Kafir e Ishq Houn Main Banda e Islam Nahin

Kafir e Ishq Houn Main Banda e Islam Nahin
Butt Parasti Ke Siwa Aur Mujhay Kaam Nahin

Ishq Main Poojta Houn Qibla o Kaaba Apna
Ek Pal Dil Ko Mere Es Ke Bin Aaraam Nahin

کافر عشق ہوں میں بندہ اسلام نہیں
بت پرستی کےسوا اور مجھے کام نہیں

عشق میں پوجتا ہوں قبلہ و کعبہ اپنا
اک پل دل کو میرے اس کے بنا آرام نہیں

ڈھونڈتا ہے تو کدھر یار کو میرے ایماہ
منزلش در دلِ ما ہست لبِ بام نہیں

بوالہوس عشق کو تو خانہ خالہ مت بوجھ
اُسکا آغاز تو آسان ہے پر انجام نہیں

پھانسنے کو دلِ عشاق کے اُلفت بس ہے
گہیر لینے کو یہ تسخیر کم از دام نہیں

کام ہو جائے تمام اُسکا پڑی جس پہ نگاہ
کشتہ چشم کو پھر حاجتِ صمصام نہیں

ابر ہے جام ہے مینا ہے می گلگون ہے
ہے سب اسبابِ طرب ساقی گلفام نہیں

ہائے رے ہائے چلی جاتی ہے یوں فصل بہار
کیا کروں بس نہیں اپنا وہ صنم رام نہیں

جان چلی جاتی ہے چلی دیکھ کے یہ موسم گُل
ہجر و فرقت کا میری جان پہ ہنگام نہیں

دل کے لینے ہی تلک مہر کی تہی ہم پہ نگاہ
پھر جو دیکھا تو بجز غصہ و دشنام نہیں

رات دن غم سے ترے ہجر کے لڑتا ہے نیاز
یہ دل آزاری میری جان بھلا کام نہیں

Hazrat Shah Niaz
حضرت شاہ نیاز 

Thanks to Mohammed Tausif Iftekhari for Sharing

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha

Yaar Ko Hum Ne Ja Baja Daikha
Kahin Zaahir Kahin Chhupa Daikha

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا
کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

کہیں ممکن ہوا کہیں واجب
کہیں فانی کہیں بقا دیکھا

کہیں وہ بادشاہِ تخت نشیں
کہیں کاسا لیئے گدا دیکھا

کر کے دعویٰ اناالحق کا
برسر دار وہ کھنچا دیکھا

کہیں وہ در لباسِ معشوقہ
بر سر ناز و ادا دیکھا

صورت گل میں کھلکھلا کہ ہنسا
شکلِ بلبل میں چہچہا دیکھا

کہیں عابد بنا کہیں زاہد
کہیں رندوں کا پیشوا دیکھا

کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریان و دل جلا دیکھا

Hazrat Shah Niaz
حضرت شاہ نیاز 

Khusboo Hai Do Aalam Main Teri Ae Gul e Cheeda

Khusboo Hai Do Aalam Main Teri Ae Gul e Cheeda
Kis Moun Se Bayan houn Tere Ausaaf Hameeda

خوشبو ہے دو عالم میں تیری اے گُل چیدہ
کس منہ سے بیاں ہوں تیرے اوصاف حمیدہ

تُجھ سا کوئی آیا ہے نہ آئے گا جہاں میں
دیتا ہے گواہی یہی عالم کا جریدہ

مضمر تیری تقلید میں عالم کی بھلائی
میرا یہی ایماں ہے یہی میرا عقیدہ

اے رحمت عالم تیری یادوں کی بدولت
کس درجہ سکوں میں ہے میرا قلب تپیدہ

خیرات مجھے اپنی محبت کی عطا کر
آیا ہوں بڑی دور سے با دامان دریدہ

یوں دور ہوں تائب میں حریم نبویؐ سے
صحرا میں ہو جس طرح کوئی شاخ بریدہ

حفیظ تائب
Hafeez Taib

Thanks to Mustafa Khan for Sharing the Naat

Na Az Saaqi Na Az Paimana Guftam Hadees Ishq Be Bakana Guftam

Na Az Saaqi Na Az Paimana Guftam Hadees Ishq Be Bakana Guftam

نہ از ساقی نہ از پیمانہ گفتم
حدیث عشق بے باکانہ گفتم

میں نے نہ تو ساقی اور نہ ہی پیمانے کی بات کی جیسے کے عام شعرا کرتے ہیں
بلکہ عشق کی باتیں کھل کھلا کہ نڈر ہو کر کی ہیں

شنیدم آنچہ از پاکانِ اُمت
ترا با شوخی رندانہ گفتم

جو کچھ کہ میں نے اس اُمت کے پاک لوگوں سے سنا
تیرے لئے رندانہ شوخی لئے شاعری میں بیان کر دیا

Allama Iqbal
علامہ ا قبال

Suno Do Hi LafZon Mein Muj Se Yeah Raaz

نظم
شریعت اور طریقت کیا ہے؟

Suno Do Hi LafZon Mein Muj Se Yeah Raaz

سنو دو ہی لفظوں میں مجھ سے یہ راز
شریعت وضو ہے، طریقت نماز

طریقت،شریعت کی تعمیل ہے
طریقت عبادت کی تکمیل ہے

شریعت بحکم و طریقت بدل
کہ معنی سے کر دے تجھے متصل

شریعت میں آثار راہ خدا
طریقت میں رفتار راہ خدا

طریقت،شریعت سے ہے صف بہ صف
وہ ہے موج دریا یہ دریا میں کف

شریعت سے ہے ظُلمت کفر دور
طریقت میں فطرت کا ظاہر ہے نور

شریعت کرے گی بصیرت کو صاف
طریقت میں حسب مذاق انکشاف

شریعت تو اک عام قانون ہے
طریقت کا اک خاص مضمون ہے

شریعت میں لازم اطاعت ہوئی
طریقت میں شرط ارادت ہوئی

شریعت تو ہے دیدۂ نور بیں
طریقت بنی روح کی دور پیں

شریعت ہے اک شمع محفل فروز
طریقت ہے اک شعلہ وہم سوز

شریعت ہے مِہرسپہر ہدیٰ
طریقت کا رُخ سوئے حُبّ خدا

شریعت ہے جان اور طریقت نشاط
شریعت ہے منزل طریقت رباط

شریعت میں ہے ناروجنت کا رنگ
طریقت میں ہے وصل و فرقت کا رنگ

شریعت کتابوں کی ہے متحمل
طریقت میں ہے درس الواحِ دل

شریعت طریقت میں تو کیوں الجھ
وہ قرآن ہے اور یہ اس کی سمجھ

سخن سنجیاں گو ہوں میری درست
مگر قول سعدی نہایت ہے چست

طریقت بجُزخدمتِ خلق نیست
بہ تسبیح وسجادہ و دُلق نیست

محال است سعدی کہ راہِ صفا
تواں رفت جز بر پئےمصطفےٰ

نہ ہو اہل اس کا تو کیا اس کی قدر
خداہی کی مرضی سے ہے شرح صدر

شریعت میں دین اور ایمان ہے
طریقت میں تسکیں اور ایقان ہے

عبادت سے عزت شریعت میں ہے
عبادت کی لذت طریقت میں ہے

شریعت میں تائید ضبطِ نفوس
طریقت میں ذوقِ با خلوص

طریقت قدم ہے شریعت ہے راہ
شریعت زباں ہے طریقت نگاہ

شریعت درِ محفل مصطفےٰ
طریقت عروج دلِ مصطفےٰ

شریعت میں ہے قیل و قال حبیب
طریقت میں محوِ جمال حبیب

شریعت میں ارشاد عہد الست
طریقت میں ہے یاد عہد الست

شریعت شکر ہے، طریقت زباں
کہ معنی کی لذت چکھے تیری جاں

اکبر الہٰ آبادی
Akbar Allahabadi

Kuch Nahi Mangta Shahon Se Ye Sheda Tera

Kuch Nahi Mangta Shahon Se Ye Sheda Tera

کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
اس کی دولت ہے قفط نقشِ کفِ پا تیرا

پورے قد سے جو کھڑا ہوں تو یہ تیرا ہے کرم
مجھ کو چھکنے نہیں دیتا ہے سہارا تیرا

دستگیری میری تنہائی کی تو نے ہی تو کی
میں تو مر جاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا

لوگ کہتے ہیں کہ سایہ ترے پیکر کا نہ تھا
میں تو کہتا ہوں جہاں بھر پہ ہے سایہ تیرا

ایک بار اور بھی طیبہ سے فلسطین میں آ
راستہ دیکھتی ہے مسجد اقصیٰ تیرا

اب بھی ظلمات فروشوں کو گلہ ہے تجھ سے
رات باقی تھی کہ سورج نکل آیا تیرا

مشرق و مغرب میں بکھرے ہوئے گلزاروں کو
نکہتیں بانٹتا ہے آج بھی صحرا تیرا

تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پہ جب لوٹتی ہیں
نور ہو جاتا ھے کچھ اور ہویدا تیرا

کچھ نہیں سوجھتا جب پیاس کی شدت سے مجھے
چھلک اٹھتا ھے میری روح میں مینا تیرا

تو بشر بھی ھے مگر فخرِ بشر بھی تو ھے
مجھ کو تو یاد ھے بس اتنا سراپا تیرا

میں تجھے عالمِ اشیاء میں بھی پا لیتا ہوں
لوگ کہتے ہیں کہ ھے عالمِ بالا تیرا

میری آنکھوں سے جو ڈھونڈیں تجھے ہر سو دیکھیں
صرف خلوت میں جو کرتے ہیں نظارا تیرا

وہ اندھیروں سے بھی درّانہ گزر جاتے ہیں
جن کے ماتھے میں چمکتا ھے ستارا تیرا

ندیاں بن کے پہاڑوں میں تو سب گھومتے ہیں
ریگزاروں میں بھی بہتا رہا دریا تیرا

شرق اور غرب میں نکھرے ہوئے گلزاروں کو
نکہتیں بانٹتا ھے آج بھی صحرا تیرا

تجھ سے پہلے کا جو ماضی تھا ہزاروں کا سہی
اب جو تاحشر کا فردا ھے وہ تنہا تیرا

احمد ندیم قاسمی
Ahmed Nadeem Qasmi

Many Thanks to Mustafa Khan for sharing this naat on Facebook.

Saheefa Ghausia (Sharah Nazam o Nasar Urdu) Qaseeda Ghausia

Saheefa Ghausia (Sharah Nazam o Nasar Urdu) Qaseeda Ghausia
صحیفہ غوثیہ (شرح نظم و نژ اُردو)  قصیدہ غوثیہ

جام اوّل

سَقَانِی الحُبُ کاَسَاتِ الوَصَالِ
فَقُلتُ لَخمرَتیِ نَحوِی تَعَالِی

عشق نے بھر کے پلائے مجھ کو جام
وصلِ دلبر سے ہوا میں شاد کام
پھر کہا میں نے شرابِ وصل سے
مُجھ میں مل جا  آ کے اپنی اصل سے

جام دوئم
کیفیتِ وجدانی

سَعتَ و مَشْتَ وَ لَنحْوِیْ فیِْ کئوس
فَھمْتُ لِسُکرِتیِ بیْنَ الْموَالْی

آ گیا وہ خمر طاہر پُر سُرور
بے پناہ تھیں مستیاں جس کے حضور

پی کے اس کو پی سے میں فورا ٌ ملا
اور ہمعصروں کو بھی حصّہ دیا

جام سوئم
وارداتِ معانی

فَقُلتُ لِسَا ئرِالاقْطابِ لُمّوُا
بِحاَلیْ وَادْخُلوُ آنْتْم رِجَالِی

پھر کہا میں نے یہ کلُ اقطَاب کو
حاضروغائب شیوخ و شاب کو

دیکھ لو سب میرے حال و قال کو
اور میری محفل اشغال کو

جام چہارم
در سر شاریٗ ارغوانی

وَھُمو وَاشْرَبُوا آنْتُم جُنُودیِ
فَسَاقیِْ الْقوْمِ بالوَافیْ المَلَا لیِ

قصد سے اپنے پیو بے انتہا
کیونکہ ہو لشکر میرے تم بر ملا

ساقیٗ میخانہ عرفان ہوں
میں ہی ہر طالب کا اطمینان ہوں

جام پنجم
بزم افروزی معانی

شَرْبتُم فضْلتِی مِنْ بَعْدِ سُکْرِی
وَلاَ نَلتم علّوِی وَاتِّصَالیِ

پی چُکا جب میں تو اِک مَستی ہُوئی
پھر شراب معرفت سَستی ہوئی

میرے پس خوردہ کا تھا یہ رنگ ڈھنگ
پی کہ تم بھی ہوگئے شیرو نہنگ

جام ششم
فیض ربّانی

مُقَامُکُمُ الْعلیٰ جَمعاٌ ولَکنْ
مُقامیِ فَوقَکم ْ مَا زَالَ عَالی

ہیں تمہارے وہ مقامات بلند
پا نہیں سکتی جنھیں علمی کمند

پر مرا درجہ بہت محمود ہے
جو تمہاری منزل مقصود ہے

جام ہفتم
قرب ربّانی

اَناَ فِیْ حضرۃِ التقرِیب وَحدیْ
یُصرفنیِ و حسبی دوالجلالی

ہوں یگانہ قرب میں پیش الٰہ
وصل مجھے حاصل ہے شام و پگاہ
ہے بدلتا رہتا میرا حال وقال
ہے مجھے کافی خدائے ذولجلال

جام ہشتم
پرواز لا مکانی

اَنَا البَازی اَشْھبُ کلُّ شیَخ
وَ مَنْ ذَاِ فی الِرجَالِی اُعطَی مشَالی

بارگاہ قدس کا شہباز ہوں
لا مکاں میں برسر پرواز ہوں
کون ہے کس کو ملا ہے یہ مقام
جس نے پایا مجھ سے پایا لاکلام

جام نہم
خلعت لا ثانی

کسَانِی خِلْعَۃً بِطَراز عَزم
وَتوجَنِی بِتیِجَانِ الَکمَالْی

خرقہ پہنایا مجھے تعظیم کا
سر پہ میرے تاج ہے تکریم کا
ہے الو العزمی میری ادنےٰ کنیز
بے نیازی ہے مری عقلی تمیز

جام دہم
اسرار نہانی

کسَانِی خِلْعَۃً بِطَراز عَزم
وَتوجَنِی بِتیِجَانِ الَکمَالْی

ہو گیا میں واقف اسرار حق
عہد ازلی کا ہوا ازبر سبق
آرزوئیں ہو گیئں پوری تمام
میں نے جو مانگا وہ پایا لا کلام

جام یاز دہم
اختیارات حکمرانی

وَوَلَّانِی عَلَ الاقَطَاب جَمْعًا
فحکمِی نَافذٌفِی کل حَالی

ہو گیا اقطاب کا میں حکمران
زیر فرمان ہیں مرےسب بے گمان
حکم جاری ہے مرا سب کے تئیں
ہر زمان و ہر مکان میں بالیقیں

جام دو از دہم
تصرف کن فکانی

وَ لَو القَیتُ سَرِّی  فی بحار
لصار الکل غورا فی الزوالی

میں اگر ڈالوں یہ دریاؤں پہ راز
جس نے مجھ کو کر دیا ہے شاہباز
خشک ہو جائیں وہ سارے سر بسر
اور اک قطرہ نہ پائیں پُر حذر

جام سیز دہم
فخر سّر عرفانی

وَ لَو القَیتُ سَرِّی  فی جبال
لدکت واختضت بین الرمالی

اور گر ڈالوں میں ان اسرار کو
دیکھ کر اک سخت جاں کو ہسار کو
پارہ پارہ ہو کے مٹ جائیں ضرور
بیچ ریگستان کے مانند طور

جام چہار دہم
در جذبہ نورانی

وَ لَو القَیتُ سَرِّی فَوْقَ نَارِِ
لَخَمِدَتْ وَانطَفَتْ مِنْ سرِّ حَا لی

آتش سوزاں پہ ڈالوں گر میں راز
جذب کے شعلے سے ہو وہ جانگداز
نار کیا ہے نور کے پیش نظر
آتش نمرود سے ہو سرد تر

جام پانزدہم
در حیات جاودانی

وَ لَو القَیتُ سَرِّی  فَوقَ میت
لَقَامَ بِقُدْرَۃِالمَوْلیٰ تِعِالیِٰ

گر میں اپنا راز دوں مردے پہ ڈال
زندہ ہو جائے بفضل ذوالجلال
ہے خداوند دو عالم کی پسند
جس کو چاہے بخش دے درجے بلند

جام شانزدہم
عطائے رحمانی

وَمَا مِنْھَا شُھُوْر اَوْ دُھُور
تَمرُ وَ تَنقَضِیْ  اِلاَّ اَتَیٰ لیِ

دَہر میں آتے جو ماہ و سال ہیں
تابع فرماں میرے وہ ہر حال ہیں
سب سے پہلے آتے ہیں وہ میرے پاس
پھر جہاں میں کرتے ہیں اعمال خاص

جام ہفدہم
علم زمانی

وَ تُخبِرُ نیِْ بِماَ یاَتیْ وَ یَجرْیْ
وَتُعْلِمْنیْ فَاقصرُ عن جِدالی

خبر دیتے ہیں مجھے ہر آن کی
عیش کی غم کی شکست و شان کی
یہ نہیں فضل خدا پر کچھ محال
چھوڑ دے اے معترض سب قیل و قال

جام ہژدہم
پیام اعظم شانی

مرُیدیِ ھَمّ وَ طبِ واشطحْ و غَنّی
وَاَفعَلْ ماَ تَشَا فَا لاسمُ عَالی

اے اراتمند ہمت کر عزیز
بے نیازی کو رکھ عقلی تمیز
ہو کے خوش جو چاہے دل سے کر سدا
نام سے میرے تو ہو گا با خدا

جام نوز دہم
غلبہ ایمانی

مرُیدیِ لاَ تَخَفْ اللہُ رَبّیِ
عَطَانیِ رِفعۃٌ نِلتُ المُنالیِ

اے ارادتمند غیروں سے نہ ڈر
آسرا ہے مجھ کو اس کی ذات پر
جس خدا نے بخششیں ہیں عام کیں
اور بے حد نعمتیں انعام کیں

جام بستم
بلندئ مکانی

طُبولیِ فیِ اسماءِ وَ الارضِ دقّتْ
وَشَاوٗسُ ا لسّعادَۃِ قَدْ بَرَالیْ

بج گیا ڈنکا میری تقدیس کا
گڑگیا جھنڈا میری تخصیص کا
کہ گیا ہے مجھ کو یہ روح الامین
تیرے ہیں ارض وسما زیر نگیں

جام بست و یکم
اقتدار شاہجہانی

بِلاَدُ اللہِ ملکی تَختَ حکْمیْ
وَوَقْتی قَبل قَبلیْ قَدْ صفَالی

ہیں خدا کے ملک میرے ہاتھ میں
اور مافیہا و دنیا ساتھ میں
مل گیئں مجھ کو ازل سے خوبیاں
ہیں بلندی پر مری محبوبیاں

جام بست و دوم
وسعت سرِ لا مکانی

نَظَرْتُ الیٰ بَلاَد اللہِ جَمعاً
کخردَلَۃ عَلیٰ حکمِ اتصَّالی

دیکھتا ہوں کل خدا کی کائنات
سامنے میرے ہیں پوری شش جہات
سامنے میرے ہیں ایسے سب جہاں
جس طرح رائی کا دانہ بے گماں

جام بست و سوم
درس قرآنی

دَرَسْتُ العَلمَ حتَّی صرْتُ قطباً
وَ نُلیہ السّعدَ مَنْ مولی المُوالی

درس اور تدریس علم دین نے
معرفت ربّی کے اس آیئن نے
اس قدر درجے کئے مجھ کو عطا
غوث سارے جہاں کا میں ہو گیا

جام بست و چہارم
دعوےٰ لا ثانی

فَمَنْ فیِ اولِیاَ اللہِ مِشلیِْ
وَ مَنْ فَیْ العلم وَ التّصرِیفِ حَالی

کس کو میر ی ہمسری کا ہو خیال
اولیا میں جب نہیں میری مشال
کون ہے جو علم میں تعریف میں
ہو مقابل حال میں تصریف میں

جام بست و پنجم
تعلق دامانی

رِجَالیِْ فیِ ھوَاجِرْ ھمْ صِیامٌ
وَفِی ظُلَمَ اللّیَالِی کاَللُاََلِی

میرے متبعین نیکو کار ہیں
عابدو مرتاض روزے دار ہیں
رات کی تاریکیوں میں ذوق سے
یاد کرتے ہیں خدا کو شوق سے

جام بست و ششم
علّو شاہ جیلانی

وَکلُّ وَلیِّ لَہُ قَدَمٌ وَ اِنِّیْ
عَلیٰ قَدَمِ انَّبِّی بَدْرِ الکَمَالی

منزل قرب و تقرب میں عزیز
ہر ولی کی ہے جدا گانہ تمیز
پر میں سب میں خاص عالی پایہ ہوں
رحمت عالم کے زیر سایہ ہوں

جام بست و ہفتم
ذوق فیض رسانی

مرُیدیِ لاَ تَخفْ وَاشِ فَانِّی
عَزوْمٌ قاَتل عَندَ الِقتَا لی

اے اراتمند میرے ڈر نہ کر
میں چمکتی ہوں تیری سپر
جنگ میں میں قاتل اشرار ہوں
رنگ میں اللہ کی گفتار ہوں

جام بست و ہشتم
اعلام جہانبانی

اَنَا الجِیلّیُ مُحیْ الدّْینِ لَقبیِ
وَ اعْلا میِ عَلیٰ رَاءسِ الجِبَالی

میر امحی الدین جیلانی ہے نام
زندگی ملت کو دینا میرا کام
ہے مری تقدیس نورونارمیں
میرے جھنڈے گڑ گئے کوہسار میں

جام بست ونہم
نسبت خاندانی

اَنَالحَسَنُتِی وَالمخدَعْ مَقَامی
وَاَقْدَامی عَلیٰ عُنُقِ الرِجَالیِ

نسب ہے حسنی مرا مخدع مقام
راز پوشیدہ کا آیا ہوں امام
سب میرے نیچے ہیں اس عرفان میں
ہے قدم میرا ہی اونچا شان میں

جام سی ام
اسم غوث صمدانی

وَ عبْدالقَادِرِالمَشھُورُ اِسْمی
وَجَدّی صَاحِبُ العَینِ الَکمَالی

عبد قادر نام میں مشہور ہوں
سیدوعالی نسب منشور ہوں
جدّ میری ہے بہت عین الکمال
جو ہے محبوب خدائے ذوالجلال

Abul Faiz Qalandar Ali
ابو الفیض قلندر علی

Khalq Ke Sarwar Shafay Mehshar Sallallahu Alaihi Wasallam

Khalq Ke Sarwar Shafay Mehshar Sallallahu Alaihi Wasallam
Mursaly Daawar Khas Payambar Sallallahu Alaihi Wasallam

خلق کے سرور شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم
مرسل داور خاص پیمبر صلی اللہ علیہ وسلم

نورمجسم، نیّر اعظم، سرور عالم، مونسِ آدم
نوح کے ہمدم، خضر کے رہبر، صلی اللہ علیہ وسلم

فخر جہاں ہیں، عرش مکاں ہیں، شاہ شہاں ہیں، سیف زباں ہیں
سب پہ عیاں ہیں آپ کے جوہر، صلی اللہ علیہ وسلم

قبلہء عالم، کعبہ اعظم، سب سے مقدم راز کے محرم
جان مجسم، روح مصور، صلی اللہ علیہ وسلم

دولتِ دنیا خاک برابر، ہاتھ کے خالی دل کے تونگر
مالک کشور تخت نہ افسر، صلی اللہ علیہ وسلم

رہبر موسیٰ، ہادیء عیسٰی ، تارک دنیا، مالک عقبٰی
ہاتھ کا تکیہ، خاک کا بستر، صلی اللہ علیہ وسلم

سروخراماں، چہرہ گلستاں، جبہ تاباں، مہر درخشاں
سنبل پیچاں، زلف معنبر ، صلی اللہ علیہ وسلم

مہر سے مملو ریشہ ریشہ، نعت امؔیر اپنا ہے پیشہ
ورد ہمیشہ رہتا ہے لب پر ، صلی اللہ علیہ وسلم

امیر مینائی
Ameer Meenai

Thanks to Syeda Aasma for sharing this Naat.

Muj Ko Ya Allah Apna Ishq Dai Hai Ibaadat Sirf Teray Wastay

Muj Ko Ya Allah Apna Ishq Dai
Hai Ibaadat Sirf Teray Wastay

مناجات بدرگاہ قَاضی الحاجات بواسطہ اسماالحُسنیٰ

مجھ کو یا اللہ اپنا عشق دے
ہے عبادت صرف تیرے واسطے

مستحق تو ہی عبادت کا ہوا
ہے توئی معبود ساری خلق کا

بخش یا رحمٰنُ میں ہوں خوارتر
یا رَحِیُم مہربانی مجھ پہ کر

خلق ہے یا مَالکُ کہتی تجھے
لے بچا دوزخ سے جنت دے مجھے

مجھ کو یاقدّوسُ کر عیبوں سے پاک
تو مجسم نوُر میں اک مشت خاک

یا سَلام ُدین و ایماں کو میرے
رکھ سلامت اپنے فضل و لطف سے

امن دے یامومنُ  مجھ کو سدا
یامُھیِمن ُہو نگہباں تو میرا

یا عَزیزُ میرے دشمن ہوویں سست
کام یا جَبّارُ میرے کر درست

تو ہے یا مُتکبّرُ سب سے بڑا
مجھ کو مغروروں کی صحبت سے بچا

جز تیرے یاخَالقُ ارض وسما
کس نے سب خلقت کا اندازہ کیا

کن سے یا باَرِیُ تو پیدا کرے
یا مُصوِرُ صورت و فطرت گرے

بخش یا غَفّا رُ عصیاں سر بسر
نفس پر غالب تو یا قَہّارُ کر

بے عوض تو رزق یا وہّاب دے
رزق یا رزّاق دے دو قسم کے

کھول یا فتّاحُ تو روزی کا در
یا عَلِیمُ علم دے کر با خبر

تنگ کر یا قاَبِضُ ہر شے پلید
رزق کر یا بَاسِطُ طیب مزید

پست ہوں یا حَافِضُ دشمن میرے
دے مجھے یاَ رافِعُ رتبے بڑے

یا معزُمجھ کو عزت کر عطا
یا  مُذِلُ مجھ کو ذلت سے بچا

یا سَمیعُ سن میری فریاد کو
یا بَصیرُ دیکھ مجھ ناشاد کو

یا حَاکِمُ حکم پر اپنے چلا
ڈر ہے یا عَادِلُ تیرے انصاف کا

یا ِِلطیفُ مجھ پہ اپنا لطف کر
یا خَبیُر جلد لے میری خبر

یا حَلیمُ بردباری کر عطا
یا عَظیُم ہے توئی سب سے بڑا

یا غَفورُ بخش دے میرے گناہ
یا شَکورُ شکر کر مجھ کو عطا

یا عَلِّیُ رتبہ ہے تیرا بڑا
یا ِکبیرُ تو بڑا سب سے بڑا

یا حَفیِظُ عافتوں سے رکھ نگاہ
یامُقِیتُ تن میں دے قوت کو راہ

یا حَسیِبُ سہل ہو مجھ پر حساب
یا جَلیل تو بڑا عالی جناب

یا  کَریمُ تو سخی محتاج سب
یا رَقیبُ تو نگہباں روزوشب

یا مجیب کر دعا میری قبول
دین و دنیا میں نہ کر مجھ کو ملول

علم کر یا وَاسعُ مجھ پر فراخ
بعد مردن قبر میری ہووے کاخ

یا حکیم تو ہے دانائے عمل
یا وَدُودُ تو محب بے بدل

یا مُجِیدُ ذات میں ہے تو بڑا
قبر سے یا باَعثُ مومن اٹھا

یا شَہیدُ حاضرو آگاہ کل
تو ہی ہے یاحَقُ شہنشاہ کل

یا وَکَیلُ  کار ساز بیکساں
یا قَویُ قوت بے مایئگاں

یا متینُ دین پر رکھ استوار
یا وَلِیُ کر مدد لیل و نہار

یا حَمیُد حمد ہے تیری سدا
تو ہے یا محُصِیُ محیط ما سوا

پہلے بھی یا مبدُ پیدا کیا
یا مُعید ُتو ہی ہے مرجع ہوا

زندہ یا محی ہون جبتک شاد رکھ
جب مروں میں یا ممیت یاد رکھ

تو ہی یا حَیی ُزندہ ہے تا ابد
تو ہی یا قیومُ قائم ہے احد

رکھ غنی مجھ کو سدا یا وَاجدُ
سب بڑائی تجھ کو ہے یا مَاجدُ

ہے تویئ یا دَاحدُ عالی صفات
یا احَدُ مطلق یگانہ پاک ذات

یا صَمد ہے سب کو تیری جستجو
سب تیرے محتاج بے پرواہ ہے تو

نفس پر یا قاَدرُ قادر رہوں
اس طرح یا مقشدر نادر ہوں

یا مُقدمُ ہووے اگلوں میں گزر
یا موخِر پیچھے والوں میں نہ کر

ہے توئی یا اَولُ اول قدیم
پھر توئی یا آخِرُ ہو گا مقیم

سب پہ تو یا ظَاہرُ ظاہر ہوا
تیری صفتوں سے ہر اک ماہر ہوا

وہم سے یا باطن تو پا ک ہے
عقل کو تیرا کہاںادراک ہے

تو ہے یا وَالی ِولی بندگاں
کار سازومالک ہر دو جہاں

تیرا یا متعالِی ہے رتبہ کمال
کس طرح یا بر ہو تیری مشال

میری یا تَوابُ توبہ کر قبول
رحم کر یا مُنعِمُ میں ہوں ملول

یا عَفوُ کر گناہ سے درگزر
یا رَوفُ ہو عنایئت کی نظر

مَالکُ الُملکْ ہے صحیح یہ تیرا نام
دے مجھے اَقْلیِم میں عالی مقام

ذُوالجلال ہے اور والاکرام ہے
دے مجھے جنت کہ تیرا کام ہے

عدل سے یا مُقسِتُ ڈرتا ہوں میں
فضل کی امید بس کر تا ہوں میں

جمع کر یا جَامعُ دل کو میرے
یا غَنیُ کر دے بے پرواہ مجھے

مجھ کو یا مُغنیِ بے پرواہ بنا
ہو نہ کچھ یا مانع نقصاں میرا

جو ضرر یا ضَارْ ہے وہ دور رکھ
نفع سے یا نَافعُ مسرور رکھ

کر دے یا نُورُ منور دل میرا
راہ یا ھَادی مجھے سیدھی دکھا

یا بَدیعُ تو بڑا ہے لا زوال
کر دیا عالم کو پیدا بے مثال

ہے تو یا باَقیُ باقی سدا
ہے توئی یا وارثُ وارث میرا

یا رَشیدُ راہ نیکی کی دکھا
ہر برائی سے قلؔندر کو بچا

یا الہٰی از طفیل مصطفے
معرفت اپنی مجھے تو کر عطا

Abul Faiz Qalandar Ali
ابو الفیض قلندر علی

Download Mp3 Here:Munajaat Asmaul Husna

Loh Bhi Tu Qalam Bhi Tu

Loh Bhi Tu Qalam Bhi Tu Tera Wajood Al-Kitab
لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب

Loh Bhi Tu Qalam Bhi Tu, Tera Wajood Al-Kitab
Gunbad-e-Abgina Rang tere Muheet Mein Habab

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبد آ بگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

You are the Sacred Tablet, You are the Pen and the Book;
This blue‐colored dome is a bubble in the sea that you are.

Alim-e-Aab-o-Khak Mein Tere Zahoor Se Faroug
Zarra’ay Raig Ko Diya Tu Ne Tulu-e-Aftab

عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تو نے طلوع آفتاب

You are the lifeblood of the universe:
You bestowed the illumination of a sun upon the particles of desert dust.

Shoukat-e-Sanjar-o-Saleem Tere Jalal Ki Namood
Faqr-e-Junaid(R.A.)-o-Bayazeed(R.A.), Tera Jamal Be-Naqab

شوکت سنجروسلیم تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و با یزید تیرا جمال بے نقاب

The splendour of Sanjar and Selim: a mere hint of your majesty;
The faqr of Junaid and Bayazid: your beauty unveiled.

Shauq Tera Agar Na Ho Meri Namaz Ka Imam
Mera Qiyam Bhi Hijab, Mera Sajood Bhi Hijab

شوق تیرا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب

If my prayers are not led by my passion for you,
My ovation as well as my prostrations would be nothing but veils upon my soul.

Teri Nigah-e-Naaz Se Dono Murad Pa Gaye
Aqal Ghiyab-o-Justajoo, Ishq Huzoor-o-Iztarab

تیری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب

A meaningful glance from you redeemed both of them:
Reason—the seeker in separation; and Love—the restless one in Presence.

Allama Iqbal
علامہ اقبال

Thanks to Ahmad Tufail for Review and Correction