Saheefa Ghausia (Sharah Nazam o Nasar Urdu) Qaseeda Ghausia
صحیفہ غوثیہ (شرح نظم و نژ اُردو) قصیدہ غوثیہ
“For the Original Arabic and Romanized Qaseeda Ghausia Text, please click here.”
Qaseeda Ghausia Sharah Urdu (Saheefa Ghausia)
حضرت سید ابو الفیض قلندر علی سہروردی کی یہ شاہکار تحریر دراصل قصیدہ غوثیہ کی اردو شرح ہے، جسے صحیفہ غوثیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ تفصیلی شرح ہر طالب کے لیے رہنما ہے
آپ نے ہر اصل شعر کو جو کہ عربی زبان میں ہے اردو کے دو اشعار کی صورت میں بڑی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے۔
(جام اوّل) Jam Awwal
سَقَانِی الحُبُ کاَسَاتِ الوَصَالِ
فَقُلتُ لَخمرَتیِ نَحوِی تَعَالِی
عشق نے بھر کے پلائے مجھ کو جام
وصلِ دلبر سے ہوا میں شاد کام
پھر کہا میں نے شرابِ وصل سے
مُجھ میں مل جا آ کے اپنی اصل سے
(جام دوئم) Jam Dō’em
کیفیتِ وجدانی / Kayfiyat-e Wijdānī
سَعتَ و مَشْتَ وَ لَنحْوِیْ فیِْ کئوس
فَھمْتُ لِسُکرِتیِ بیْنَ الْموَالْی
آ گیا وہ خمر طاہر پُر سُرور
بے پناہ تھیں مستیاں جس کے حضور
پی کے اس کو پی سے میں فورا ٌ ملا
اور ہمعصروں کو بھی حصّہ دیا
(جام سوئم) Jam Su’em
وارداتِ معانی / Wāridāt-e Ma’ānī
فَقُلتُ لِسَا ئرِالاقْطابِ لُمّوُا
بِحاَلیْ وَادْخُلوُ آنْتْم رِجَالِی
پھر کہا میں نے یہ کلُ اقطَاب کو
حاضروغائب شیوخ و شاب کو
دیکھ لو سب میرے حال و قال کو
اور میری محفل اشغال کو
(جام چہارم) Jam Chahārum
در سر شاریٗ ارغوانی / Dar Sar Shārī-e Arghawānī
وَھُمو وَاشْرَبُوا آنْتُم جُنُودیِ
فَسَاقیِْ الْقوْمِ بالوَافیْ المَلَا لیِ
قصد سے اپنے پیو بے انتہا
کیونکہ ہو لشکر میرے تم بر ملا
ساقیٗ میخانہ عرفان ہوں
میں ہی ہر طالب کا اطمینان ہوں
(جام پنجم) Jam Panjum
بزم افروزی معانی / Bazm Afrōzī-e Ma’ānī
شَرْبتُم فضْلتِی مِنْ بَعْدِ سُکْرِی
وَلاَ نَلتم علّوِی وَاتِّصَالیِ
پی چُکا جب میں تو اِک مَستی ہُوئی
پھر شراب معرفت سَستی ہوئی
میرے پس خوردہ کا تھا یہ رنگ ڈھنگ
پی کہ تم بھی ہوگئے شیرو نہنگ
(جام ششم) Jam Shashum
فیض ربّانی / Fayż-e Rabbānī
مُقَامُکُمُ الْعلیٰ جَمعاٌ ولَکنْ
مُقامیِ فَوقَکم ْ مَا زَالَ عَالی
ہیں تمہارے وہ مقامات بلند
پا نہیں سکتی جنھیں علمی کمند
پر مرا درجہ بہت محمود ہے
جو تمہاری منزل مقصود ہے
(جام ہفتم) Jam Haftum
قرب ربّانی / Qurb-e Rabbānī
اَناَ فِیْ حضرۃِ التقرِیب وَحدیْ
یُصرفنیِ و حسبی دوالجلالی
ہوں یگانہ قرب میں پیش الٰہ
وصل مجھے حاصل ہے شام و پگاہ
ہے بدلتا رہتا میرا حال وقال
ہے مجھے کافی خدائے ذولجلال
(جام ہشتم) Jam Hashtum
پرواز لا مکانی / Parwāz-e Lā Makānī
اَنَا البَازی اَشْھبُ کلُّ شیَخ
وَ مَنْ ذَاِ فی الِرجَالِی اُعطَی مثالی
بارگاہ قدس کا شہباز ہوں
لا مکاں میں برسر پرواز ہوں
کون ہے کس کو ملا ہے یہ مقام
جس نے پایا مجھ سے پایا لاکلام
(جام نہم) Jam Nō’um
خلعت لا ثانی / Khil’at-e Lā Ṡānī
کسَانِی خِلْعَۃً بِطَراز عَزم
وَتوجَنِی بِتیِجَانِ الَکمَالْی
خرقہ پہنایا مجھے تعظیم کا
سر پہ میرے تاج ہے تکریم کا
ہے الو العزمی میری ادنےٰ کنیز
بے نیازی ہے مری عقلی تمیز
(جام دہم) Jam Dahum
اسرار نہانی / Asrār-e Nihānī
وَاطْلَعنِی عَلَی سِر قَدیْم
وَقَلَّدَنِی وَ اعَطَانِی سَوَالِی
ہو گیا میں واقف اسرار حق
عہد ازلی کا ہوا ازبر سبق
آرزوئیں ہو گیئں پوری تمام
میں نے جو مانگا وہ پایا لا کلام
(جام یاز دہم) Jam Yāzdahum
اختیارات حکمرانی / Ikhtiyārāt-e Ḥukmrānī
وَوَلَّانِی عَلی الاقَطَاب جَمْعًا
فحکمِی نَافذٌفِی کل حَالی
ہو گیا اقطاب کا میں حکمران
زیر فرمان ہیں مرےسب بے گمان
حکم جاری ہے مرا سب کے تئیں
ہر زمان و ہر مکان میں بالیقیں
(جام دو از دہم) Jam Dawāzdahum
تصرف کن فکانی / Taṣarruf-e Kun Fakānī
وَ لَو القَیتُ سَرِّی فی بحار
لصار الکل غورا فی الزوالی
میں اگر ڈالوں یہ دریاؤں پہ راز
جس نے مجھ کو کر دیا ہے شاہباز
خشک ہو جائیں وہ سارے سر بسر
اور اک قطرہ نہ پائیں پُر حذر
(جام سیز دہم) Jam Sēzdahum
فخر سّر عرفانی / Fakhr-e Sirr-e ‘Irfānī
وَ لَو القَیتُ سَرِّی فی جبال
لدکت واختضت بین الرمالی
اور گر ڈالوں میں ان اسرار کو
دیکھ کر اک سخت جاں کو ہسار کو
پارہ پارہ ہو کے مٹ جائیں ضرور
بیچ ریگستان کے مانند طور
(جام چہار دہم) Jam Chahārdahum
در جذبہ نورانی / Dar Jazba-e Nūrānī
وَ لَو القَیتُ سَرِّی فَوْقَ نَارِِ
لَخَمِدَتْ وَانطَفَتْ مِنْ سرِّ حَا لی
آتش سوزاں پہ ڈالوں گر میں راز
جذب کے شعلے سے ہو وہ جانگداز
نار کیا ہے نور کے پیش نظر
آتش نمرود سے ہو سرد تر
(جام پانزدہم) Jam Pānzdahum
در حیات جاودانی / Dar Ḥayāt-e Jāwidānī
وَ لَو القَیتُ سَرِّی فَوقَ میت
لَقَامَ بِقُدْرَۃِالمَوْلیٰ تِعِالیِٰ
گر میں اپنا راز دوں مردے پہ ڈال
زندہ ہو جائے بفضل ذوالجلال
ہے خداوند دو عالم کی پسند
جس کو چاہے بخش دے درجے بلند
(جام شانزدہم) Jam Shānzdahum
عطائے رحمانی / ‘Aṭā-e Raḥmānī
وَمَا مِنْھَا شُھُوْر اَوْ دُھُور
تَمرُ وَ تَنقَضِیْ اِلاَّ اَتَیٰ لیِ
دَہر میں آتے جو ماہ و سال ہیں
تابع فرماں میرے وہ ہر حال ہیں
سب سے پہلے آتے ہیں وہ میرے پاس
پھر جہاں میں کرتے ہیں اعمال خاص
(جام ہفدہم) Jam Hafdahum
علم زمانی / ‘Ilm-e Zamānī
وَ تُخبِرُ نیِْ بِماَ یاَتیْ وَ یَجرْیْ
وَتُعْلِمْنیْ فَاقصرُ عن جِدالی
خبر دیتے ہیں مجھے ہر آن کی
عیش کی غم کی شکست و شان کی
یہ نہیں فضل خدا پر کچھ محال
چھوڑ دے اے معترض سب قیل و قال
(جام ہژدہم) Jam Hazhdahum
پیام اعظم شانی / Payām-e A’ẓam Shānī
مرُیدیِ ھَمّ وَ طبِ واشطحْ و غَنّی
وَاَفعَلْ ماَ تَشَا فَا لاسمُ عَالی
اے اراتمند ہمت کر عزیز
بے نیازی کو رکھ عقلی تمیز
ہو کے خوش جو چاہے دل سے کر سدا
نام سے میرے تو ہو گا با خدا
(جام نوز دہم) Jam Nūzdahum
غلبہ ایمانی / Ghalba-e Īmānī
مرُیدیِ لاَ تَخَفْ اللہُ رَبّیِ
عَطَانیِ رِفعۃٌ نِلتُ المُنالیِ
اے ارادتمند غیروں سے نہ ڈر
آسرا ہے مجھ کو اس کی ذات پر
جس خدا نے بخششیں ہیں عام کیں
اور بے حد نعمتیں انعام کیں
(جام بستم) Jam Bistum
بلندئ مکانی / Bulandī-e Makānī
طُبولیِ فیِ اسماءِ وَ الارضِ دقّتْ
وَشَاوٗسُ ا لسّعادَۃِ قَدْ بَرَالیْ
بج گیا ڈنکا میری تقدیس کا
گڑگیا جھنڈا میری تخصیص کا
کہ گیا ہے مجھ کو یہ روح الامین
تیرے ہیں ارض وسما زیر نگیں
(جام بست و یکم) Jam Bist-o-Yakum
اقتدار شاہجہانی / Iqtidār-e Shāhjahānī
بِلاَدُ اللہِ ملکی تَختَ حکْمیْ
وَوَقْتی قَبل قَبلیْ قَدْ صفَالی
ہیں خدا کے ملک میرے ہاتھ میں
اور مافیہا و دنیا ساتھ میں
مل گیئں مجھ کو ازل سے خوبیاں
ہیں بلندی پر مری محبوبیاں
(جام بست و دوم) Jam Bist-o-Dō’em
وسعت سرِ لا مکانی / Wus’at-e Sirr-e Lā Makānī
نَظَرْتُ الیٰ بَلاَد اللہِ جَمعاً
کخردَلَۃ عَلیٰ حکمِ اتصَّالی
دیکھتا ہوں کل خدا کی کائنات
سامنے میرے ہیں پوری شش جہات
سامنے میرے ہیں ایسے سب جہاں
جس طرح رائی کا دانہ بے گماں
(جام بست و سوئم) Jam Bist-o-Su’em
درس قرآنی / Dars-e Qur’ānī
دَرَسْتُ العَلمَ حتَّی صرْتُ قطباً
وَ نُلیہ السّعدَ مَنْ مولی المُوالی
درس اور تدریس علم دین نے
معرفت ربّی کے اس آیئن نے
اس قدر درجے کئے مجھ کو عطا
غوث سارے جہاں کا میں ہو گیا
(جام بست و چہارم) Jam Bist-o-Chahārum
دعوےٰ لا ثانی / Da’wā-e Lā Ṡānī
فَمَنْ فیِ اولِیاَ اللہِ مِثلیِْ
وَ مَنْ فَیْ العلم وَ التّصرِیفِ حَالی
کس کو میر ی ہمسری کا ہو خیال
اولیا میں جب نہیں میری مثال
کون ہے جو علم میں تعریف میں
ہو مقابل حال میں تصریف میں
(جام بست و پنجم) Jam Bist-o-Panjum
تعلق دامانی / Ta’alluq-e Dāmānī
رِجَالیِْ فیِ ھوَاجِرْ ھمْ صِیامٌ
وَفِی ظُلَمَ اللّیَالِی کاَللُاََلِی
میرے متبعین نیکو کار ہیں
عابدو مرتاض روزے دار ہیں
رات کی تاریکیوں میں ذوق سے
یاد کرتے ہیں خدا کو شوق سے
(جام بست و ششم) Jam Bist-o-Shashum
علّو شاہ جیلانی / ‘Uluww-e Shāh Jīlānī
وَکلُّ وَلیِّ لَہُ قَدَمٌ وَ اِنِّیْ
عَلیٰ قَدَمِ انَّبِّی بَدْرِ الکَمَالی
منزل قرب و تقرب میں عزیز
ہر ولی کی ہے جدا گانہ تمیز
پر میں سب میں خاص عالی پایہ ہوں
رحمت عالم کے زیر سایہ ہوں
(جام بست و ہفتم) Jam Bist-o-Haftum
ذوق فیض رسانی / Zawq-e Fayż Rasānī
مرُیدیِ لاَ تَخفْ وَاشِ فَانِّی
عَزوْمٌ قاَتل عَندَ الِقتَا لی
اے اراتمند میرے ڈر نہ کر
میں چمکتی ہوں تیری سپر
جنگ میں میں قاتل اشرار ہوں
رنگ میں اللہ کی گفتار ہوں
(جام بست و ہشتم) Jam Bist-o-Hashtum
اعلام جہانبانی / I’lām-e Jahānbānī
اَنَا الجِیلّیُ مُحیْ الدّْینِ لَقبیِ
وَ اعْلا میِ عَلیٰ رَاءسِ الجِبَالی
میر امحی الدین جیلانی ہے نام
زندگی ملت کو دینا میرا کام
ہے مری تقدیس نورونارمیں
میرے جھنڈے گڑ گئے کوہسار میں
(جام بست و نہم) Jam Bist-o-Nō’um
نسبت خاندانی / Nisbat-e Khāndānī
اَنَالحَسَنُتِی وَالمخدَعْ مَقَامی
وَاَقْدَامی عَلیٰ عُنُقِ الرِجَالیِ
نسب ہے حسنی مرا مخدع مقام
راز پوشیدہ کا آیا ہوں امام
سب میرے نیچے ہیں اس عرفان میں
ہے قدم میرا ہی اونچا شان میں
اس مقام کی تفصیل اور بایزید بسطامی کے ساتھ مکالمہ پڑھنے کے لیےکلک کریں
Qaseeda Ghausia Sharah Makhda Muqami
(جام سی ام) Jam Sī’um
اسم غوث صمدانی / Ism-e Ghauṡ-e Ṣamadānī
وَ عبْدالقَادِرِالمَشھُورُ اِسْمی
وَجَدّی صَاحِبُ العَینِ الَکمَالی
عبد قادر نام میں مشہور ہوں
سیدوعالی نسب منشور ہوں
جدّ میری ہے بہت عین الکمال
جو ہے محبوب خدائے ذوالجلال
Hazrat Syed Abul Faiz Qalandar Ali
حضرت سید ابو الفیض قلندر علی سہروردی