمانم، پشیمانم ، پشیماں ، یا رسول اللہ

Ze Kharda Khaish Hairaanam Siyaa Shud Roze Isyaanam
Pashemaanam, Pashemaanam, Pashemaanam, Ya Rasulallah!

میں اپنے کیے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں
پشیمانی اور شرمند گی سے پانی پانی ہو رہا ہوں ،یا رسول اللہ

I am worried due to my misdeeds; And I feel that my sins have blackened my heart, Ya Rasulallah!
I am in distress! I am in distress! I am in distress! Ya Rasulallah!

چوں بازوئے شفاعت را ، کُشائی بر گنہ گاراں
مکُن محروم جامی را ، درا آں ، یا رسول اللہ

Choon Baazoo’e Shafaa’at Raa Khushaa’I Bar Gunaagara
Makun Mahruume Jaami Raa Daraa Aan, Ya Rasulallah!

روز محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لیے کھولیں گیں
یا رسول اللہ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھیے گا

Ya Rasulallah! When you raise your hands to intercede for the sinners,
Then do not deprive Jami of your exalted intercession.

http://tune.pk/video/3044691/tanam-farsooda-jaan-para-zulfiqar-ali#

مولانا عبدالرحمن جامی

Molana Abdur Rehman Jami

Man Shab e Siddique Ra Deedum b’Khawab

خلاصہ مطالبِ مثنوی
در تفسیر سورہَ اخلاص

قل ھواللہ احد
کہہ دو وہ اللہ ایک ہے

Man Shab e Siddque Ra Deedum b’Khawab
Gul Z Khak e Raah e Oo Cheedam b’Khawab

من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاک راہِ اُو چیدم بخواب

ایک رات میں نے خواب میں حضرت ابو بکر صدیق کو دیکھا
آپ کے راستے کی خاک سے میں نے خواب میں پھول چنے

آں امن الناس بر مولائے ما
آں کلیم اوّل سینائے ما

آپ سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہمارے مولا ہیں
آپ ہمارے طور(نبی کریم ؐ ) کے پہلے کلیم ہیں

ہمت اُو کشت ملت را چو ابر
ثانی اسلام و غار و بدر و قبر

آپ کی ہمت امت کی کھیتی کے لئے بادل کی مانند ہے
آپ ثانی اسلام و غار وبدر و قبر ہیں

گفتمش اے خاصہَ خاصانِ عشق
عشقِ تو سرِ مطلعِ دیوانِ عشق

میں نے آپ سے کہا کہ آپ عشق کے خاصوں سے بھی خاص ہیں
آپ کا عشق دیوان عشق کا پہلا شعر ہے

پختہ از دستت اساسِ کار ما
چارہ ے فرما پے آزارِ ما

آپ کے ہاتھوں سے ہمارے کاموں کی بنیاد مضبوط ہوئی
آپ ہمارے دکھ درد کا علاج فرمائیں

گفت تاکہ ہوس گردی اسیر
آب و تاب از سورہ اخلاص گیر

حضرت صدیق نے فرمایا کہ کب تک اُمت حرص و ہوس میں مبتلا رہے گی
اس اُمت کو سورہ اخلاس سے چمک دمک حاصل کرنی چاہیے

ایں کہ در صد سینہ پیچد یک نفس
سرے از اسرارِ توحید است و بس

یہ جو ہزاروں سینوں میں ایک ہی طرح سے سانس چل رہا ہے
یہ توحید کے رازوں میں سے ایک راز ہے

رنگ اُو برکن مثالِ او شوی
در جہاں عکس جمال او شوی

اس جہاں میں تو اس کے رنگ کو اختیار کر کے اس کی مانند ہو جا
اس جہاں میں اُس کے جمال کا عکس بن جا

آنکہ نامِ تو مسلماں کردہ است
اذ دوئی سوے یکی آورہ است

وہ ذات کہ جس نے تیرا نام مسلماں رکھا ہے
وہ تجھے دوئی سے وحدت کی طرف لائی ہے

خویشتن را ترک و افغان خواندہ ای
وائے بر تو آنچہ بودی ماندہ ای

تو خود کو ترک اور افغان کہلانا پسند کرتا ہے
افسوس تجھ پر کہ تو جو تھا اب نہیں ہے

وارہاں نامیدہ را از نامہا
ساز با خم در گذر از جامہا

تو اس قوم کو اتنے سارے ناموں سے نجات دلا
تو صراحی سے موافقت کر اور پیالوں سے جان چھڑا

اے کہ تو رسواے نام افتادہ عی
از درخت خویش خام افتادہ ای

اے کہ تو (قوم) اتنے سارے ناموں کی وجہ سے رسوا ہو گئی ہے
اور اپنے درخت سے کچے پھل کی طرح گر گئی ہے

با یکی ساز از دوئی بردار رخت
وحدت خود را مگرداں لخت لخت

تو توحید سے تعلق جوڑ اور دوئی کو رخصت کر دے
اپنی وحدت کو اس طریقے پر ٹکڑے ٹکڑے نہ کر

اے پرستار یکی گر تو توئی
تا کجا باشی سبق خوانِ دوئی

اے ایک کے پوچنے والے اگر تو تو ہے
تو کب تک دوئی کا سبق پڑھتا رہے گا

تو درِ خود را بخود پوشیدہ ای
در دل آور آنچہ بر لب چیدہ ای

تو نے اپنا دروازہ اپنے اوپر خود بند کر لیا ہے
تو جو زبان سے کہتا ہے دل سے بھی ادا کر

صد ملل از ملتے انگیختی
برحصارِ خود شبخوں ریختی

تو نے ایک ملت کی سو ملتیں بنا لیں ہیں
اپنے قلعے پر خود ہی شب خوں مارا ہے

یک شو و توحید را مشہود کن
غائبش را از عمل موجود کن

ایک ہو جا اور توحید کا اظہار کر دے
اپنے عمل سے غائب کو موجود کر دے

لذتِ ایماں فزاید در عمل
مردہ آں ایماں کہ ناید در عمل

ایمان کی لذت عمل کرنے سے بڑھتی ہے
مردہ ہے ایمان جس میں عمل نہ ہو

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Naseema Janib e Bat-HA Guzar Kun

Naseema Janib e Bat-hA Guzar Kun
Ze Ehwalam Muhammad Ra Khabar Kun

نسیما ! جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد را خبر کن

اے صبا بطحا کی طرف چل
میرے احوال حضورؐ کو سنا

O morning breeze! set out towards Bat’haa,”
Inform Muhammad of my plight

ببریں جانِ مشتاقم بہ آں جا
فدائے روضہ خیر البشر کُن

میری بے تاب جان کو اُس جگہ لے جا
تا کہ یہ حضور کے روضہ اقدس پر نثار ہو جائے

Take me to that place so that
I sacrifice my life at the shrine of Muhammad (best of mankind)

توئی سلطان عالم یا محمد
زروئے لطف سوئے من نظر کن

یا رسول اللہ آپ ہی دونوں جہان کے سلطان ہیں
آپ نگاہ کرم مجھ پر ڈالیں

Muhammad ; You, who are the Emperor of both worlds
Cast your graceful, blessed glance towards me

مشرف گرچہ شد جامی زلطفش
خدایا ! ایں کرم با ر دگر کن

جامی اگرچہ آپؐ کے لطف سے محظوظ ہو گیا
یا اللہ یہ کرم بار بار ہو

Although you have showered your grace on Jami
In God’s name, grant him this favor once again.

مولانا عبدالرحمن جامی
Molana Abdur Rehman Jami

Bahraist Bahr e Ishq Ke Bahaichash Kinara Naist

Bahraist Bahr e Ishq Ke Bahaichash Kinara Naist

‫بحریست بحرِ عشق کہ بہیچش کنارہ نیست
آن جا جُز اینکہ جاں بسپارند چارہ نیست

عشق کا سمندر ایسا سمندر ہے جِس کا کوئی کنارہ نہیں،وہاں بجُز جان دینے کے اور کوئی چارہ نہیں۔۔

آں دم کہ دِل بہ عشق دہی خوش دمے بود
در کارِ خیر حاجتِ ہیچ اِستخارہ نیست

جِس وقت بھی دِل کو عشق میں لگا دو وہی وقت اچھا ہو گا،کیونکہ نیک کام کرنے کے لئے کِسی اِستخارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔

مارا بمنعِ عقلِ مترسان و مے بیار
کآں شحنہ در وِلایتِ ما ہیچ کارہ نیست

عقل کی ممانعت کی وجہ سے ہمیں عشق سے نہ ڈرا اور شراب لا،اِس لئے کہ عقل ایسا سپاہی ہے جِس کا مُلکِ عشق میں کوئی کام نہیں۔۔

از چشمِ خود بپُرس کہ مارا کہ میکُشد
جاناں گناہِ طالع و جرمِ ستارہ نیست

اپنی آنکھ سے پوچھ کہ ہمیں کون قتل کر رہا ہے؟ میری جان یہ نصیبہ کی خطا یا ستارے کا جرم نہیں بلکہ تیری آنکھ کا ہے۔۔

رُویش بچشمِ پاک تواں دید چوں ہِلال
ہر دیدہ جائے جلوہء آں ماہ پارہ نیست

اِس کا چہرہ ہلال کی طرح پاک نگاہ سے دیکھا جا سکتا ہے،کیونکہ ہر آنکھ اُس ماہ پارے کے جلوے کی جگہ نہیں ہے۔۔

فُرصت شُمر طریقہء رِندی کہ ایں نِشاں
چوں راہِ گنج ہر ہمہ کس آشکارہ نیست

رِندی کے راستے کو غنیمت سمجھ اِس لئے کہ یہ نِشان خزانے کے راستے کی مانند ہر شخص پر آشکارہ نہیں۔۔

نگرفت در تو گِریہء حافظ بہیچ روی
حیرانِ آں دِلم کہ کم از سنگِ خارہ نیست

حافظ کی گریہ و زاری نے کِسی طرح بھی تجھ پر اثر نہ کیا،میں تو تیرے دِل پر حیران ہوں جو کِسی طرح بھی سنگِ خارہ سے کم نہیں ہے۔۔

Thanks to Raja Nauman for sharing this.

Hafiz Shirazi
دیوان حافظ شیرازی

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

Bachashme Man Jahan Juz Rahguzar Naist

بچشم من جہاں جز رہگزر نیست
ہزاراں رہرو و یک ہم سفر نیست
گذشتم از ہجوم خویش و پیوند
کہ از خویشاں کسے بیگانہ تر نیست

میری نظر میں دنیا ایک راستہ کے سوا کچھ نہیں
یہاں ہزاروں مسافر ہیں مگر ایک بھی ہم سفر نہیں ہے
میں عزیزوں اور دوستوں کے ہجوم سے گزر گیا
کیونکہ اپنوں سے بڑھ کر کوئی بیگانہ نہیں ہے

By my eyes this world is just a passage
There are thousands of passengers but no one is companion traveler
I have passed from the crowd of loved ones and relatives
Because there is no one more stranger than our own loved ones

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Har Ke PaimaaN Ba HoWal MoJod Bast

Har Ke PaimaaN Ba HoWal MoJod Bast
Gardanash Az Band e Har Mabood Rast

ہر کہ پیماں با ھوالموجود بست
گردنش از بند ہر معبود رَست

جس کسی نے بھی رب حضور کو ہر جگہ موجود جاننے ماننے کا عہد کیا
اُس کی گردن ہر باطل معبود کی زنجیر سے نجات پا گئی

مومن از عشق است و عشق از مومن است
عشق را ناممکن ما ممکن است

مومن عشق سے بنتا ہے اور عشق مومن کی بدولت ہے
عشق کی وجہ سے ہمارے لئے ناممکن بھی ممکن ہو گیا

عقل سفاک است و اُو سفاک تر
پاک تر ، چالاک تر ، بیباک تر

عقل سفاک ہے اور عشق اس سے زیادہ سفاک ہے
کیونکہ عشق پاک ہے ،چالاک ہے اور نڈر ہے

عقل درپیچاک اسباب و علل
عشق چوگاں باز میدان عمل

عقل دلائل و اسباب میں پھنسی رہتی ہے
جبکہ عشق میدان عمل میں چوگان(پولو) کا کھیل کھیلتا ہے

عشق صید از زور بازو افگند
عقل مکار است و دامے می زند

عشق اپنے زور بازو سے شکار کھیلتا ہے
جبکہ عقل عیاری سے شکار کرتی ہے

عقل را سرمایہ از بیم و شک است
عشق را عزم و یقیں لاینفک است

عقل کی ساری جمع پونجی وہم و شک ہے
عشق کے ارادے اٹل اور وہم و شک سے پاک ہوتے ہیں

آں کند تعمیر تا ویراں کند
ایں کند ویراں کہ آباداں کند

عقل تعمیر کرتی ہے تا کہ وہران کر دے
عشق پہلے ویران کرتا ہے تا کہ آباد ہو

عقل چوں باد است ارزاں در جہاں
عشق کمیاب و بہائے او گراں

عقل ہوا کی طرح اس جہان میں سستی چیز ہے
عشق ایک بیش قیمت چیز ہے جو نایاب ہے

عقل محکم از اساس چون و چند
عشق عریاں از لباسِ چون و چند

عقل پختہ ہوتی ہے حجت اور منطق سے
جبکہ عشق اس لباس کو اتار پھنیکتا ہے

عقل می گوید کہ   خودراپیش کن
عشق گوید   امتحان خویش کن

عقل کہتی ہے کہ خود کو پیش کر ہتھیار ڈال دے
عشق کہتا ہے کہ اپنی خودی کا امتحان کر

عقل با غیر آشنا از اکتساب
عشق از فضل است و باخود درحساب

عقل اپنا حساب کروانے کے لئے غیروں سے آشنائی اختیار کرتی ہے
جبکہ عشق خدا کے فضل سے اپنا حساب خود کر لیتا ہے

عقل گوید شاد شو آباد شو
عشق گوید بندہ شو آزاد شو

عقل کہتی ہے کہ خوش رہو آباد رہو
عشق کہتا ہے کہ رب کا بندہ بن جا اور آزاد ہو جا

عشق را آرام جاں حریت است
ناقہ اش را سارباں حریت است

حریت عشق کی جان کی راحت ہے
اس کی سواری(اُونٹنی) کی سارباں بھی حریت ہے

آں شنیدستی کہ ہنگام نبرد
عشق با عقل ہوس پرور چہ کرد

کیا تو نے کربلا کے واقعہ کے بارے میں سنا ہے
عشق نے ہوس پرور عقل کے ساتھ کیا کیا

آں امام عاشقاں پور بتول
سروِ آزادے ز بستان رسولؐ

حسین جو کہ عشاق کے امام اور حضرت بی بی فاطمہ کے بیٹے ہیں
گلشن رسالت کے آزاد سرو (جو باطل کے آگے نہیں جھکا) ہیں

اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

اللہ اللہ والد بسم اللہ کی ب کی مثل ہیں
اور بیٹا حسین ذبح عظیم کی صورت میں آیا

بہر آں شہزادہ خیرالملل
دوش حتم المرسلیں نعم الجمل

تمام اُمتوں سے بہترین اُمت کے شہزادے کے لئے
خاتم الانبیا کے کندھے بہترین اُونٹ کی مانند تھے
اشارہ ہے حدیث شریف کی طرف کیا ہی اچھی سواری اور کیا ہی اچھا سوار

سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی ایں مصرع از مضمون او

عشق کو غیرت اور سرخی آپ کے خون سے ملی
اس مصرع کی شوخی آپ کے مضمون کی وجہ سے ہی ہے

درمیان اُمت آں کیواں جناب
ہمچو حرف قل ھواللہ  در کتاب

اس بہترین اُمت کے درمیان آپ کا مقام
ایسے ہی ہے جیسے کہ قرآن میں قل ھواللہ

موسی و فرعون و شبیر و یزید
ایں دو قوت از حیات آید پدید

موسی اور فرعون ، شبیر اور یزید
یہ دونوں  حق و باطل کی قوتیں زندگی کے ساتھ ساتھ ہیں

زندہ حق از قوتِ شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

حق قوت شبیری کی وجہ سے زندہ ہے
باطل نے آخر کار حسرت کی موت مرنا ہے

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت
حریت را زہر اندر کام ریخت

خلافت نے جب قرآن سے تعلق توڑ دیا
تو حریت آزادی کے حلق میں زہر اُنڈیل دیا

خاست آں سر جلوہ خیرالامم
چوں سحاب قبلہ باراں در قدم

اُس خیرالامم کا جلوہ ایسے اُبھرا
جیسے کعبہ سے بارش سے بھرا ہوا بادل اُٹھتا ہے

بر زمین کربلا بارید و رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت

وہ کربلا کی زمین پر برسا اور چلا گیا
ویرانی میں لالہ کے پھول اُگائے اور چلا گیا

تا قیامت قطعِ استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد

قیامت تک کے لئے شخصی حکومت کا خاتمہ کر دیا
اُن کے خون کی موجوں نے ایک نیا باغ تعمیرکردیا

ہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنائے لا الہ گردیدہ است

حق کے لئے انہوں نے اپنا خون خاک میں ملایا
اس طرح سے انہوں نے لا الہ کی بنیاد ڈالی

مدعائش سلطنت  بودے اگر
خود نکردے با چنیں سامان سفر

اُن کا مقصد اگر سلطنت ہوتی
تو اتنے  کم سامان سفر کے ساتھ نہ جاتے

دشمناں چوں ریگ صحرا لا تعد
دوستانِ او بہ یزداں ہم عدد

اُن کے دشمنوں کی تعداد صحرا کے ذروں کے مانند ان گنت تھی
جب کہ دوستوں کی تعداد یزداں اللہ کا ایک نام کے عدد کے برابر بہتر تھی
10+7+4+1+50=72

سر ابراہیم و اسماعیل بود
یعنی آں اجمال را تفصیل بود

آپ اصل میں حضرت ابراہیم و اسمیعل کی قربانی کا راز تھے
یعنی وہ اجمال تھے اور آپ ان کی تفصیل و تفسیر ہوئے

عزم او چوں کوہساراں استوار
پایدار و تند سیر و کامگار

آپ کا عزم پہاڑ کی مانند اٹل تھا
مضبوط و تیز اور مقصد کو حاصل کرنے والا تھا

تیغ بہر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس

آپ کی تلوار دین کے عزت و ناموس کے لئے تھی
آپ کی نیت دین اسلام کی حفاظت تھی

ما سواللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

مسلمان خدا کے سوا کسی باطل قوت کا غلام نہیں بنتا
وہ فرعونی قوتوں کے آگے سر نگوں نہیں ہوتا

خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملتِ خوابیدہ را بیدار کرد

آپ کے خون نے کئی رازوں کی تفسیریں بیاں کیں
اور سوئی ہوئی اُمت بیدار کو عملا بیدار کر دیا

تیغ لا چوں میاں بیرون کشید
از رگِ ارباب باطل خوں کشید

جب آپ نے لا کی تلوار کو باہر نکالا
تو باطل قوتوں کی رگوں سے خون کھینچ لیا

نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطرِ عنوان نجات ما نوشت

ہر قطرے سے صحرا پر الا للہ کا نقش لکھ دیا
اور اُمت کی نجات کا مضمون لکھ دیا

رمز قرآں از حسین آموختیم
ز آتشِ اُو شعلہ ہا اندوختیم

قرآن کی رمزیں ہم نے حسین سے سیکھی ہیں
اور آپ کی آگ سے ہم نے کئی شعلے (تعلیم )حاصل کئے ہیں

شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوتِ غرناطہ ہم ازیاد رفت

شام و بغداد کی شوکتیں چلی گئیں
غرناطہ کی دھوم دھام بھی ہماری یاد سے محو ہو گئی

تار ما از خمہ ہائش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز

لیکن ہمارا ساز ابھی بھی آپ کی بدولت بج رہا ہے
آپ کی تکبیر کی گونج ہمارے ایمان کو لمحہ بہ لمحہ تازہ کر رہی ہے

اے صبا اے پیک دور افتادگاں
اشک ما بر خاک پاک او رسان

اے ہوا اے دور رہنے والوں کی پیغام رساں
ہمارے آنسو(سلام و عقیدت) آپ کے مزار مبارک کی خاک پر پہنچا دے

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Sarood Rafta Baaz Ayad ke Nayad

Sarood Rafta Baaz Ayad ke Nayad

سرود رفتہ باز آید کہ ناید؟
نسیمے از حجاز آید کہ ناید؟
سر آمد روز گار ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید؟

خدا جانے کہ وہ پہلے والا دور آئے گا یا نہیں
حجاز کی طرف سے ٹھنڈی ہوا چلے گی یا نہیں

یعنی مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پایئں گے کہ نہیں حضور کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر

اس فقیر (اقبال) کا وقت آخر آ گیا ہے
دیکھتے ہیں کہ میری طرح کا دانائے راز آتا ہے کہ نہیں

The golden era of islam will come back or not ?
Sweet wind will blow from Madina again or not ?

The last moments of this sufi dervish has arrived
Not sure another opener of the secrets will come or not?

 Allama Iqbal
علامہ اقبال

Jahan Az Ishq o Ishq Az Seena Tust

Jahan Az Ishq o Ishq Az Seena Tust

جہان از عشق و عشق از سینہ تست
سرورش از مے دیرینہ تست
جز ایں چیزے نمی دانم ز جبریل
کہ او یک جوہر از آینہ تست

یہ دنیا عشق کی بدولت ہے اور عشق آپؐ کے سینہ(دل) مبارک سے ہے
عشق کا سرور آپؐ کی پرانی شراب (توحید و معرفت)کے طفیل ہے
میں جبریل کے بارے میں فقط اتنا جانتا ہوں کہ وہ
آپؐ کہ آئینہ کی ایک چمک ہے
یعنی جبریل بھی حضورؐ کے نور کے طفیل معرض وجود میں آئے

Allama Iqbal
علامہ ا قبال

Na Az Saaqi Na Az Paimana Guftam Hadees Ishq Be Bakana Guftam

Na Az Saaqi Na Az Paimana Guftam Hadees Ishq Be Bakana Guftam

نہ از ساقی نہ از پیمانہ گفتم
حدیث عشق بے باکانہ گفتم

میں نے نہ تو ساقی اور نہ ہی پیمانے کی بات کی جیسے کے عام شعرا کرتے ہیں
بلکہ عشق کی باتیں کھل کھلا کہ نڈر ہو کر کی ہیں

شنیدم آنچہ از پاکانِ اُمت
ترا با شوخی رندانہ گفتم

جو کچھ کہ میں نے اس اُمت کے پاک لوگوں سے سنا
تیرے لئے رندانہ شوخی لئے شاعری میں بیان کر دیا

Allama Iqbal
علامہ ا قبال