Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai

Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai
Har Uqdah e Mushkil Khulta Hai Taqdeer Edhar Ho Jati hai

اے نورِ مجسم جب تیری ، رحمت کی نظر ہو جاتی ہے
ہر عقدہ مشکل کھلتا ہے ، تقدیر ادھر ہو جاتی ہے

اے حسنِ تجلی میں قرباں، اے شمع حقیقت کیا کہنا
جس سَمت نگاہیں اٹھتی ہیں ، رحمت بھی ادھر ہو جاتی ہے

کیا عشق تماشا بنتا ہے، کیا پردہ دوئی اتھتا ہے
خود کشف ِ حقیقت ہوتا ہے جس شے پہ نظر ہو جاتی ہے

گھنگھور گھٹائیں اٹھتی ہیں ، اک نور کی بارش ہوتی ہے
سب دل کی سیاہی دھلتی ہے وہ زلف جدھر ہو جاتی ہے

محبوب خدا کے قدموں میں ، محبوب خدا کی صحبت میں
وہ علمِ لدنی ملتا ہے ، ہر شے کی خبر ہو جاتی ہے

جب اسوہ نبوی اپنا کر ، اک قربِ خصوصی ملتا ہے
ہر عرض رضائے حق بن کر “اکسیر اثر” ہو جاتی ہے

اے نورہدیٰ کے متلاشی، سن! غارحرا کے ذرّوں سے
آواز کچھ ایسی آتی ہے تسکینِ خبر ہو جاتی ہے

انوارِ نبی کے جلو وں سے دیدارِ نبی کی برکت سے
بیمار محبت کی ہر شب گویا کہ سَحر ہو جاتی ہے

جب صحبت ِ پیرِ کا مل میں آداب محبت آتے ہیں
دربار رسالت میں فوراً طالب کی گذر ہو جاتی ہے

بو الفیض کی نظر کا مل ہے عرفان و حقیقت کا عنواں
تکمیل تمنا ہوتی ہے جس آن نظر ہو جاتی ہے

سرکا ر کی الفت میں خاؔور جب ہستی ء ظاہر مٹتی ہے
خود درد مداوا بنتا ہے”اللہ” کی خبر ہو جاتی ہے

خاورسہروردی
Khawar Soharwardy

2 thoughts on “Ae Noor e Mujasim Jab Teri Rahmat Ki Nazar Ho Jati hai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *